شوکت خانم ہسپتال اپیل 🚨
عمران خان اس وقت قید میں ہے اور کراچی کا ہسپتال دسمبر 2026 میں مکمل ہوگا جس کے لئے donations کی ضرورت ہے
اس لئے جتنا بھی ممکن ہو اس رمضان میں سب شوکت خانم ہسپتال کو صدقہ دیں۔۔
اور یہ مسیج گھر گھر تک پہنچائیں
کل جس باپردہ بچی نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی وہ اللہ کو پیاری ہوگئی ہے ۔
کشمیر سے تعلق رکھنے والی فریحہ افراہیم نے گزشتہ روز اپنا پیپر دینے کے بعد گھر کال کی اور بتایا ک�� اس کا پیپر بہت اچھا ہوا ہے اس سے پہلے یہ بچی انٹری ٹیسٹ 2021 کی ٹاپر رہی ہے ۔
انتہائی ہونہار بچی تھی اب معاملہ یہ ہے کہ والدین میڈیکل کالج پہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے بچی کو مارا ہے جبکہ دوسری جانب میڈیکل کالج والوں نے ایک ہفتہ کے لیئے کالج بند کردیا ہے ۔
کالج کا ایسے بند ہونا بہت سے شکوک پیدا کر رہا ہے جبکہ بچی کے متعلق یہی کہا جارہا ہے کہ وہ انتہائی شریف اپنے کام سے کام رکھنے والی بچی تھی
اس نے پہلے بھی اپنی کلاسز میں ٹاپ کیا دوسرا والدین کہتے ہیں کہ ہماری بچی کو کوئی ڈپریشن نہیں تھا ۔
پوسٹ مارٹم میں بچی کے سر پہ گہری چوٹ کا بتایا گیا ہے کہ اس چوٹ کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہوئی ۔
اب بات یہ ہے کہ اگر بچی نے واقعی ہی خودکشی کی ہوتی تو یونیورسٹی کو اچانک بند نہ کیا جاتا اس کا مطلب یہی ہے کہ کچھ تو چھپایا جارہا ہے ۔
ہم اب اس بچی کے لیئے کچھ نہیں کرسکتے لیکن اس کے انصاف کے لیئے آواز تو اٹھا سکتے ہیں ۔
منقول
علی وزیر جو جیل سے لایا گیا تھا ووٹ پورے کرنے اور سایفر کے احکامات کی تعمیل کیلیے تب یہ سب بہت خوش تھے کہ ہمیں بھی قومی دھارا بس میں جگہ مل گئی لیکن یہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوئے
اس کا جواب یہ ہے کہ باقی قیدیوں کے برعکس میرے کمرے کا دروازہ تک نہیں کھولا جاتا۔کسی کو مجھ سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔ کئی کئی روز تک بجلی، اخبار اور ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ جب چھبیسویں آئینی ترمیم مسلط کی جا رہی تھی تھی تب تو مجھے مسلسل 3 ہفتے کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ 7 ماہ سے ٹی وی بند ہے حالانکہ باقی قیدیوں کو یہ سہولت میسر ہے۔ جب چاہے اخبار بھی بند کر دیتے ہیں۔ بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جاتی۔ بشرٰی بیگم اور میں دونوں قید تنہائی میں ہیں۔ ذہنی تشدد اور کیا ہوتا ہے کہ کسی کو قید تنہائی میں ڈال کر اسے عام قیدیوں کی سہولت بھی نہ دی جائے۔ میری بہنوں اور وکلاء تک سے ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ آج کل جیل ٹرائل کی وجہ سے ملاقات ہو رہی ہے، اور لگتا ہے کہ عنقریب یہ بھی بند کر دی جائے گی، یہ سب قانون اور جیل مینوئیل کے بھی خلاف ہے”-
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
2/3
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ��: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک ا��صاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجری�� کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