حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز کے لواحقین گزشتہ تین دنوں سے کرکی تجابان میں سی پیک روڈ بند کر کے دھرنے پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ ان مظلوم خاندانوں کے مطالبات سننے کی زحمت تک نہیں کی جا ��ہی۔ شدید سردی، کھلے آسمان تلے، بغیر کسی سہولت کے یہ لواحقین سڑکوں پر بیٹھے یہ خاندان اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کی فریاد سنی جائے گی۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب کوئی استثنائی واقعہ نہیں رہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ طالب علم، نہ کارکن، نہ مرد، اور اب نہ ہی خواتین۔ حالیہ مہینوں میں دس سے زائد خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں معذور، کمسن اور حاملہ خواتین تک شامل ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں بلکہ بلوچ قوم پر ریاستی جبر کا ایک بھیانک چہرہ ہے۔
نام نہاد انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں ریاست اس مقام تک گر چکی ہے کہ اب اسے نہتے اور معصوم لڑکیوں اور خواتین سے بھی خطرہ محسوس ہونے لگ�� ہے۔ خواتین کو اٹھا کر غائب کرنے کے بعد ریاست کے پاس اتنی اخلاقی جرأت بھی باقی نہیں رہی کہ وہ ان جرائم کا اعتراف کرے یا لواحقین کو کوئی جواب دے۔
اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کر کے وہ بلوچ معاشرے کے حوصلے، وقار اور اجتماعی مزاحمت کو توڑ دے گی، تو یہ ایک تاریخی غلطی ہے۔ بلوچ تاریخ گواہ ہے کہ جبر، خوف اور تشدد نے کبھی ہماری تحریک کو ختم نہیں کیا، نہ ہی ہمارے مؤقف کو کمزور کیا بلکہ ہر ظلم و جبر کے ساتھ ریاست کا چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے، اور اس کا اپنا بیانیہ خود اپنے بوجھ تلے بکھرتا رہا ہے۔
ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو وہ ان انسانیت سو��، غیر آئینی اور مجرمانہ پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کرے، یا پھر تاریخ کے کٹہرے میں ایک ایسے جابر کے طور پر کھڑی ہو جس نے ایک قوم کو مٹانے اور ختم کرنے کی کوشش میں اسکے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔
#SaveBalochWomen
Imagine a young girl from a small town ,living with polio, battling for her life, yet holding onto a dream of higher education. She leaves behind her caregivers and everything familiar, determined to build a future in a big city.
Then, she’s abducted ,not by criminals, but by the very law enforcement agencies meant to protect her.
This isn’t fiction. This is happening in Pakistan. This is what the state is doing to Baloch daughters.
Mahjabeen has now been missing for 88 days. Her only “crime” was seeking education and dignity.
@unwomen_pak@UNHumanRights@WGEID
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ اور بیبرگ بلوچ کی گرفتاری اور پچھلے آٹھ ماہ سے ان کی ماورائے قانون قید نہ صرف غیر آئینی و غیر قانونی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ ہر شہری کو قانونی ضمانت، مناسب سماعت اور شفاف عدالتی عمل تک رسائی حاصل ہونا لازمی حق ہے مگر بی وائی سی کے رہنماؤں کو بلا کسی معتبر ثبوت یا قانونی کاروائی کے غیر انسانی اور غیر قانونی حالات میں قید میں رکھا گیا ہے جو کسی بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے منافی ہے۔
ریاستی ادارے اور سرفراز بگٹی کی زیر قیادت کٹھ پتلی حکومت، بی وائی سی کی عوامی مقبولیت اور جمہوری اثر و رسوخ سے شدید خوفزدہ ہیں، چونکہ وہ سیاسی میدان میں بی وائی سی کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں، اس لیے وہ طاقت اور سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سیاسی انتقام اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔
گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران ریاستی مشینری، پاکستانی میڈیا اور بعض نام نہاد دانشور و صحافیوں نے بی وائی سی کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی یا سیاسی دلیل قائم کرنے میں مکمل ناکامی کا سامنا کیا۔ کبھی بی وائی سی کو مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تو کبھی اسے بھارت کی پراکسی قرار دینے کی سازش کی گئی لیکن نہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اور نہ ہی حکومت، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کوئی قابل قبول قانونی ثبوت پیش کر سکے۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ یہ گرفتاری اور قید محض سیاسی بنیادوں پر طول دی جا رہی ہے اور اس کا مقصد عوامی رائے کو دبانا اور جمہوری عمل میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف آئینی حقوق، آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع اور سیاسی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے بھی منافی ہے، جن میں ہر شہری کو بلا خوف و خطر اپنی رائے ظاہر کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور جمہوری عمل میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے۔
ہم تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، میڈیا اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کو یقینی بنانے لئے کردار ادا کریں اور ان کے خلاف کسی بھی قانونی کارروائی کو شفاف، منصفانہ اور آئینی تقاضوں کے مطابق انجام دیا جائے۔ انسانی وقار، عدل اور جمہوری اصولوں کا احترام ہر معاشرے کی بنیاد ہے اور اس کا تحفظ انسانی حقوق کی ��نظیموں پر ناگزیر ذمہ داری بھی ہے۔
#ReleaseBYCLeaders
@AsadAToor @HamidMirPAK @ShireenMazari1 @SenatorMushtaq @ImaanZHazir @MunizaeJahangir @amnestysasia @EUPakistan @HRCP87 @UNinPak @NadiaBaloch99 @SabihaBaloch_ @ManzoorPashteen @MJibranNasir @agentjay2009 @PTIofficial @UNHumanRights @FrontLineHRD
Request to my Baloch mothers, sisters & daughters to please end the peaceful sit-in camp in Islamabad, which has gone on for more than 70 days now. You have shown the entire country what peaceful resistance means and how to find hope in the most hopeless situation.
