1936 میں، جب بڑی کساد بازاری چل رہی تھی، جان اسٹین بیک نے کچھ ایسا کیا جو عام لکھاری کبھی نہیں کرتے ۔ وہ ایک جعلی نام کے تحت ایک مہاجر کیمپ میں خفیہ طور پر رہنے چلے گئے۔
وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ غریب کسانوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے جنہوں نے سب کچھ مٹی اور خشک سالی کی وجہ سے کھو دیا تھا اور بہتر زندگی کی امید میں کیلیفورنیا آئے تھے۔
لیکن انہیں اس کے بجائے بھوک، نفرت، اور طاقتور لوگوں کے کھیتوں میں سخت محنت ملی۔ اسٹین بیک نے کہا، "اگر تم کسی آدمی کے درد کو سمجھنا چاہتے ہو، تو تمہیں اس کے ساتھ کیچڑ میں چلنا ہوگا۔" تو وہ مزدوروں کی طرح لباس پہنتے، ان کا کھانا بانٹتے، اور ستاروں کے نیچے کیمپ کی آگ کے پاس ان کی کہانیاں سنتے۔
ان راتوں سے ان کی سب سے مشہور کتاب، The Grapes of Wrath، سامنے آئی۔ جب یہ 1939 میں شائع ہوئی، تو اس نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ امیر زمین داروں نے اسے جھوٹا کہا، چرچ نے کتاب پر پابندی لگا دی، اور FBI نے اسے "خطرناک" قرار دیا۔ لیکن جو غریب مزدور اس زندگی سے گزرے تھے، انہوں نے جب یہ پڑھی تو رو پڑے۔
اس نے سچ کہا، ہر ایک مزدور نے کہا۔
اسٹائن بیک نے بعد میں پلٹزر اور نوبل انعامات جیتے، لیکن وہ کبھی بھی ان لوگوں کو نہیں بھولے جن کے بارے میں اس نے لکھا۔ "میں حالات سے فرار والا ��کھاری نہیں ہوں،" اس نے کہا۔ "میں ان لوگوں کا لکھاری ہوں جو بھاگ نہیں سکتے۔" اس کے الفاظ ہمیں ابھی بھی یاد دلاتے ہیں کہ جدوجہد اور تکلیف میں گزارنا ہی اصل ہمت ہے، اور ایک عزت جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
ملازم سٺ سال گورنمينٽ کي ارپي ٿو ،جڏهن رٽائر ٿي ٿو تہ اُنهيءَ جي اُميد رٽائرمينٽ جِي پينشن ھوندي آھي ڇو تہ اُنهيءَ کان پوءِ ان جي جسم ۾ توفيق ناھي جو ٻيو ڪو ڌنڌو ڪري سگهي. گورنمينٽ اھا پينشن ڪٽي ملازم کي پنڻُ تي مجبور نہ ڪري.
#JusticeForSindhEmployees
ہمارے کچھ لوٹے گئے حقوق ہیں، جو آئین میں ترمیم کرکے ہم سے چھین لیے گئے ہیں۔ اگر ہم بااثر ہوں گے، یہاں کے نمائندے ہوں گے (کسی بھی شکل میں)، چاہے اسمبلی میں نمائندے بن کر جائیں یا — اگر ہمیں اسمبلی میں آنے نہ دیا جائے، تب بھی جب کروڑوں لوگ اپنا حق مانگیں گے اور ہم پر اعتماد کریں گے تو ہم وہ حق واپس لے بھی سکتے ہیں…!
سنڌ جي ملازمن جو آواز دنيا جي ڪنڊ ڪڙڇ ۾ پھچائڻ لاءِ ٽويٽر ايڪس سروس تي ساٿ ڏيو...
تالابندي جي هن ٻئي مرحلي ۾ اليڪٽرانڪ، پرنٽ ميڊيا سان گڏوگڏ سوشل ميڊيا تي وڌيڪ فوڪس ڪريو خصوصي طور ايڪس ٽوئيٽر..
