سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو؛ قوم کے نام پیغام:
- 15 جولائی 2025
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم م��یر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہو��ی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے۔
اس وق�� مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تا کہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں۔
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
@KlasraRauf Ap ka kabi b koi calibre tha he nai.. ap ny jo b kuch reputation banai Arshad Shareef k sath beth k banai. Ap bar bar tweet kar k apnay ap ko or zaleel karnay sy perhaiz karaie.
Or mie nay bhot saray jhotu ko har jaga Hazrat Ali (ra) ka koi kol fit kartay bhot dekha hy.
تیر ٹیڑھا ہو گیا ہے پھٹ گئی کب کی پتنگ
کھال اوڑھے شیر کی گھومیں گدھا لومڑ کے سنگ
داڑھیوں میں اب نہیں تنکا وہاں تو بانس ہے
اسلحہ ہے پاس لیکن پھر بھی اکھڑی سانس ہے
خوف کا عالم یہ ہے کہ سب کو چڑھ جائے بخار
بھول سے بھی سن لے کوئی نام_قیدی 804
جتنے بھی اپلوں کو کل باہر تھا پھینکا آپ نے
مت کے ان کو کس لیئے پھر سے لگے ہیں تھاپنے
کچھ بھی ہو گوہر تو گوہر ہی رہے گا نہ حضور
لگتے ہونگے آپ کو کھجی چھوہارا اور کھجور
دانت ہیں باقی نہ مونہہ میں اور نہ آنتیں پیٹ میں
زنگ خوردہ انکی عقلیں کھوپڑی کے کریٹ میں
جانتے ہیں ہم یہاں پر کیا ہے اچھا کیا برا
بارہا گھونپا ہے کس نے پیٹھ میں اپنی چھرا
ہو رہا ہے جو یہاں جمہوریت کے نام پر
سب ہی سر کو پیٹتے رہ جائینگے انجام پر
آپ کے یوں چاہنے سے کچھ نہیں ہو گا یہاں
آخرش ہو گا وہی چاہے گا جو رب_جہاں
وقت تھوڑا ہے کہا جمہور کا سن لیجیئے
راہ جو سیدھی ہے اب اس راہ کو چن لیجیئے
کوئی نع��ہ بھی نہ ہو نہ ب نہ س اور نہ ہی ش
بس إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔۔۔۔
خ۔ا۔
بادشاہ ہذیان بک رہا ہے۔ عمران خان نے مرنا ہوتا تو ۴ نومبر کو مر جاتا۔ بادشاہ جانتا ہے اس کی فرعونیت کو خدائ کا شائبہ بھی ہوتا تو وہ ۱۸ مارچ کو مرجاتا۔ اور کچھ نہ سہی وہ تب مرجاتا جب اُس نے اُس کے ہیلی کاپٹر میں غلط تیل بھروایا۔ تب مرجاتا جب اپنے پیادوں کے زریعے اسے وہ بلٹ پروف دی کہ جس کی وائیرنگ میں گڑبڑ کردی تھی۔ بادشاہ کو بھی یاد ہے ہر وہ موقع جب اس کے بچھائے ہر جال سے وہ اس اعتماد سے نکلا کہ بادشاہ کی اپنی رگوں میں سنسنی دوڑ گئی۔بادشاہ جانتا ہے کہ عمران خان اب مر کر بھی نہیں مریگا وہ جہاں کھڑا ہے وہاں موت اُسے جاوداں کردیگی۔ مگر بادشاہ یہ حقیقت جھٹلا رہا ہے کیونکہ خوف اُسے ��پنی موت کا ہے، داؤ پہ جو لگی ہے وہ اُس کی ریت پر کھڑی خدائ ہے کہ جس کی بنیادوں میں وہ چونٹیاں گھر کر گئیں ہیں جنہیں وہ پوروں میں مسل کر نکل جایا کرتا تھا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ان بنیادوں میں پانی چھوڑ دے۔ وہ سوچتا ہے ایسا کرنے سے چونٹیاں بوکھلا جائینگی۔ ڈر جائینگی۔ مر جائینگی۔ بادشاہ عمران خان کےبغض میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ چونٹیوں کو پر بھی لگ جاتے ہیں اور کیسے نمرود کی خدائ ایک اڑتے کیڑے کی بدولت دیواروں سے ٹکریں مارتے مارتے ختم ہوگئی تھی۔
