پاکستان میں ڈگری ویریفکیشن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہیں بطور گریجویٹس ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں کی ڈگری ہماری محنت اور کامیابی کی پہچان ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈگری ویریفکیشن کا عمل ایک طویل، مہنگا اور مشکل سلسلہ بن چکا ہے جو طلبہ کو ذہنی اور مالی طور پر متاثر کرتا ہے۔
سب سے پہلے یونیورسٹی ڈگری جاری کرتی ہے جس پر کنٹرولر امتحانات اور وائس چانسلر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہی ڈگری دوبارہ ویریفکیشن کے لیے یونیورسٹی بھیجی جاتی ہے، پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو تصدیق کے لیے بھیج دی جاتی ہے، اور آخر میں وزارتِ خارجہ (MOFA) سے اٹیستیشن کروائی جاتی ہے تاکہ HEC کی مہر کی بھی تصدیق ہو سکے۔
ہر مرحلے پر اضافی فیس، تاخیر اور غیر ضروری مشکلات طلبہ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے: جب ڈگری پہلے ہی تسلیم شدہ ادارے جاری کرتے ہیں تو طلبہ کو بار بار اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے ادائیگی کیوں کرنی پڑتی ہے؟
پاکستان کو ایک ون ونڈو اور سادہ ویریفکیشن سسٹم کی ضرورت ہے جو تکرار کو ختم کرے، وقت اور پیسہ بچائے اور نظام پر اعتماد بحال کرے۔ ڈگری ویریفکیشن کو آسان بنا کر ہم نہ صرف گریجویٹس کو بااختیار بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے تعلیمی نظام کی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
اگر آپ واقعی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اس پوسٹ کو repost کریں اور ہماری آواز کو مضبوط بنائیں۔
وزیر تعلیم نے سب کو چور نہیں کہا جن کو کہا ہے ان کی تفصیلات ملاحظہ کریں۔
سکولوں سے چوری کرنے والوں نے خود کو بچانے کے لیے اچھے اساتذہ کو کلپ کاٹ کر اشتعال دلوایا ۔
ہم اساتذہ تو سچ کا ساتھ دیتے ہیں تو پھر آج یہ یکطرفہ فیصلہ کیوں کر لیا گیا۔ چوری جہنوں نے کی ہے ان کا احتساب ہونا چاہیے ۔
کچھ لوگوں نے ایسا کیا ہے تو ان کی نشاندہی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ سامنے آئے، قصوروار جواب دہ ہوں اور دیانت دار اساتذہ کی عزت بھی محفوظ رہے۔ یہی وزیر صاحب کے بیان کا اصل مقصد بھی تھا، نہ کہ پوری استاد برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا۔ اگر کسی نے کسی سکول کو کچھ ڈونیٹ بھی کیا ہے تب بھی ہمارا حق نہیں بنتا ہم اس کو گھر لے جائیں۔ وہ بچوں کے لیے تھا تو ان کے لیے ہی رہنا چاہیے تھا
اس معاملے کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وڈیو کا صرف کچھ حصہ نکال کر چلایا جا رہا ہے پوری تقریر میں منسٹر صاحب نے اچھے اساتذہ کو شاباش دی۔ سب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ PSRP کے تحت جن افراد کو سرکاری سکول دیے گئے ہیں، وہ کوئی غیر تعلیم یافتہ یا عام لوگ نہیں، بلکہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں جنہیں حکومت نے اپنی پالیسی کے تحت یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ پہلے بھی انہی سرکاری سکولوں میں حکومت نے اپنی پالیسی کے مطابق اساتذہ تعینات کیے تھے، اور اب ایک نئی پالیسی کے تحت انہی سکولوں کی ذمہ داری تعلیم یافتہ لائسنس ہولڈرز کو دی گئی ہے۔ اس میں ان افراد کا کوئی ذاتی قصور نہیں۔
بدقسمتی سے بعض سرکاری اساتذہ PSRP لائسنس ہولڈرز کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے انہوں نے ان کا حق چھین لیا ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی اسی معاشرے کے پڑھے لکھے افراد ہیں جو حکومتی پالیسی کے مطابق کام کر رہے ہیں اور عزت کے مستحق ہیں۔
جہاں تک وزیر صاحب کے بیان کا تعلق ہے تو اس پر صرف غصہ کرنے کے بجائے حقیقت کو بھی دیکھنا چاہیے۔ PSRP لائسنس ہولڈرز کے پاس متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جہاں سکولوں کا سامان مکمل امانت کے ساتھ منتقل نہیں کیا گیا۔ کئی جگہ پنکھے، برقی وائرنگ اور دیگر سامان غائب ملا یا درست حالت میں حوالے نہیں کیا گیا۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے دیانت دار اساتذہ اور افسران نے ہر چیز حکومت کی امانت سمجھ کر پوری ذمہ داری سے نئے انتظام کے حوالے کی، اور وہ قابلِ تحسین ہیں۔
