"اپنا گریبان" پروگرام میڈیا کے احتساب پر تھا لیکن یہ پروگرام چند شوز کے بعد ختم ہوگیا،
دوسروں کا احتساب کرنا ہمشیہ اسان ہوتا ہے، اپنے گریبان میں دیکھنا ہمیشہ مشکل ہی ہوتا یے۔
مطیع اللہ جان تب بھی بڑا آدمی (صحافی) تھا اور مطیع اللہ جان آج بھی بڑا آدمی (صحافی) ہے۔ اپنی صحافی برادری کے پول کھولنا، انہیں احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا سب سے مشکل کام ہے جسے مطیع اللہ جان نے بخوبی کیا ہے۔
@Matiullahjan919
365 نیوز ایک با اثر صوبائی وزیر کا چینل ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ انکے ملازمین آج تنخواہوں کے بغیر عید منانے کیلئے مجبور ہیں مئی کی تو کیا تنخواہ دینی تھی اپریل تک کی ملازمین کو تنخواہیں تک ادا نہیں کی گئیں۔۔کتنے ظالم اور بے حس لوگ ہیں انکے خلاف کوئی کاروائی بھی نہیں ہوسکتی۔۔
#pakmedia
ابصار صاحب میرے اساتذہ میں شامل ہیں ان سے محبت اور عزت دونوں کا رشتہ موجود ہے اور اسکی وجہ انکی نگرانی میں کام سیکھنے کا وہ دور ہے جب وہ ہمیں صحافت کے علاوہ رزق حلال بارے تلقین کرتے تھے حتی کہ اگر کسی رپورٹر کے پاس پیسے نہ ہوتے تو اسے اپنی جیب سے دیتے تاکہ اسے اُوپر والی کمائی کی عادت نہ پڑے، وہ ہمیں اچھی جگہوں پر کھانا کھلانے لے جاتے تاکہ ہم کسی کے کھانے سے متاثر ہوکر سودے بازی نہ کر لیں :) کئی لوگوں کے خیال میں انہوں نے پیمرا چئیر مین بن کر سودے بازی کی اگر اس تعیناتی کو صرف پیسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو چئیر مین بننے سے پہلے وہ کہیں زیادہ پیسے کما رہے تھے اس نوکری سے انہوں نے میڈیا اور اسٹبلشمنٹ میں بے تحاشا دشمن بنائے اور بعد میں کئی سال بیروزگار رہے اور اس دوران مالی تنگدستی سے گزرے لیکن اپنی عزت نفس پر حرف نہیں آ نے دیا، میں جب یہ باتیں لکھ رہا ہوں مجھے اندازہ ہے کہ کئی لوگ ان باتوں کو غیر سنجیدہ لیں گے لیکن یہ میں ان لوگوں کیلئے لکھ رہا ہوں جو واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح کے انسان ہیں، باقی ابصار صاحب کو بھی کہا تھا کہ غیر ضروری وضاحتیں نہ دیں آج تک کوئی پوری دنیا کو مطمئن نہیں کر سکا اور کچھ ناقدین اسلئے تنقید نہیں کر رہے ہوتے کہ انکے پاس حقائق کی کمی ہے درحقیقت انہوں نے پہلے سے ٹھان لی ہوتی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو انہوں نے بس بولتے جانا ہے
فیکٹ چیک:
اسی ماہ، اپریل میں، @81ShahbazRana صاحب کی ایک خبر کے مطابق، متحدہ عرب امارات کو واپس کی جانے والی رقم میں وہ 450 ملین ڈالرز بھی شامل ہیں جو 1996-97 میں ایک سالہ قرضے کے طور پر لیے گئے تھے۔
لہذا یہ قرضے صرف کسی ایک دہائی یا حکومت کے نہیں تھے!
سہیل وڑائچ صاحب اداکاراؤں کا ، ڈانسرز کا ، سٹیج فنکاروں کا انٹرویو لیتے ہیں ۔ تمام سوال ذاتی نوعیت کے لیکن احترام اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرتے ہیں ۔ وہ کتابیں پڑھنے والے مہذب اور عاجز انسان اور صحافی ہیں ۔ جبھی لوگ انکی عزت کرتے ہیں ۔ ارشاد بھٹی نے جو میرا کیساتھ کیا وہ لچر پن اور نیچ پن کی انتہا ہے ۔ میرا صاحبہ بھی سوال کر سکتی تھیں کہ ایک ہوٹل میں کام کرتے کرتے آپ کو جیو میں سینئر تجزیہ کار بنانے میں کس احمق کا ہاتھ تھا۔