#JusticeForSindhEmployees
ہم آل سندھ ایمپلائز الائنس کے تمام مطالبات اور احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ پنشن میں کٹوتی، ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس سے محرومی اور گروپ انشورنس جیسے بنیادی حقوق نہ دینا ملازمین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو کا حالیہ بیان دھوکہ ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو کے بیانات میں کھلا تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ سنگین مذاق کیا جارہا ہے۔ سندھ کے چھ لاکھ ملازمین کے ساتھ کسی بھی دھوکہ دہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
سندھ کے سرکاری ملازمین دوسرے صوبوں اور وفاقی ملازمین کی طرح مساوی الاؤنس اور تنخواہوں کے حقدار ہیں۔ جن سے سندھ کے ملازمین کو محروم رکھنا سراسر استحصال ہے. ملازمین کے خلاف جبر یا انتقامی رویے ناقابل قبول ہیں۔
اگر ان کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا گیا تو سندھ یونائیٹڈ پارٹی آل سندھ ایمپلائز الائنس کے ملازمین کے ساتھ پرامن جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
ہم صوفی لوگ ہیں
ہم سندھی لوگ ہیں
امن و امان چاہتے ہیں
نہ ہی جھگڑے
نہ ہی جنگیں
نہ ہی شیطان چاہتے ہیں
نہ ہی ہندو
نہ ہی مومن
نہ میری ذات ہے کوئی
میں جو ہوں سو ہوں
تیرا احسان چاہتے ہیں
نہ ہی جھگڑے
نہ ہی جنگیں
نہ ہی شیطان چاہتے ہیں
ہم صوفی لوگ ہیں
ہم سندھی لوگ ہیں
امن و امان چاہتے ہیں
ہمارا دین اور مذہب تو ہے انسان سے محبت
ہم تو سچل سا صوفی
سچا انسان چاہتے ہیں
نہ ہی جھگڑے
نہ ہی جنگیں
نہ ہی شیطان چاہتے ہیں
نہ ہی جنت
نہ ہی دوزخ
نہ ہی حوروں کے ہم طالب
ہمارا عشق ہے جس سے
وہی رحمان چاہتے ہیں
نہ ہی جھگڑے
نہ ہی جنگیں
نہ ہی شیطان چاہتے ہیں
ہم تو صوفی ہیں
ہم تو سندھی ہیں
امن و امان چاہتے ہیں
95 سال کی عمر میں، عالمی شہرت یافتہ ماہرِ لسانیات، فلسفی، اور سیاسی مفکر نوم چومسکی اب اس طرح بول یا لکھ نہیں سکتے جیسے وہ پہلے کرتے تھے۔ عمر اور بیماری نے اس کی آواز کو خاموش کر دیا ہے۔
لیکن کئی دہائیوں تک، چومسکی کے الفاظ کبھی خاموش نہ ہوئے۔ اس نے زندگی بھر طاقتوروں کو چیلنج کرنے میں گزارا، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ می��یا کس طرح تاثر کو تشکیل دیتا ہے، حکومتیں کس طرح جنگ لڑتی ہیں، اور عدم مساوات کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس نے تسلی کے لیے بات نہیں کی، وہ جگانے کے لیے بولتا رہا۔
وہ کبھی اندھا پیروکار نہیں چاہتا تھا۔ بالکل برعکس وہ اندھی پیروکاری کو لوگوں کو غیر فعال اور فرمانبردار رکھنے کا زبردست طریقہ ہی سمجھتا رہا، اس کی کال ہمیشہ ایک جیسی رہتی تھی، وہ کہتا تھا کہ نظام سے سوال کریں، تاریخ کا جائزہ لیں، اور اگر آپ حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ مل کر تنظیم سازی کریں۔
چومسکی نے آسان جوابات نہیں دیے۔ اس کے بجائے اس نے جو دیا وہ ایک تیز عدسہ تھا، دنیا کو دیکھنے کا ایک ایسا طریقہ جس سے نسلوں کو بہتر اور بہادر سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔
