آج ہی کے روز۔۔۔۔
21 اگست 1969 کو " دہشتگرد یہودی ڈینس مائیکل" نے قبلہ اول میں آگ لگائی تھی
گھنٹوں تک بھٹرکتی آگ سے مسجد کا ایک بڑا حصہ جل گیا۔
اس آگ میں نورالدین زنگی ؒ کا تیار کروایا گیا منبر بھی جلا تھا، جسے وہ اپنی زندگی میں نصب نہ کر سکے تھے، لیکن اس کو سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے ال��دس کی فتح کے بعد مسجدِ اقصیٰ میں نصب کیا تھا۔
جو کچھ بیجو گے وھی کاٹو ھے بچوں کو جس طرح کا ماحول دو گے اور جو عمل کرو گے بچے اس کا اثر لیتے ھیں وھی کچھ ملے گا
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے گی صدا لاالہ اللہ
علامہ اقبال کی بعض باتیں انکی سیاسی بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت کی منہ بولتی تصویر ہوتی ہی ہیں لیکن بعض پشین گوئیاں ایسی حیران کن ہوتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ بات کیسے کہی جا سکتی تھی؟ ایسی باتوں کے بارے میں یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ الہامی نوعیت کی ہیں۔جیسے تقریباً ایک صدی پہلے یہ دعویٰ کرنا کہ مستقبل کی جنگوں کی رزمگاہ خطہ پنجاب بنے گا۔آج جب دیکھتے ہیں تو لیبیا و صومالیہ ہوں،شام و لبنان ہوں،قطر و بحرین ہوں یا ترکیہ و سعودیہ ہوں سب دفاعی ضرورت کیلئے پاکستان ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کی عسکری صلاحیتوں سے شاید ابنائے وطن اتنے آشنا نہیں ہیں جتنے دیگر مسلمان ممالک ہیں۔دوسری طرف آج سے دو سال پہلے تک کسی بڑے سے بڑے پاکستانی دانشور کے وہم و گمان میں بھی پاکستان کی اس صلاحیت کا کوئی شائبہ بھی نہیں تھا جبکہ علامہ اقبال پاکستان بننے سے بھی بارہ سال پہلے اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ پنجاب کو مسلمانوں کے دفاع میں مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔۔۔!!!
اسی سے اندازہ لگائیں کہ مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والی قوتوں کے دل و دماغ میں پاکس��ان کیسے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہو گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ پاکستان کے خلاف کون کون سی سازشیں کرنے اور منصوبے بنانے میں مصروف نہیں ہونگے؟
اسی سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فوج کو پنجاب کے نام پر گالی دینے اور پاکستان کو طاغوتی ریاست قرار دینے والوں کیلئے کون زمین ہموار اور حالات سازگار کر رہا ہے اور انھیں کہاں سے مدد مل رہی ہے؟
خود حکومتی مشینری کے اندر کتنے ابن علقمی، میر جعفر اور میر صادق ہونگے جو آستین کے سانپ کا کردار ادا کر رہے ہونگے؟
قصہ مختصر جہاں امت مسلمہ نے آس لگا رکھی ہے وہیں شیطان نے گھات لگائی ہوئی ہے۔۔۔!!
ان حالات میں ہماری گزارش ہر سمجھدار اور مخلص فرد سے یہ ہے کہ اپنے پاؤ بھر حقوق کے نام پر امت مسلمہ کے اونٹ کو ذبح کرنے کا جتن کرنے والوں کا ساتھ ہر گز نہیں دینا چاہیے!
A mother and her child were allegedly subjected to violence simply for stepping onto a seat reserved by caste custom for upper-caste Hindus.
Showing how deeply caste discrimination can still shape everyday life.