ہم جو اِن کی نظر میں حشرات ہیں۔۔ کیڑے مکوڑے۔۔ چونٹیاں۔۔یہ ہماری زندگی موت کے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے دانا پکڑ کر ہمیں اس کے گر�� گھماتے ہیں۔۔ دوڑاتے ہیں۔ جی چاہے تو کچل دیتے ہیں۔ جی چاہے تو مسل دیتے ہیں۔ ہمارے گِرد نمک کے دائرے کھینچ کر ہماری حدیں مقرر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی اوقات میں رکھتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حبس بہت بڑھ جائے تو آسمان برس پڑتا ہے اور جب آسمان برستا ہے تو چونٹیوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔
بادشاہ اب ��ھی عمران خان کو اپنا مقابل سمجھ رہا ہے۔ بادشاہ سوچتا ہے اس کو ختم کردیا تو شاید وہ بچ جائے۔ بادشاہ نہیں جانتا کہ اس کے پھیلائے گھٹن میں جو دیمک پل رہا ہے وہ اسی کے وجود کو چاٹ رہا ہے۔بادشاہ کو اپنے پیروں کے گرد گھیرا ڈالتی چونٹیاں کم تر لگتی ہیں وہ سوچتا ہے انہیں تو ایک آن میں کچل دیگا۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی اونچی ناک کے نیچے اس کا دیمک لگا وجود گرنے کو ہے۔ ‘بس ایک عمران خان مرجائے تو وہ سب سنبھال لے گا’۔
بادشاہ کا تکبر اسے بھلا بیٹھا ہے کہ وہ انسان ہے اور انسانوں کو خدائ کا دعوی راس نہیں آتا۔
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے
اسے اٹھا لو
اُٹھانے والوں سے کُچھ جُدا ہے
اسے اٹھا لو
وہ بے ادب اس سے پہلے جنکو اٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے
اسے اٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نئیں
مگر یہ اپنی مرضی سے بولتا ہے
اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے امن عامہ مسئلہ کیوں ؟
یہ امن عامہ کا مسئلہ ہے
اسے اٹھا لو
اسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے
اسے اٹھا لو
سوال کرتا ہے یہ دیوانہ ہماری حد پر
یہ اپنی حد سے گُزر گیا ہے
اسے اٹھا لو
کبھی سوچا ہے کہ ہم نے انگریز سے کس چیز کی آزادی لی تھی؟ وہ کونسی غلامی تھی جس کا طوق اتارنے کیلئے متحدہ ہندوستان کے لیڈران نے اور عوام نے اتنی قربانیاں دیں؟
سول سروس میں تو تب بھی نوکریاں مل جاتی تھیں اور عبداللہ یوسف جیسے غیرمعمولی لوگ انڈین سول سروس سے وابستہ بھی تھے
ہمارے مقامی لوگوں کو فوج میں بھی ملازمتیں ملتی تھیں، عہدے ملتے تھے اور پرائی جنگوں اور اجنبی سرزمینوں میں بے جگری سے لڑنے والے پوٹھوہار کے اکثر سپوتوں کو تو وکٹوریا کراس تک ملتے تھے۔
عدالتوں بھی موجود تھیں۔ ایم اے جناح اور ایم سی چھاگلہ جیسے وکلا اپنے کلائنٹس کو انہی عدالتوں سے
سے انصاف بھی لے کر دیتے تھے، کئی پیسے والے تو پروی کاؤنسل تک مقدمہ لڑ لیتے تھے۔
سیاسی تحریکیں چلانے تحریکیں بھی چلا رہے تھے، لیجسلیٹو کاؤنسل میں ممتاز مسلمانوں کو نمائندگی بھی مل جاتی تھی۔
منٹو اور عصمت چغتائی افسانے بھی لکھ رہے تھے، فیض اور ن م راشد نظمیں بھی لکھ رہے تھے،
