��ہ کہانی ہےسندھ کے تاریخی شہر روہڑی سے ایک ایسی ماں کی ہے جو اپنے بچوں کے ساتھ غریبی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہی تھی۔ ان کی زندگی میں اس وقت ایک قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب شیراز خان نامی ایک شخص نے ان کی کمسن بیٹی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ جب اس ماں اور اس کے خاندان نے اپنی بیٹی کے اغوا کے خلاف آواز اٹھائی اور انصاف کے لیے قدم بڑھایا، تو وڈیرانہ نظام اور بااثر ملزموں نے غریبوں کی اس فریاد کو کچلنے کے لیے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں۔
خاتون روتی ہوئی بتاتی ہیں کہ بااثر افراد نے نہ صرف ان کی بیٹی کو اغوا کیا بلکہ جب وہ تھانے اور بااثر لوگوں کے پاس گئیں تو انہیں اور ان کے گھریلو مردوں کو بے دردی سے ڈنڈوں اور سوٹوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ تشدد کی گواہی اس ماں کی پیٹھ اور جسم پر موجود وہ گہرے نیل اور زخم دے ��ہے ہیں جو ظالموں کے ظلم کی داستان خود بیان کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، ان کا اس دنیا میں کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ تھانے کی پولیس نے بھی غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے انہیں ٹرخا دیا اور بااثر ملزموں کے دباؤ کے آگے بے بس نظر آئی۔ آج جسم پر موجود نیل اور زخم ظالموں کی سفاکی کی داستان خود سنا رہے ہیں۔ پولیس اور بااثر ملزموں کے گٹھ جوڑ نے غریبوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل ہے۔
#SindhPolice #HumanRights
یہ کوئی کنسرٹ نہیں اور نا ہی یہ کوئی میلہ (فیسٹیول) نہیں ہے۔
یہ آج کا غزہ ہے۔ 💔 بھوک سے نڈھال ہزاروں لوگ، آٹے کی ایک تھیلی کے لیے بھاگ رہے ہیں 💔
زبردستی مسلط کی گئی بھوک کا منظر کچھ ایسا ہوتا ہے 😭😭
میرا بندہ چرس پیتا ہے، بُوٹی پیتا ہے، اتنے پیسوں سے یہی کچھ آتا ہے، ساتھ مارتا بھی ہے، بچوں کے دودھ کے پیسوں سے چرس پی جاتا ہے
پانچ ہزار مدد بی بی کو مدد ملی
یار حد ہوتی ہے کیسے کیسے لوگ ہمارے اردگرد رہ رہے ہیں
ابھی کچھ دیر قبل جب شجاع آباد سے رحمان بابا ایکسپریس ملتان کے قریب شیر شاہ حادثے کا شکار ہوئی تو تمام بوگیاں الٹ گئیں اس وقت کئی مسافر بے ہوش ہوگئے کئی زخمی ہوگئے
یہ جو معصوم پھول نظر آرہی ہے اس کو کسی بے غیرت انسان نے اغواء کرلیا
اب جب زخمیوں کو باہر نکالا گیا تو والدین اپنی بچی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلکان ہوگئے کہ ہماری شفاء کہاں گئی ؟؟
ایک اتنا بڑا حادثہ ، دوسرا اس میں اس بچی کا اغواء ہوجانا ہمارے منہ پہ تماچہ ہے
اس بچی کی تصویر کو اتنا پھیلا دیں کہ اغواء کار اس کو کہیں دور نہ لے جا سکیں
کیونکہ آپ کی وجہ سے کئی بچے اپنے والدین کو مل چکے ہیں پلیز مدد کریں
اگر کسی کو اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں تو دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔
03018352057
اس بچے محمد ذیشان کا کہنا ہے کہ اقبال آباد سے اسے کوئی اٹھاکر لایا ہے۔ ساتھ میں دو تین مزید بچے بھئ تھے۔
اقبال آباد پنجاب کے دوست اس ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں کوئی بھی انکے گھر والوں کو جانتا ہو نیچے دئیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
10 oct 2026
#waliullahmaroof
یہ معروف موسیقار ماسٹر عبداللّہ کی بہو ہیں، کسمپرسی کے عالم میں تین دن پہلے وفات پا گئیں، ڈائیلسس پہ تھیں، متعدد بیماریوں کا شکار تھیں ہم گذشتہ ایک سال سے انکو مدد پہنچا رہے تھے
یہ آخری دس ��زار چند دن قبل انکو پہنچایا تھا
میرا شوہر نابینا ہے، گھر ہی رہتا ہے، میں یہ ڈبہ لیکر نکل آتی ہوں، اس میں چپس بسکٹ ہیں
دو تین سو بھی بن جاتا ہے، کبھی سو پچاس ہی بچتے ہیں، کی کرئیے پُتر؟ ٹُکر کتھوں کھائیے
نزیراں بی بی کی پانچ ہزار مدد کی گئی
روبی کے شوہر فوت ہوئے، دلیر خاتون نے اپنے یتیم بچے اور معمر والدین کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی اور جان توڑ محنت سے گھر سکول میڈیسنز کے خرچے چلا رہی ہے
دس ہزار مدد پہنچائی
آپ سب کے تعاون کا شکریہ، ان پوسٹس کو ریپوسٹ کر دیتے ہ��ں جسکے نتیجے میں ان مستحقوں کیلئیے دوبارہ کہیں نہ کہیں سے مدد آ جاتی ہے، آپ کی انگلی کی جنبش کسی کا فائدہ/رزق بن جاتا ہے
جلے چہرے والی خاتون کیلئیے دس ہزار دوباہ مدد پہنچی، پہنچا دی گئی
@IAmIshtiaqAli آجکل جن لوگوں کے ہیلمٹ کی وجہ سے چالان ہوتے ہیں میں سمجھتاہوں بلکل ٹھیک ہوتے ہیں اب تک اس ��وم کو سمجھ آسانی چاہیے تھی لیکن ہم بھی کہاں سمجھتے ہیں جب غلط کام کرتے ہیں تو پھر واویلا کرنا شروع ۔۔۔بھائی ہیلمٹ لے کر نکلو ن ا۔۔۔
خوفناک اعداد و شمار۔۔۔۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں یہ جیتے جاگتے انسان تھے۔۔۔۔
خدا کیلئے اب بھی وقت ہے،غزہ کو بچانے کیلئے آگے بڑھو،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