c
کشمیر پر امریکی بیان اور اسلام آباد کا اسٹریٹجک امتحان
بین الاقوامی تعلقات اور پاور پولیٹکس کی دنیا میں کوئی بھی اہم بیان محض زبان کی لغزش یا جذباتی ردِ عمل نہیں ہوت��، خاص طور پر جب بات واشنگٹن کے بااختیار سفارت کاروں کی ہو۔ بھارت میں امریکی سفیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب برائے جنوبی و وسط ایشیا، 'سرجیو گور' (Sergio Gor) کا سرینگر کی سرزمین پر کھڑے ہو کر کشمیر کو "بھارت کا اہم اور اٹوٹ حصہ" قرار دینا کسی وقتی دورے کا تاثراتی تبصرہ نہیں، بلکہ یہ وائٹ ہاؤس کے اسٹریٹجک تھنک ٹینک کی مکمل ہو�� ورک اور بریفنگ کے بعد دی گئی ایک باقاعدہ پالیسی اسٹیٹمنٹ ہے۔
اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے تاریخ اور خطے کی جغرافیائی و سیاسی حرکیات کا ایک ساتھ جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
یہ منظرنامہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یاد کیجیے! صدر ٹرمپ کے گزشتہ دورِ اقتدار میں نریندر مودی اور عمران خان سے الگ الگ تفصیلی ملاقاتوں کے فوری بعد ہی نئی دہلی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت (آرٹیکل 370 اور 35A) کا خاتمہ کر کے اسے باقاعدہ انڈین یونین میں ضم کر لیا تھا۔
اُس وقت روایتی بیانات، نقشوں کی ازسرنو اشاعت اور سرکاری سطح پر دو علامتی احتجاجوں کے سوا اسلام آباد کی جانب سے کوئی ٹھوس اسٹریٹجک یا سفارتی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔
البتہ اس بھارتی اقدام کے بعد خود پاکستان کے زیرِ انتظام سابق ریاست ج��وں کشمیر کے علاقوں، "گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر"، کو بھی صوبائی اور انتظامی سطح پر وفاق میں ضم کرنے کی بحث نے جنم لیا تھا، اور کوششیں بھی دیکھائی دیں تھیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اُسی پالیسی کی بازگشت مخصوص حلقوں میں غیر معمولی شدت کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔
یاد رہے، تزویراتی توازن اس وقت مزید بگڑتا ہے جب آپ کا داخلی اور علاقائی محاذ کمزور ہو۔ آزاد جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ گزشتہ سال وفاقی وزرا کے دستخط شدہ معاہدے سے انحراف، اور اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے نہتے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں درجنوں شہریوں کا لقمہ اجل بننا، وہ تلخ حقائق ہیں جنہوں نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مقدمے میں پاکستان کے اخلاقی اور بیانیاتی موقف کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ جب آپ اپنے زیرِ انتظام خطے میں عوام کے بنیادی حقوق کے مطالبات کی آوازوں کو جبر سے خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہو، تو بین الاقوامی میز پر آپ کے روایتی موقف کا وزن خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں واشنگٹن کے نمائندے کا یہ بیان دراصل ایشیا پیسیفک اور بحرِ ہند کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف بھارت کو ایک مرکزی علاقائی ستون (Anchor State) کے طور پر تسلیم کرنے کی بڑی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ دیکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئی دہلی کے حق میں جھکانے کے لیے کشمیر تنازعے کو ایک "سیٹلڈ ایشو" کے طور پر پیش کرنے کا دانستہ آغاز کر چکی ہے۔ یا پھر مڈل ایسٹ میں امریکی اسکیورٹی گارنٹی ک�� متبادل کے طور پر "پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ معاہدے کا جواب دیا گیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے ڈیمارش میں امریکی سفیر کے اس بیان کو "غیر ذمہ دارانہ اور تاریخی حقائق کے منافی" قرار دے کر رسمی خانہ پری تو کر دی ہے، مگر اصل جیو پولیٹیکل سوالات تاحال تشنہ ہیں:
کیا اسلام آباد سفارتی سطح پر واشنگٹن سے اس بیان کی باضابطہ تصحیح اور وضاحت کے لیے زور ڈالے گا؟
(ٹرمپ اگر گفتگو کا آغاز 'مائی ڈئیر فیلڈ مارشل' سے کرتا ہے، تو اس اس وضاحت میں مشکل نہیں ہونی چاہیے)
یا پھر ماضی کی طرح فارن آفس کے ایک رسمی پریس نوٹ کے پیچھے چھپ کر مقبوضہ کشمیر پر اس امریکی موقف کو عالمی اتفاقِ رائے بننے دیا جائے گا؟
اس سے یہ بھی واضع ہو گا کہ، آیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے ترجیحی خانے میں کشمیر کے تاریخی تنازع کو اب بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے، یا داخلی سیاسی و معاشی ترجیحات کے دباؤ میں یہ باب عملی طور پر بند کر دیا گیا ہے؟
واضع رہے کہ، سفارت کاری کا بنیادی اصول ہے کہ بین الاقوامی نظام کمزور اور متذبذب بیانیوں کو قبول نہیں کرتا۔ کشمیر پر امریکی ایلچی کا بیان محض الفاظ کا چناؤ نہیں بلکہ ایک کھلا اسٹریٹجک چیلنج ہے، جس پر پاکستان کا آئندہ طرزِ عمل یہ طے کرے گا کہ اسلام آباد خطے کے فیصلوں میں اب بھی ایک متحرک فریق ہے یا محض ایک خاموش تماشائی۔۔۔۔
۔
#مہتاب_ع��یز
ذیل میں مولانا وحیدالدین خان صاحب کی تحریر ہے۔اس وجہ سے وہ بی جے پی کی آنکھ کا تارا رہے۔حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کے اقوال سے شاید ہی کوئی جملہ مل سکے جس میں ہندو سے نفرت کا اظہار ہوا ہو جبکہ بی جے پی کی سیاست کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر کھڑی ہے مگر یہ سب مولانا کو کبھی دکھائی نہ دیا
The summary of his video is that partition was wrong, Muslims started violence and there were no sacrifices for Pakistan.
As usual, no evidence provided and the ranting is wrapped in “analysis”.
I am occupied for a few days but will provide all the historical evidence to show how this harbinger of doom is lying yet again.