1935 کے ایکٹ کے تلے الیکشن بھی ہوئے، جیسی تیسی صوبائی اور مرکزی حکومتیں بھی بنیں۔
زراعت سے وابستہ کسان موسموں کے مطابق ہی فصلیں اگا رہے تھے، کئی مقامی صنعتکار صنعتیں بھی لگا رہے تھے۔۔۔۔
پھر سوچیں ناں کہ آخر وہ کیا چیز تھی جسکو انڈین نیشنل کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ
والے غلامی کہتے تھے اور جس سے آزادی حاصل کرنے کیلئے نہرو جیسے لیڈران حکومتوں اور وزارتوں سے مستعفی ہو کر جیلیں بھر رہے تھے اور quit India جیسی تحاریک چلا رہے تھے۔
وہ غلامی یہ تھی کہ غیر منتخب لوگوں کا ایک ایسا "گروہ" موجود تھا جو رولز آف دی گیم طے کرتا تھا، کنٹرولڈ آزادی کے
خدوخال وضع کرتا تھا، یہ بتاتا تھا کہ کن معاملات پہ مقامی لوگ قانون سازی کرسکتے ہیں کن پہ نہیں، یہ وہ گروہ تھا جسکے ہاتھ میں خارجہ امور تھے، جو مقامی لوگوں کی رضا کے بغیر اور انکی اجازت لیے بغیر کسی بھی جنگ میں کود سکتا تھا۔ کانگریس نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز پہ حکومتوں سے استعفی
دیا ہی اسی لئے تھا کہ انگریزوں نے ہندوستانی حکومت/قیادت کی مشاورت کے بغیر ہی یورپ کی جنگ میں ہندوستان کو بھی دھکیل لیا تھا۔۔۔۔
غلامی یہی تھی کہ یہ غیر منتخب گروہ مقامی ہندوستانیوں کے لئے ہر طرح کے فیصلوں کے لئے ایک ceiling اور حدود طے کرتا تھا کہ تم لوگ اسکے اندر اندر جو کرنا
چاہتے ہو کرتے رہو، ا��کے اوپر اور اسکے باہر البتہ تم لوگ نہیں جاسکتے۔۔۔
دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آج بھی پاکستان میں یہی صورتِ حال نہیں؟ کیا ہم (عوام) اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہیں؟ کیا آج بھی چند لوگوں کا ایک گروہ نہیں جن کو یہ زعم ہے کہ ہم ہی ریاست ہیں اور ہم ہی
اس ریاست کے مالک ہیں اور ہم ہی باقی بائیس تئیس کروڑ لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کریں گے کہ ان لوگوں کیلئے کیا درست ہے اور کیا غلط ہے، ہم ہی بتائیں گے کہ کون سا ملک دوست ہے اور کون سا دشمن، کب اور کس سگ جنگ لڑنی ہے اور کب اور کس سے صلح کرنی ہے، کس پہ قانون کا اطلاق ہونے دینا ہے
اور کس پہ نہیں، اس گروہ کے کسی فرد پہ بھی تنقید کرنا ریاست سے غداری کہلاتا ہے، یہ لوگ ہی معاشی فیصلے کرتے ہیں، یہی لوگ خارجہ امور پہ چھائے رہتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو اپنے اعمال کے لئے پاکستانی عوام کو نہیں بلکہ بیرونی قوتوں کو جوابدہ ہوتے ہیں جیسے وائسرائے ہند اپنے اعمال کا جوابدہ
ہندوستانیوں کو نہیں بلکہ سات سمندر پار بیٹھی برطانوی سرکار کو ہوتا تھا۔۔
تو خلاصہ کیا ہے؟ خلاصہ یہ ہے شمالی ہند کے وہ علاقے جن کو بچا کچھا پاکستان کہا جاتا ہے وہ آج بھی خودمختار اور آزاد نہیں۔ اس کی آزادی کیلئے وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی جو باقی برصغیر نے ادا کی فھے
We all will wait. Time is the best teacher and observer. History will be written with evidence as to who destroyed our economic, political, and social structure for personal gains, and greed? (12/12)