We will always stand by you and demand the release of your loved ones, and the release of all BYC Leaders.
دالبندین ضلع چاغی میں زبیر بلوچ کے گھر پر حملہ اور اُن کی شہادت کوئی اتفاقی سانحہ نہیں بلکہ اُس ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جو کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جاری ہے۔
زبیر بلوچ ایک پُرام�� سیاسی کارکن، باہمت نوجوان اور انسانی حقوق کے لیے بے خوف آواز تھا۔ وہ ہمیشہ جبری گمشدگیوں، وسائل کی لوٹ مار اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ڈٹ کر بولتے رہے۔ زبیر بلوچ کو ہمیشہ سے لگتا تھا تھا کہ بلوچ عوام کے مسائل کا حل اور اُن کے حقوق کا تحفظ صرف پُرامن سیاسی جدوجہد میں ہے۔
مگر ریاست نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ اُسے نہ پُرامن سیاست برداشت ہے اور نہ ہی اختلافِ رائے سے قبول ہے فورسز نے زبیر بلوچ کے گھر پر یلغار کرکے انھیں اور اُن کے ساتھی ناصر بلوچ کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ قتل صرف دو انسانی جانوں کا نقصان نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کو خوفزدہ کرنے اور اُن کی اجتماعی آواز کو خاموش کرنے کی حکمتِ عملی کا دیرینہ حصہ ہے۔
زبیر بلوچ ہمیشہ مظلوم خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، احتجاجوں میں شریک ہوئے اور اپنی تحریروں و تقریروں کے ذریعے بلوچ عوام کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے رہے۔ اُن کی شہادت بلوچ جدوجہد پر ایک اور گہرا زخم ہے، مگر ساتھ ہی یہ اس امر کا اعلان بھی ہے کہ طاقت اور جبر بلوچ عوام کے حوصلوں کو توڑ نہیں سکتے اور نہ ہی انھیں اپنی جدوجہد سے دستبردار کرسکتے ہیں۔
Urgent Update on BYC Leaders
Dr. Mahrang Baloch and other leaders of the Baloch Yekjehti Committee (BYC) were supposed to be presented in court yesterday. They were not produced. Instead, they were quietly presented today without informing their families or lawyers. An additional five day remand was granted. At the same time, internet services were suspended to block information.
This is a blatant violation of Pakistan’s Constitution:
Article 10-A – Right to a fair trial
Article 10 – Safeguards against arbitrary arrest and detention
Shockingly, this hearing was held on September 6th (Defense Day), a national holiday in Pakistan, and when no lawyers were present in court.
We are deeply concerned about the safety of BYC leaders who are being detained on false charges.
We demand a clear, impartial, and fair trial.
We urge the Supreme Court of Pakistan to take immediate notice of this matter, and we call on international human rights organizations to monitor and raise their voices against this unfair trial.
@amnestysasia@HRCP87@MaryLawlorhrds@FrontLineHRD@MJibranNasir@ImaanZHazir@EUPakistan
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
It has now been seven days since our colleague and friend, Nazar Mari, an active organizer and a courageous voice for every suffering family, was forcibly disappeared.
His life is at grave risk in the hands of security forces. Silencing peaceful activists through enforced disappearance is not only unjust ,it is a crime against humanity.
We call on the authorities to answer for his disappearance and demand his immediate and safe release
@MaryLawlorhrds@UN_HRC@FrontLineHRD@amnestysasia
#ReleaseNazarMari
Today marks seven years since two sons from one house were disappeared: Asif and Rasheed. The calendar turns but the door does not. The phone rings and the heart stops and then starts again. There is no news.
Saira has tried to keep studying. Semesters stretch around worry. She prepares for exams with an empty chair at the table and a phone face up beside her notes. Every small achievement feels heavy because the people she wants to tell are not here to hear it.
Their parents are growing old with one fear. They are afraid they will leave this world before they see their sons again. They measure time in hospital visits, in prayer beads, in case file numbers, in the sound of the gate at evening that is never the step they long for.
This suffering escapes understanding. There is no grave to visit and no court to sit in. There is only waiting and the same questions every day. Where are Asif and Rasheed. Are they warm. Are they fed. Do they know their family has not stopped calling their names.
For Saira. For her parents. For two brothers taken from one home. We remember Asif and Rasheed today. We will remember them tomorrow. And we will keep a light on until they walk back through the door.
#ReleaseAsifAndRasheed