برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے مضمون اور اسے دنیا بھر سے ملنے والی پذیرائی نے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی نگراں سیٹ اپ کو اس حد تک پریشان کر دیا ہے کہ انہوں نے جریدے کے ایڈٰیٹر کو خط لکھ کر یہ جاننے کا فیصلہ کیا ہے کہ آخر ان کو ایسا "متنازعہ مواد" شائع کر کے اپنی "ساکھ کو داغدار" کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بلاشبہ یہ لوگ جو پرچی دیکھ کر تقریر کرنے والے شریفوں (موجودہ مالک) اور تعلیم حاصل کرنے کی بجاۓ سکول سے بھاگنے والے زرداریوں (ماضی کے مالک) جیسے ان پڑھ اور جاہل آقاؤں کے خدمت گزار ہیں، انہیں عمران خان جیسے لیڈر کی قابلیت اور ساکھ کا ادراک نہیں ہو سکتا- وزیروں کا لبادہ اوڑہنے والے یہ چاپلوس صرف خدمت گزاری کی زبان سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے طویل عرصے سے غلامی کو ہی اپنا پیشہ مانا ہے اور اپنے ضمیر کا سودا کرتے آئے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں اپنے جرائم پیشہ آقاؤں کو مشورہ دینا چاہیے کہ وہ ریاست سے لوٹی ہوئی دولت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ذاتی جریدے متعارف کروائیں تاکہ وہ بھی چند سطریں لکھ سکیں۔ اس کے بعد ان “اشاعتوں” کو اپنےایک اہم “شاہکار" کی صورت میں فریم کروا کے اپنے ڈرائنگ روم میں لٹکا دیں۔ 'شرم' ایک انتہائی بے معنی اور چھوٹا لفظ ہے جو اس مکروہ گروہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ اس سے عاری رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک پر ایسے مجرمانہ ذہن مسلط ہیں جو اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں-
ن لیگ اپنے پرانے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ۔ انہوں نے عدلیہ کے خلاف مہم کا اعلان کر دیا ہے لیکن یہ 90 کی دہائی نہیں ہے عوام نے ان کی چھترول سڑکوں پر بھی کرنی ہے اور 8 فروری کو بلے پر مہریں لگا کربھی
جسٹس علی باقرنجفی کوخراج تحسین جنہوں نےچھٹیاں منسوخ کرکے2 دن2رات مسلسل پہرا دیا،کاغذات نامزدگی میں رکاوٹوں اغواتشددحکومت گردی کوروکا،
بیرسٹر @SalmanKNiazi1 انکی ٹیم بھی عمران خان @ImranKhanPTI کی ہدایت پرمتحرک رہی،اپنے ٹکٹ کی قربانی دیکر دیگر راہنماؤں کی مدد کی
پورے گھمسان کی جنگ میں واحد ڈپٹی ریٹرننگ آفیسر بندے کا پتر ملا ہے جس نے خود باہر آ کر @Hammad_Azhar صاحب کے وکیل کو رسیو کیا اور RO کے آفس تک لایا۔
جہاں بُرے لوگوں کو ایکسپوز کریں وہیں ایسے افسرز کو شاباشی بھی دیں۔