1989میں سری کانت کا خیال تھا کہ وہ آؤٹ نہیں، اسے شیر پاکستان نے دوبارہ بلے بازی کا موقع دے کر پھر آؤٹ کیا تھا۔
اب پھر کسی کو شک ہے کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی تو دوبارہ الیکشن کروا لو اور یہ گارنٹی ہے کہ شیر پاکستان کے علاوہ کوئی ایک سیٹ بھی نہیں جیت پائے گا۔
شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......
اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معام��ات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع او�� صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
ا�� پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ،
بقیہ کمنٹس میں
پوری دنیا کو ویکسین لگا کر اب گورے ڈاکٹر حقیقت بتا رہے ہیں۔ اس کا مطلب پاکستانی دیہاتی لوگ سچے تھے۔ جب وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے تو پڑھا لکھا طبقہ انہیں جاہل کہتا تھا۔ اب بھگتیں
زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں
1۔موضع
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے
موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے
2۔ کھیوٹ نمبر
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں
1👇
جدید ٹیکنالوجی، جاسوسی ڈرون طیاروں اور انٹلی جنس نیٹ ورک کے باوجود #اسرائیل#حماس کے عسکری ونگ #القسام_بریگیڈز کے ان خفیہ ٹھکانوں کا پتہ نہ لگا سکا جہاں سے وہ قابض ریاست پر حملہ آور ہوتے ہیں
توجہ دینے والا انسان نظرانداز کرنے کا بھی ماہر ہوتا ہے
اگر کوئی توجہ دے رہا ہے تو اس وجہ کو ہضم کریں اگر اس نے نظرانداز کیا تو آ�� کو اپنے موجودگی پر بھی
شک ہونے لگیگا
✨🌟🧭📌📍
خوف کو الوداع!
باربوروسا کے وارث
صاحب سمندر آ رہے ہیں!
بحیرہ روم میں ترک لار آ رہے ہیں!
ہم بہادر محمتچیک!
ہم اپنے راستوں پر جانیں قربان کرنا جانتے ہیں!
ترکیے کی بحیرہ روم میں مشقیں آج شروع ہو رہی ہیں۔ بحیرہ روم میں امریکہ کے دور ��ڑے جنگی بیڑے موجود ہیں۔ ترکیے نے نیویگیشنل ٹیلکس پر پیغام نشر کیا ہے کہ ہم حقیقی شوٹنگ کی مشقیں بھی کریں گے، اس لیے تمام اکائیاں محتاط رہیں۔
بچے اور کمزور دل والے ویڈیو نہ دیکھیں
بچوں خواتین کے کٹےسر اور دھڑ، جنھیں اسرائیلی فوج نے دھوکہ دےکر وحشیانہ طریقے سے قتل کردیا
شہریوں سے گھربار چھوڑ کر جنوبی غزہ جانے کا کہا گیا مگر باہر نکلنے والوں پر میزائل برسا دیے، 70 فلسطینی شہید 200 سے زائد زخمی، زیادہ تر بچےاور خواتین تھے
وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے
اِسی کو موت کہتے ہیں تو یا رب بار بار آئے
سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے
وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے
بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا
جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے
قفس کے ہو لئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ
وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے
قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں
مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے
استاد قمر جلالوی
کیا آپ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کو جانتے ہیں جو تھیوری میں تو حلال کھانے کا سبق دیتے ہیں لیکن پریکٹیکل کے وقت حرام کھاتے ہیں؟
کیا ان باتوں سے فرق پڑتا ہے؟
#WohiBaneinGeyJoBanaouGey