Speech by Zabren Faheem | Baloch Martyrs’ Day 2025 – UK
He speaks about the enduring spirit of Baloch martyrs, the importance of unity.
#13NovBalochMartyrsDay#BNMinUK
نوبل انعام نہ ملنے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے چاہنے والوں کو ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی خود ایک بڑی کامیابی اور تاریخی سنگِ میل ہے۔ ناروے کے صحافیوں سمیت کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں کی توجہ ماہ رنگ پر مرکوز رہی، یہاں تک کہ France24 نے ماہ رنگ کو Ten Contenders for the Nobel Peace Prize کی فہرست میں شامل کیا۔
ماہ رنگ بلوچ کی نامزدگی نے پاکستان کے طاقتور حکمرانوں میں بے چینی پیدا کی اور دنیا کی توجہ بلوچستان کی پُرامن جدوجہد کی طرف مبذول کرائی۔ اس نامزدگی نے بلوچ جدوجہد، لاپتہ افراد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین انسانی حقوق کے مسائل پر عالمی سطح پر آگاہی پیدا کی۔ خاص طور پر ناروے کی سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر بامعنی گفتگو شروع ہوئی۔
یہ نامزدگی ایک حکمتِ عملی کے تحت ظاہر کی گئی تھی اور ہم نے اپنے ہدف سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی۔
اس پورے عمل کے دوران ماہ رنگ، ان کے ساتھیوں اور نوبل کمیٹی کے خلاف پروپیگنڈا مہم بھی چلائی گئی۔ یقیناً نوبل انسٹی ٹیوٹ اور نوبل کمیٹی کے اراکین اس سب سے باخبر ہوں گے، جس سے ماہ رنگ کی ساکھ ناروے کی سول سوسائٹی میں مزید مضبوط ہوئی۔ ہم نے ناروے بھر میں ماہ رنگ کی جدوجہد سے متعلق آگاہی مہم بھی چلائیں۔
چونکہ نوبل امن انعام بعض اوقات عالمی سیاست اور جغرافیائی مفادات سے متاثر ہوتا ہے، لیکن نوبل کمیٹی اپنی آزادی، غیر جانب داری اور اصولوں کے لیے مشہور ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیسی عالمی شخصیت اسے متاثر نہیں کر سکی، تو پاکستان بھی ایسا نہیں کر سکتا۔
نرگس محمدی، ماریہ ریسا، نادیہ مراد اور ملالہ یوسفزئی، ان سب کی نامزدگیاں بھی ایک، دو یا تین سال تک جاری رہیں، اور میڈیا سمیت مختلف فورمز پر ان کی جدوجہد کے حوالے سے مہمات چلیں، تب جا کر انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
ماہ رنگ بلوچ کی عدم تشدد پر مبنی جدوج��د اور اُن کا امن کا پیغام اب ایک عالمی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مداخلت اور دباؤ نے اس جدوجہد کو دبانے کے بجائے مزید تقویت دی ہے۔ آج ماہ رنگ صرف بلوچستان کی نہیں بلکہ اُن تمام خواتین اور مظلوم آوازوں کی علامت بن چکی ہیں جو انصاف، آزادی اور انسانی وقار کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہی ہیں۔
یقین رکھیے، ایک دن آئے گا جب دنیا نہ صرف ماہ رنگ کی قربانیوں اور حوصلے کو تسلیم کرے گی بلکہ ان کی جدوجہد اپنے حقیقی رنگ لائے گی اور وہ دن زیادہ دور نہیں۔
Let the world know: Dr. Mahrang Baloch deserves the Nobel Peace Prize.
It is time the world recognizes her.
📢 Join us on X
Date: 9th October 2025
Time: 9:00 PM – 12:00 AM
Hashtag: #NobelPeacePrizeForMahrang.
Baloch Voice for Justice appeals to all people committed to peace and human rights across the globe to join the online campaign for Dr. Mahrang Baloch on 9th October 2025 from 9:00 PM – 12:00 AM with the hashtag #NobelPeacePrizeForMahrang
@NobelPeaceOslo