بڑی خبر: پنجاب میں صحت کے میدان سے اچھی خبر، 3 بڑے نئے ہسپتالوں کی افتتاحی تاریخیں سامنے آ گئیں! 🏥✨
عوام کی سہولت کے لیے پنجاب کے 3 بڑے اضلاع میں جدید ترین ہسپتالوں کے افتتاح کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل:
🗓️ 15 جولائی: نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، سرگودھا کا افتتاح متوقع۔
🗓️ 31 جولائی: نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، لاہور کا افتتاح متوقع۔
🗓️ 15 اگست: جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، ملتان کا افتتاح متوقع۔
ان نئے ہسپتالوں کے فعال ہونے سے کینسر اور دل کے مریضوں کو علاج کی بہترین اور جدید ترین سہولیات میسر آئیں گی۔
*10 محرم الحرام - فضائل کا دن* 🌙✨
*اللہ کی رحمت، انبیاءؑ کی قبولیت کا دن*
*گورنمنٹ ماڈل پرائمری سکول احمد پور کہنہ*
10 محرم صرف کربلا نہیں، یہ اللہ کی رحمتوں کا دن ہے۔ اس دن انبیاءؑ کو عظیم انعامات ملے:
*10 محرم کے 5 بڑے واقعات + بچوں کے لیے درس* 👇
1. *حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہوئی* 🤲
*درس:* غلطی ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگو۔ اللہ بہت مہربان ہے۔
2. *حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پر ٹھہری* ⛵
*درس:* اللہ پر بھروسہ رکھو، وہ ہر طوفان سے بچا لیتا ہے۔
3. *حضرت یوسفؑ کو قید سے رہائی ملی* 🗝️
*درس:* صبر کرو، سچے رہو۔ اللہ صبر والوں کو کامیاب کرتا ہے۔
4. *حضرت ایوبؑ کو شفا ملی* 💚
*درس:* بیماری میں گھبراؤ نہیں، شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔
5. *حضرت عیسیؑ کو آسمان پر اٹھایا گیا* ☁️
*درس:* اللہ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ حفاظت کرتا ہے۔
*اور اسی دن...*
نواسہ رسول ﷺ *ام حسینؓ* نے کربلا میں حق کے لیے جان دے دی۔
*درس:* اللہ کی رحمت مانگو، اور حق کے لیے ڈٹ جاؤ۔
گورنمنٹ ماڈل پرائمری سکول احمد پور کہنہ میں
ہیڈ ٹیچر *نجمہ رازق* نے خصوصی دعا کرائی:
_"یا اللہ! جس طرح تو نے انبیاءؑ کی دعائیں قبول کیں، ہماری بھی قبول فرما۔ ہمارے اسکول، والدین اور پاکستان کو کامیاب فرما۔ آمین"_ 🤲
*ڈپٹی DEO محترمہ ثناء اقبال:*
"بیٹا، 10 محرم کا سبق: توبہ کرو، صبر کرو، دعا کرو - کامیابی تمہارا مقدر بن جائے گی"۔
*میڈم شہوار گل DEO + رانا سکندر حیات وزیرِ تعلیم کا ویژن:*
"پنجاب کا ہر بچہ علم کے ساتھ انبیاءؑ کا کردار بھی سیکھے"۔ GMPS احمد پور کہنہ اسی مشن پر عمل پیرا ہے۔
*ہمارا عہد:*
ہم اپنی بچیوں کو آدمؑ جیسی توبہ کرنے والی، یوسفؑ جیسا صبر کرنے والی، حسینؓ جیسا حق پر ڈٹ جانے والی بیٹیاں بنائیں گے ان شاء اللہ 💚
#10Muharram #AshuraKeFazail #TobaEAdam #RihaiEUsuf #RafahEIesa #GMPSAhmadPurKohna #HeadTeacherNajmaRaziq #DyDEOSanaIqbal #DEOBahawalpur #ShahwarGul #RanaSikandarHayat #IslamiTaleem #BetiParhao #AhmadPurKohna
۔
جن افراد نے رحمت کارڈ کے لیے درخواست جمع کروائی تھی، ان کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں۔ جو بیوہ خواتین اہل قرار پائی ہیں، انہیں مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
اپنی اہلیت یا درخواست کی موجودہ صورتحال جانچنے کے لیے درج ذیل لنک پر وزٹ کریں:
https://t.co/stpD5miRru
