🇵🇰 FIA officials have now been given the authority to check passengers' mobile phones at airports, including access to their call logs, text messages, and social media activity.
This move means travelers could face phone checks during departure or arrival, raising fresh concerns around privacy and how these powers will actually be used. THIS IS THE VALUE OF "BLOODY CIVILIANS" IN PAKISTAN.
"After this humiliation, Pakistani officials will inevitably face strip searches at airports globally. A government that brings disgrace upon its own country cannot expect respect from the rest of the world".
محسن نقوی کے بیان کو ignore کریں،let go کریں،خاموش رہیں،باہمی اعتماد قومی مفاد میں ہے،غیر ضروری عوامی تنازعات میں نہ پڑیں۔۔نوازشریف کی اپنی پارٹی سیاستدانوں کو ہداہیت۔۔
یہاں مجھے لیجنڈ منور ظریف کی مشہورِ زمانہ فلم “نوکر ووہٹی دا “ کا سپر ہٹ گانا یاد آ رہا،گانے کے بول ہیں
چُپ کر دَڑ وٹ جا
نہ عشق دا کھول خلاصہ
چمڑی لتھ جائے گی
سارے جگ دا بنے کا ہاسہ۔۔
آسان لفظوں میں جب بنیاد ہی فارم 47 ہوگا تو بہتر یہی ہے کہ اگنور کریں اور ��نا لاٹری ٹکٹ خریدے جو لاٹری نکلی ہوئی ہے اِسے انجوائے کریں۔۔
صحافی مبشر زیدی کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دو ہی شخصیات نے دلیری کے ساتھ جیل کاٹی پہلے ذوالفقار بھٹو شہید اور اب عمران خان نے ۔ سینئیر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کہتے ہیں کہ قید کے ان تین برسوں میں عمران خان نے ایک درخواست بھی میڈیکل گراؤنڈ پر دائر نہیں کی
پنجاب پولیس کوبتایا بھی گیا یہ صحاف�� ہے اسکو مت مارو لیکن انہوں نے ایک نہ سنی سرعام ایک صحافی کے ساتھ مارپیٹ کر کے قیدیوں کی وین میں صحافی کو بند کر دیا یہ ایک پیغام تھا جو سب صحافیوں کو دینا تھا پیغام دینے کے بعد اس صحافی کو چھوڑ دیا اب سب صحافی انتظار کریں اگلی باری کس کی ہے؟
ایکسکلوسیو : عمران خان کے جیل میں تین سال مکمل ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے پی ٹی آئی کے دعوی متعلق اہم رپورٹ سامنے آگئی
سپریڈنٹ جیل کی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید
سپریڈنٹ جیل کی رپورٹ کی حاصل تفصیلات کے مطابق " جیلوں میں قید تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا اب یہ رائج نہیں نا ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں اڈیالہ جیل میں کوئی بھی قیدی بشمول عمران خان کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا عمران خان کو سزا ہو چکی وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہے ہیں ان کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے کوئی امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا البتہ ان کے بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے کچھ اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں اسی لیے عام قیدیوں کو عمران خان کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی عمران خان قید تنہائی نہیں انکو جو سہولیات حاصل ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے یہ قیدی تنہائی نہیں "
جیل سپریڈنٹ رپورٹ میں مزید کہتے ہیں کہ " 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں صرف رات کے مخصوص اوقات میں بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں رہتے ہیں جیل افسران اور عملہ عمران خان کی ضروریات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ان سے رابطے میں رہتا ہے مجھے بھی آگاہ کرتا ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل معمول کے مطابق ان سے ملاقات کرتا ہے ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتا ہے جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ ان کا معائنہ کرتے ہیں کھانے کی جانچ کرتے ہیں بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور ان کو بتایا بھی جاتا ہے ضرورت پڑنے پر عمران خان کا اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے عمران خان کے لیے ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے عمران خان کو قدرتی روشنی ، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے وہ صبح لاک اَپ کھلنے سے شام لاک اَپ ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں دن بھر اپنی پسند کے مطابق سرگرمی کر سکتے ہیں ان کی قید کی جگہ محفوظ اور مکمل نگرانی میں ہے جہاں جیل عملہ مناسب تعداد میں موجود ہے میں اور جیل کے دیگر افسران ان کے قید کی جگہ کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہ��ے ہیں جیل قواعد کے مطابق عمران خان کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی اجازت ہے عمران خان پی ٹی آئی کو باقاعدگی سے اپنی پسند کے اخبارات اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں "
رپورٹ میں مزید کہا گیا " فرینڈ آف کورٹ کے طور پر سلمان صفدر نے 10 فروری 2026 کو ان کے سیل کا معائنہ بھی کیا تھا سلمان صفدر نے بانی کی رہائشی اور قیدی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی عمران خان کی حراست اور رہائشی حالات مناسب اور اطمینان بخش ہیں، اور ان میں قید تنہائی کا معمولی سا بھی عنصر موجود نہیں درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں لہٰذا استدعا ہے درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے "
اس درجہ سنیارٹی کے ساتھ اگر کوئی محض ڈاکیا بن جائے تو کس قدر قابل رحم حالت ہے ۔ کبھی مریم کی تعریفیں کبھی جوڑی سلامت رہنے کی دعائیں ۔ ہائے صحافت تیری۔۔۔۔۔
Imran Khan has completed 3 years in prision and most of it in solitary confinement. He has not been allowed to meet his family. His sons have been denied visa to visit Pakistan and meet their father. He has been denied access to his doctors, lawyers and party people.
For a long period, no one has seen him.
There is no history of any political prisoner being treated in such harsh & brutal conditions.
Despite all these, Imran khan has shown courage, bravery, dignity and character unparalleled in our history. He has won and those who incarcerated him in prison have lost.
جب سے یہ خبر سنی ہےکہ محسن نقوی بیان اور آزادکشمیر الیکشن کو لے کر وزیراعظم شہبازشریف نےرائے ونڈ میں نوازشریف سے ملاقات کی اور اس موقع پر اسحٰق ڈار اور مریم نواز بھی موجود تھےتب سے خوش ہوں کہ ماشاءاللہ ملک محفوظ ہاتھوں میں،ماشاءاللہ بڑا بھائی،چھوٹا بھائی،بیٹی،سمدھی مطلب چاروں شاہ اکٹھے ہوئے ملک کی خاطر،ماشاءاللہ تقریبًا پورا شاہی ٹبر (خاندان)اکٹھا ہوا ہمارے لئیے،بس اگر رضا ڈار بھی اجلاس میں شریک ہوجاتا تو ہماری خوشی کو چار چاند لگ جاتے۔۔
ایک اکیلا صحافی پنجاب پولیس کے ڈنڈوں اور گھونسوں کا سامنا کر رہا ہے ذرا سوچیئے کہ کیا اتنی مار پٹائی پولیس والے اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں؟ یہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اس پنجاب کی تصویر دکھا رہی ہے جس کی گورننس کو ایک مثال ��نا کر پیش کیا جاتا ہے اگر پنجاب میں یہ حال ہے تو باقی صوبوں میں صحافیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا؟
اگر صدر زرداری ڈٹے رہے تو آئینی عدالت جانا ایک لاحاصل مشق ہو گی، آئینی عدالت نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا بھی تو صدر زرداری نہیں مانیں گے اور ان کے نہ ماننے پر پاکستان کی کوئی عدالت ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی انہیں تاحیات استثنیٰ آئین سے حاصل ہے