اس کی جسمانی آواز شاید اب دھندلی ہو رہی ہے، لیکن اس کے الفاظ اب بھی گونج رہے ہیں۔ کلاس رومز میں۔ لائبریریوں میں۔ احتجاج میں۔ خاموش کونوں میں جہاں لوگ اب بھی اپنے لیے سوچنے کو تیار ہیں۔
نوم چومسکی کا سب سے بڑا تحفہ یہ نہیں تھا کہ اس نے کیا کہا، لیکن اس نے ہمیں کس طرح سننا، شک کرنا اور مزید مطالبہ کرنا سکھایا۔ اور اس آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جائے گا۔
اقبال احمد انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گئے۔ 1947 کی ہجرت میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے۔ ایف سی کالج میں داخلہ لیا، اکنامکس میں ڈگری حاصل کی اور آگے چل کر اسکالرشپ پر امریکا کے کیلی فورنیا کالج جا پہنچے۔ وہاں سیاست اور مڈل ایسٹ ہسٹری ان کے علمی سفر کا مرکز بن گئی۔ ابنِ خلدون کے فکر نے ان کی سوچ کو ایسا جکڑا کہ وہ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ کی تاریخ کے مطالعے کے لیے وقف ہو گئے۔
وقت کے ساتھ وہ نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے عالمی دانشوروں کے دوست بن گئے۔ بڑے بڑے علمی دماغوں کی صحبت نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور وہ جنگ کے مخالف اور عالمی معاشی نظام کے ناقد بن گئے۔ دنیا بھر میں لوگ ٹکٹ خرید کر ان کے لیکچر سنتے اور بڑے مفکرین ان سے متاثر ہوتے۔
1997 میں میاں نواز شریف نے انہیں پاکستان بلایا۔ ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی سربراہی دی اور اسلام آباد میں ایک خودمختار یونیورسٹی کے لیے زمین الاٹ کی۔ اقبال احمد اس کا نام ’’خلدونیہ‘‘ رکھنا چاہتے تھے۔ حکومت نے چارٹر بھی جاری کیا مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہوئے اور 11 مئی 1999 کو آپریشن کے دوران ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر امریکا میں ہیمپشائر کالج میں تعزیتی تقریب ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے لوگ شریک ہوئے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ وہ کس درجے کے عالمی دانشور تھے۔
پاکستان واپسی کے بعد ایک دن ان سے پوچھا گیا کہ آپ امریکا یا یورپ کی کون سی چیز کو سب سے زیادہ مس کرتے ہیں؟ وہ مسکرا کر بولے: ’’اچھی گفتگو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس گفتگو کے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے، ریڑھی والے ہوں یا دفتر کے افسر، سب کی گفتگو صرف سیاست اور سکینڈلز تک محدود ہے۔ کوئی بھی موضوع چند منٹوں میں سیاست کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ دنیا میں لوگ شخصیات پر نہیں بلکہ آئیڈیاز پر بات کرتے ہیں۔
اقبال احمد نے یہ بات 25 برس پہلے کہی تھی۔ آج جب ہر طرف سوشل میڈیا کا شور ہے تو ان کے الفاظ اور بھی سچ لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں روزانہ لاکھوں الفاظ بولے جاتے ہیں لیکن ان کا نچوڑ صرف سیاست، سکینڈلز اور غیر مصدقہ باتیں نکلتی ہیں۔ اچھی گفتگو کے لیے مطالعہ، تحقیق اور نئے آئیڈیاز ضروری ہیں۔ جب پڑھنے اور سوچنے کی عادت ہی ختم ہو جائے تو مکالمہ بھی بانجھ ہو جاتا ہے۔