یہ جنوبی کوریا کے چے جونگ ان ہیں۔ یہ وہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ ہیں لیکن اس وقت یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اپنی ٹیم لے کر آئے ہیں اور بچوں کا امتحان لے رہے ہیں تاکہ ان بچوں کے جنوبی کوریا کی جامعات میں مفت تعلیم کا بندوبست کر کے انہیں جابز دلوائی جا سکیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے گورنمنٹ ایم اے او کالج میں جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک خصوصی امتحان منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 250 طلبہ نے شرکت کی۔ یہ امتحان کورین زبان سیکھنے والے ان طلبہ کے لیے تھا جو مستقبل میں جنوبی کوریا جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امتحان جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کی ٹیم کی نگرانی میں منعقد ہوا جو سوال نامہ تیار کرنے سے لے کر امتحانی عمل کی نگرانی تک تمام مراحل خود انجام دیتی ہے۔
گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پنجاب حکومت اور جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو پہلے کورین زبان سکھائی جاتی ہے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا میں دو سالہ ڈپلومہ پروگرام میں داخلے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کو انگریزی کے ساتھ ساتھ کورین زبان سیکھنا ہوتی ہے اور زبان کے لیول ٹو امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں ٹانگ وانگ یونیورسٹی میں داخلہ مل سکتا ہے۔ یہ پراسس مکمل مفت ہوتا ہے۔۔
اس حوالے سے ڈاکٹر عالیہ رحمان خان بتاتی ہیں ’جو طلبہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں انہیں مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے جبکہ مخصوص نمبر حاصل کرنے والے طلبہ بھی جنوبی کوریا میں مفت تعلیم کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ بیچ میں ہمارے چار طلبہ مکمل سکالرشپ پر جنوبی کوریا گئے تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’پچھلی بار 25 پاکستانی طلبہ کے ویزے لگے تھے اور وہ خود ان کے ساتھ جنوبی کوریا گئی تھیں تاکہ انہیں یونیورسٹی اور ہاسٹل میں سیٹل ہونے میں مدد فراہم کی جا سکے۔‘ ان کے بقول ’وہاں طلبہ کو صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ انہیں جز وقتی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس سے بہت سے طلبہ اپنی اگلی تعلیمی فیس کا انتظام خود کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو ملازمت کے مقامات تک لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہے۔ وہاں جا کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ ہمارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔‘
ان کے مطابق کورین زبان سیکھنے کے لیے انٹر میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر درکار ہوتے ہیں جس کے بعد زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر ویزے کا عمل شروع کروا کر بچوں کو کوریا بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ رحمان نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ان کے مطابق ’ایک پاکستانی طالبہ نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے تحفہ خریدا کیونکہ اس کے خیال میں جنوبی کوریا میں یونیورسٹی انتظامیہ نے والدین کی طرح ان کی دیکھ بھال کی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں بغیر کسی فیس کے کورین زبان سکھائی جا رہی ہے۔‘
ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے صدر اور جنوبی کوریا کے ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ چے جونگ اِن نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ منصوبہ پاکستانی سفارت خانے، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے تعاون سے بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔‘ ان کے مطابق ’پاکستانی طلبہ کورین زبان سیکھنے کے بعد سٹڈی ویزے پر جنوبی کوریا جا سکتے ہیں جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے ’ہماری یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو 40 فیصد سکالرشپ دی جاتی ہے جبکہ باقی 60 فیصد فیس حکومت ادا کرتی ہے۔‘ چے جونگ اِن کے مطابق اب تک جنوبی کوریا پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کے مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے بہترین نتائج دیے ہیں اور انہیں وہاں کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم کا موقع فراہم کیا جاتا ہے
ہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔‘
ادیب یوسفزئی
#freeducation #southkorea #punjab
اپنے اصولوں پر ڈٹ جانا ہی اصل کربلا ہے۔ کربلا سے میں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ٹوٹ جاؤ مگر جھکو مت، اور ظلم کے آگے ہار نہ مانو۔ امام حسینؓ نے اپنی عظیم قربانی سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق اور انصاف کے لیے ہر قیمت ادا کی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں اور یزیدی سوچ رکھنے والے لوگ ملیں گے، مگر کامیاب وہی ہے جو امام حسینؓ کے کردار سے رہنمائی لیتے ہوئے سچ، حق اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے۔ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ حوصلے، صبر، قربانی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا ایسا درس ہے جو ہر دور کے انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔ اپنے بچوں کو بہادر، باکردار اور حق کا ساتھ دینے والا بنائیں تاکہ وہ ہر مشکل وقت میں سچائی اور انصاف کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہو سکیں، کیونکہ قوموں کی طاقت صرف علم سے نہیں بلکہ مضبوط کردار اور بلند حوصلوں سے بھی بنتی ہے۔
از قلم: نوشین شہزاد ✍️🌹
ہر وہ شخص جو یزیدی سوچ کا حامل ہو، وہ انسان کے روپ میں شیطان ہے، جبکہ حق، سچ اور انصاف کا ساتھ دینے والا حسینی کردار کا امین ہوتا ہے۔ کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی بھی جرم ہے، اس لیے ہر دور میں حق کا ساتھ دینا اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ زندگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ انسان مشکل حالات میں کس کا ساتھ دیتا ہے۔ تاریخ نام، دولت اور طاقت کو نہیں یاد رکھتی، بلکہ حق کے لیے ڈٹ جانے والے کرداروں کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔
حق کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، مگر یہی راستہ انسان کو تاریخ نہیں، دلوں میں امر کر دیتا ہے۔
از قلم: نوشین شہزاد
پنجاب اسمبلی میں واضح کیا کہ ترقی دعووں سے نہیں، مکمل منصوبوں، شفاف امتحانی نظام، مضبوط تعلیمی اداروں، خواتین کے تحفظ، نوجوانوں کے مواقع اور عوامی سہولتوں سے ثابت ہوتی ہے؛ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب تعلیم، انفراسٹرکچر اور خدمتِ عامہ میں عملی نتائج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
قصور کے لئے ایک اور اعزاز
پتوکی کا جوان ایشین چیمپئن بن گیا
تھائی لینڈ میں ہونے والی ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں پتوکی کے سپوت امجد تبسم کا تاریخی کارنامہ.!
امجد نے 10 سے زائد ممالک کے 70 سے زائد کھلاڑیوں کو دھول چٹاتے ہوئے دو گولڈ میڈل پاکستان کے نام کر لیے. وطنِ عزیز کا پرچم دنیا بھر میں بلند کرنے پر امجد تبسم کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد.
پنجاب حکومت نے باضابطہ طور پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا نصاب تیار کر لیا ہے، اور اسے مرحلہ وار انداز میں اسکولوں میں متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے. یہ اقدام طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے. AI تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو اختراع (Innovation)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا جائے گا.
پنجاب حکومت نے باضابطہ طور پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا نصاب تیار کر لیا ہے، اور اسے مرحلہ وار انداز میں اسکولوں میں متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے. یہ اقدام طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے. AI تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو اختراع (Innovation)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا جائے گا.
