موجودہ فسطائی بندوبست کی جانب سے ہماری جمہوریت، ہماری عدلیہ، ہمارے آئین اور قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہمارے دیگر قائدین کیطرح، شیریں مزاری کو ضمانت ملنے کے باوجود پھر سے گرفتار کرکے ایک دو��ری جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ہمارے کم و بیش ساڑھے سات ہزار (7500) کارکنان گرفتار کئے جا چکے ہیں جن میں بیشتر کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔ ایسے میں جب میں آپ سے مخاطب ہوں، گھروں میں (غیرقانونی طور پر) دھاوا بولا جارہا ہے، ان میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے اور (بغیر کسی لحاظ کے) مرد و خواتین کو اٹھایا جارہا ہے۔ ایس میں جب ہمارا ملک معاشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے لحاظ سے زوال کی تہہ میں اتر چکا ہے، ہم مزید گہرائیوں کو چھو رہے ہیں۔ اور یہ سب پاکستان تحریک انصاف کو آئندہ حکومت بنانے سے روکنے کیلئے کیا جارہا ہے۔