بہن اسماءجتک کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے زبردستی شادی سے انکار کیا،
باپ،شوہر،سمیت متعدد معصوم جانوں ، کی جان لے گئیں،
آج اسماء جتک ریاست سے اپنی اور فیملی کی حفاظت کی بھیک مانگ رہی ہے۔
پریس کلب کوئٹہ: امیرِ جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب، آل پارٹیز کے رہنماؤں کے ہمراہ بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
بلوچستان کی پوری حکومت وزیراعلی سمیت،پوری اسمبلی،ریاستی ادارے، خضدار کی ایک معصوم لڑکی اسماء جتک کو تحفظ نہیں دے سکتے؟ ان کی والد کو شہید کیا گیا۔یہ سرکارہے یا جھوٹوں کی ایک منڈی ہیں؟
صرف دعوے ، وعدے، نعرے ، عملی کار کردگی کچھ نہیں۔
کبھی کہا گیا فلاں سیاستدان سیکورٹی رسک ہے،
پھر وہی اقتدار میں لایاگیا ، کبھی کہا گیا فلاں کا جیل میں ہونا نظام کی مضبوطی کےلئے ضروری ہے،پھر وہی واپس اقتدار کےلئے موزوں قرار پایا۔
کبھی عدلیہ کی آزادی ناگزیر تھی، پھر عدلیہ رکاوٹ قرار دے کر
محدود کردیا گیا۔
پختونخوا میں جاری بدامنی ،دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے صحافی کے سوال پر علیمہ نیازی کا پشتونوں کے حوالے سے فکر مندی تو دیکھئیے۔
کل کو یہی پشتون پرائی شادیوں میں ناچیں گے۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سینئر صحافی شاکر سولنگی سے فون پر رابطہ
مولانا فضل الرحمان نے نوجوان بیٹے کی وفات پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا
مولانا فضل الرحمان نے مرحوم کی بلندی درجات کے لئے دعاء کی
مولانا فضل الرحمان نے شاکر سولنگی سے اظہار افسوس کیا اور تسلی دی
غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہوں،مولانا فضل الرحمان
جوان اور تعلیم یافتہ بیٹے کی موت خاندان اور خصوصا والدین کے لئے بڑا صدمہ ہے،مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے،مولانا فضل الرحمان
سوات امن مظاہرے کے دواران بم حملہ افسوسناک ہے
اللہ پاک شہداء کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے
زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جائے
لواحقین کے دکھ درد میں شریک اور ان کے لئے صبرجمیل کی دعاء کرتا ہوں
جے یو آئی کارکن اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتے ہوئے فوری متاثرین کی مدد کریں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
محسن نقوی کے بیان پر ترجمان جےیوآئی کا ردعمل
ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس کا خالق خود کر رہا ہے۔ ترجمان جےیوآئی
مولانا فضل الرحمن پچھلے دو سال سے اس نظام کی ناکامی کا بار بار کہہ رہے ہیں۔ اسلم غوری
سسٹم کی خرابی اور کمزوری کا تو بچے بچے کو علم ہے ۔ترجمان جے یو آئی
وفاقی وزیر کی اپنی ہی حکومت کیخلاف چارج شیٹ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلم غوری
طے یہ کرنا ہے کہ اس سسٹم کے خالق کون اور اسکی خرابی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
ہائبرڈ نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے دونوں ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔اسلم غوری
نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین ، اسمبلیوں کی خرید وفروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں ۔اسلم غوری
آئین سے ماوراء ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے ۔ترجمان جےیوآئی
جے یو آئی کے خلاف پروپیگنڈہ ہمیں آئین کے تحفظ کی سزا دی جارہی ہے ۔اسلم غوری
قیادت کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں۔(ڈی جی آئی ایس پی آر)
جناب:بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی رویہ ہے کہ 78سال بعد بھی مسئلے کو تسلیم ہی نہیں کیا جارہا،بلکہ مسئلہ ہی نہیں سمجھا گیا،اور نہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔
(یعنی گونگے،بہرے،کانے قیادت)تو ایسی قیادت نہ ملک کے حق میں ہے اور نہ جمہوریت کی حق میں ہے۔
جناب:کوئی منطقی ، اور معقولی بات تو کرے۔۔۔یعنی دلیل سے۔
مطلب آپ نے اعتراف کردیا کہ ہائبرڈ نظام ناکام ہوچکا ہے۔
اور اکٹر یہ چنگاری آگ بن جاتی ہے اور طاقت کے محلات کو
جلا کر رکھ دیتی ہے۔
یہ تاریخ میں بار بار دیکھا گیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ اقتدار کا نشہ حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنے نہیں دیتا۔
جب حکمرانوں کو لگنے لگے کہ پارلیمنٹ ، میڈیا ، عدلیہ ، اکثر سیاسی پارٹیاں ، شخصیات اور ہر مؤثر ادارہ ان کے قابو میں ہیں ، تو سمجھ لو کہ تاریخ ایک نئی چنگاری تیاری کر رہی ہے۔
اولوالامر یعنی حاکم وقت کی بات سننا اور اس پر عمل کرنا لازمی ہے ، بشرطیکہ وہ برائی کا حکم نہ دے۔اگر اولوالامر یعنی حاکم وقت نے برائی کا حکم دیا۔ پھر ان کا نہ سنا اور اس کی تعمیل نہ کرنا لازمی ہے۔حدیث رسول ص۔
اطلاعات کے مطابق آزاد جموں کشمیر میں،مقبوضہ جموں کشمیرجیسا خونی منظر ہے۔وہاں تو انڈین فوج کے ہاتھوں عوام کا خون بہایا جا رہا ہے۔یہاں تو انڈین فوج نہیں،پھر اپنے کشمیری بھائیوں کا خون کس جرم میں بہایا جارہاہے؟
کیا ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب خونی اسٹیٹ ہے یا فلاحی اسٹیٹ؟
جس آزاد کشمیر کو شہ رگ کہا جاتا رہا آج اسی سے خون بہہ رہا ہے،لاشیں گر رہی ہیں ، خوف ہے۔۔
کشمیریوں کے پرامن احتجاج کا جواب گولیوں سے دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایک طرف الیکشن کے دعوے، دوسری طرف کشمیری عوام کی آواز گولیوں سے خاموش کر نا کیا یہ جمہوریت ہے؟ قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔
تو آپ کے بلند وبانگ دعوؤں کا نتیجہ کہاں ہے؟ ثابت ہوا کہ مسلط کردہ ہائیبرڈ نظام ناکام ۔
لہذا وقت آگیا ہے۔ ناکامی کو تسلیم کیا جائے۔ملکی سسٹم کو جمہور ، آئین ، قانون ، اور خود مختار پارلیمنٹ کے حوالے کیا جائے۔
جے یو آئی نے ہمیشہ صاف ستھری اور سنجیدہ سیاست کی ہے ۔
الحمد للّٰہ ہر قسم کی کرپشن سے اپنا دامن بچا کر رکھا
تشدد سے اپنے کارکن کو دور رکھا مگر اس کے باوجود ہمیشہ ہمارے اکابرین کی منظم کردار کشی کی گئی تاکہ لوگ ان کے نزدیک نہ ہوں
#حق_کی_آواز_جمعیت#عوام_مولانا_کے_سنگ