🌱 پرسنلٹی ڈویلپمنٹ کوچ۔۔۔
بہت سے آئیڈیاز ایسے ہوتے ہیں جو دل میں ہی دب جاتے ہیں۔ کچھ مجبوریوں اور بندشوں کی وجہ سے ان پر عمل نہیں ہو پاتا۔ پھر سوچتا ہوں، چلو لکھ دیتے ہیں، شاید کوئی دل قبول کر لے اور کوئی ادارہ اس پر غور کر لے۔
ہم نے اپنے بچوں کو گویا کوہلو کا بیل بنا دیا ہے۔ انہیں ABC اور امتحانات کے چکر میں ایسا گھمایا کہ وہ اپنے اردگرد کے معاشرے، فطرت اور زندگی کی بہت سی اہم چیزوں سے لاتعلق ہو گئے۔
چند سوالات آپ سے:
1۔ کیا ہمارے بچوں کو اپنے علاقے کے درختوں، پودوں اور پرندوں کی پہچان ہے؟
2۔ کیا وہ اپنے معاشرے میں موجود چیزوں سے مثبت سبق اور مواقع تلاش کر سکتے ہیں؟
3۔ کیا سکول کی تعلیم نے ان کی شخصیت کو نکھارا ہے؟ کیا انہیں لباس پہننے اور سنبھالنے کا سلیقہ آیا؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ گفتگو کے دوران مثبت اشارے (Gestures) کیسے استعمال کیے جاتے ہیں؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ کس کے سامنے کس لہجے، کس آواز اور کس انداز میں بات کرنی چاہیے؟ کیا وہ چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کے درست استعمال سے واقف ہیں؟
ہم سرکاری اداروں میں شاید بہت کچھ نہ کر سکیں، لیکن نجی تعلیمی ادارے، خصوصاً وہ جو اپنے بچوں کو مستقبل کے لیڈر، بیوروکریٹ، سی ایس ایس آفیسر یا کامیاب پروفیشنل بنانا چاہتے ہیں، انہیں نرسری کلاس سے ہی پرسنلٹی ڈویلپمنٹ پر توجہ دینی چاہیے۔
میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ہفتے میں ایک دن بچوں کو لباس، رنگوں کے انتخاب، صفائی اور شخصیت کے تاثر کے بارے میں سکھایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ رنگ انسان کی نفسیات اور شخصیت پر کیا اثرات ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مؤثر گفتگو، بااعتماد اندازِ بیان، باڈی لینگویج، مثبت کمیونیکیشن اور سماجی آداب بھی نصاب کا حصہ ہونے چاہئیں۔
✨ اگر یہ خوبیاں بچپن سے بچوں کی شخصیت میں شامل کر دی جائیں تو مستقبل میں وہ صرف ڈگری ہولڈر نہیں بلکہ باکردار، بااعتماد اور مؤثر انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
🤝 ہم تو اپنی بات لکھ دیتے ہیں، باقی آپ کی مرضی۔
📝 از قلم: احسان
کچھ فاصلے نقشوں میں ناپے جاتے ہیں، اور کچھ دل کی دھڑکنوں میں۔ مکّہ اور مدینہ کے درمیان 450 کلومیٹر کا فاصلہ تو چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے، مگر میرے دل میں ان مقدس سرزمینوں تک پہنچنے کی خواہش برسوں سے آباد ہے۔ ایک طرف بیت اللہ کی زیارت کی آرزو ہے، تو دوسری طرف روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام پیش کرنے کی تمنا۔
شاید ہر مسلمان کے دل میں یہ خواب بستا ہے کہ ایک دن وہ بھی ان بابرکت راستوں کا مسافر بنے، آنکھوں میں عقیدت، لبوں پر دعا اور دل میں شکر لیے۔ اللہ تعالیٰ وہ دن جلد نصیب فرمائے جب یہ خواہش حقیقت بن جائے اور ہم بھی اُن خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں مکّہ و مدینہ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔
از قلم: نوشین شہزاد ✍️🕋🤍