بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے دنیا کی 100 سے زائد بہترین جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے لیے رواں سال کی درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں۔ اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری، بلوچستان کے روشن مستقبل میں ہماری اجتماعی سرمایہ کاری ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق تھام کر پہاڑوں میں چھپنے والے نہیں، بلکہ علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے ہمارے نوجوان تعمیر کریں گے۔
اندر سے حکومت کے ساتھ ڈیل اور باہر سوشل میڈیا پر انقلابی بڑھکیں! سہیل آفریدی کا اصلی چہرہ اب سب کے سامنے آ چکا ہے۔ کارکنوں کو بیوقوف بنانے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے
قلعہ سیف اللہ میں دھرنا منسوخ ہونے کی خبر کے بعد سیاسی کارکنوں کی شدید نعرے بازی اور برہمی۔ آخری لمحے کے فیصلوں اور اچانک منسوخی نے عوامی سطح پر سخت مایوسی اور اشتعال پیدا کر دیا ہے
@siasatpk بلوچستان میں معاشی اور انفراسٹرکچر کی مسلسل پیشرفت اس بات کا ثبوت ہے کہ لائحہ عمل درست سمت میں ہے۔ جو عناصر ترقی پر تنقید کر رہے ہیں، وہ دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں
@azaad_urdu@SohailAfridiISF یہ سیاسی یوٹرن بتاتا ہے کہ فیصلے عوامی دباؤ کے بجائے پردے کے پیچھے طے پانے والے سمجھوتوں کے تحت ہو رہے ہیں۔ عوام اور کارکنان اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ سخت بیانیے کی اصل حقیقت کیا تھی
پارٹی قیادت نے سہیل آفریدی کا انتخاب کیوں کیا؟
جدوجہد سے جڑی یوتھ لیڈرشپ کا تسلسل، مشکل سیاسی حالات میں جارحانہ و پختہ موقف، اور صوبائی و وفاقی سطح پر پارٹی بیانیے کو مضبوطی سے آگے بڑھانے کی صلاحیت اس اہم فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔
پیراشوٹر سہیل آفریدی آخر وزیرِ اعلیٰ کیسے بنا؟؟
سہیل آفریدی تو کبھی کونسلر بھی منتخب نہیں ہوا تھا پھر یہ کیسے پارلیمانی سیاست کا حصہ بنا؟
جسکا لب و لہجہ اس قدر جاہلانہ ہو اسکی تربیت کیسے ماحول میں ہوئی ہوگی؟
سہیل آفریدی کو جنگلی کا لقب کس وجہ سے ملا؟
ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے کی ذہنی حالت بھی تو پسماندہ ہوگی کیونکہ انسان کی تربیت جیسے ماحول میں ہوتی ہے وہ ویسا ہی ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے جسطرح کی گھٹیا زبان اور غلیظ سیاست کا پرچار سہیل آفریدی نے کیا وہ کسی طور بھی ایک مہذب بیک گراؤنڈ کی عکاسی نہیں کرتا۔
سہیل آفریدی کون تھا؟ کہاں سے آیا؟ کس نے اسکی تربیت کی؟ کس نے اسے لانچ کیا؟ ایسے بہت سارے سوال اب عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں
@Hanzalamalik97 سہیل آفریدی کا 2024 کے انتخاب سے اکتوبر 2025 میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بننے تک کا سفر غیر معمولی ہے۔ انتہائی کم عرصے میں صوبائی قیادت کی ذمہ داری ملنا ان کے سیاسی کیریئر، کارکنانہ متحرک پن اور پارٹی قیادت کے ان پر ڈبل اعتماد کا واضح ثبوت ہے
پیراشوٹر سہیل آفریدی آخر وزیرِ اعلیٰ کیسے بنا؟؟
سہیل آفریدی تو کبھی کونسلر بھی منتخب نہیں ہوا تھا پھر یہ کیسے پارلیمانی سیاست کا حصہ بنا؟
جسکا لب و لہجہ اس قدر جاہلانہ ہو اسکی تربیت کیسے ماحول میں ہوئی ہوگی؟
سہیل آفریدی کو جنگلی کا لقب کس وجہ سے ملا؟
ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے کی ذہنی حالت بھی تو پسماندہ ہوگی کیونکہ انسان کی تربیت جیسے ماحول میں ہوتی ہے وہ ویسا ہی ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے جسطرح کی گھٹیا زبان اور غلیظ سیاست کا پرچار سہیل آفریدی نے کیا وہ کسی طور بھی ایک مہذب بیک گراؤنڈ کی عکاسی نہیں کرتا۔
سہیل آفریدی کون تھا؟ کہاں سے آیا؟ کس نے اسکی تربیت کی؟ کس نے اسے لانچ کیا؟ ایسے بہت سارے سوال اب عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں
ہر بار کی طرح اس بار بھی تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا انجام ناکامی کی صورت میں ہی نکلا۔ اتنی لمبی بڑھکوں کے بعد آخر میں صرف فرار ہی ان کی واحد حکمت عملی بچتی ہے!
#یوتھیے_بھاگ_گئے#لانگ_مارچ_وڑ_گیا#YouthiyeBhaagGaye