پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ کچھ غلط دعوے؛ کچھ اصلی حقائق ۔۔۔!!!!
حقیقت یہ ہے کہ لانگ مارچ “نک دا کوکا” کی تحریک اور پی ٹی آئی کے لیے تباہی و بربادی کا پھندا بنتا جارہا ہے۔۔۔!!!!
وزیراعلیٰ سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لانگ مارچ میں آئے تاکہ ہیلی کاپٹر دیکھنے والے ہجوم کو بھی لانگ مارچ کا حصہ دکھایا جا سکے۔ اسی طرح قافلے کا اجتماع کرک میں ایک انتہائی تنگ گلی میں کیا گیا تاکہ اسے بڑا اجتماع ظاہر کیا جا سکے۔ ان تصاویر کو بی بی سی اور الجزیرہ کو فراہم کیا گیا تاکہ ناکام لانگ مارچ کو بڑا اور کامیاب ظاہر کیا جا سکے
شفیع جان اور شاہد خٹک کے علاوہ پی ٹی آئی کا کوئی دوسرا مقامی رہنما، مثلاً مینا خان، جنید اکبر، اسد قیصر وغیرہ لانگ مارچ میں نظر نہیں آ رہے
پی ٹی آئی کی جانب سے سابقہ احتجاجی مظاہروں کی جعلی یا پرانی ویڈیوز اور تصاویر کو موجودہ لانگ مارچ سے منسوب کرکے پیش کیا جا رہا ہے
کوہاٹ میں بھی مبینہ طور پر مائننگ ورکرز، جو ان کے ملازمین ہیں، ان کو لانگ مارچ میں شرکت کے لیے جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ عوام کی ناکام شرکت کو بھرا جا سکے
اب تک کسی بھی موقع پر لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد 500 سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 1,000 تک نہیں بھی پہنچ سکی ۔۔۔!!!
اسرائیلی موساد اور انڈین راء کے پانچ سالہ پرانے تجربات کی روشنی میں۔۔۔اور۔۔۔اپریل 2022 سے لے کر آج تک امریکن سی آئی اے کے سابقہ اہلکار جبران الیاس کی سرپرستی میں آج پھر فیک نیوز اور جعلی پراپیگنڈہ عروج پر ہے۔۔۔۔پرانے سیاسی جلسے جلوسوں کی تصاویر لگا کر پاکستان کی عوام کے جذبات سے کھیلا جارہا ہے اور عوام کو مِس گائیڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔”نک دا کوکا” کی تحریک کُتے کی وہ دُم ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔۔۔یہ فتنہ ہے اور دُنیا کے ہر مذہب میں فتنہ فی الارض کُفر سے بدتر ہے۔۔۔!!!
اِس معاہدے میں حکومت کی طرف سے کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ خدا کا واسطہ ہے اپنا لانگ مارچ کینسل کر دو۔۔کیونکہ۔۔اِس مارچ کی وجہ سے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں۔۔۔اللہ کا واسطہ ہے کہ تمہارے لانگ مارچ کی وجہ سے ہماری حکومت کی مدت شارٹ ہوتی جارہی ہے۔۔۔!!!!
جو کچھ لکھا ہے ملک قوم عوام اور خصوصاً کی پی کے کی عوام کی بہتری کے لیے لکھا اور مطالبہ کیا۔۔!!!
اِن مطالبات کو اگر “نک دا کوکا” کے قائدین اور کے پی کے کا وزیر اعلی نہیں مانتا تو کے پی کے کی عوام کو جان لینا چاہیے کہ۔۔۔یہ سیاسی آوارہ گردوں کی حکومت اور “نک د�� کوکا” کی تحریک پاکستان اور KPKکی عوام سے کتنی مخلص ہے۔۔۔!!!!
🚨🚨حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ حتمی سیکیورٹی مذاکرات کا خلاصہ -
حالیہ اعلیٰ سطحی سیکیورٹی مذاکرات کے دوران، حکومتِ خیبر پختونخوا نے ابتدائی طور پر ایک باضابطہ تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک جامع لائحہ عمل (امپلی منٹیشن پلان) جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔ اس زیرِ بحث فریم ورک میں درج ذیل اہم نکات-
🚨 قانون سازی کا جائزہ: موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اور پولیس کے معاملات کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کے لیے "پولیس ایکٹ 2026" پر ازسرِ نو غور۔
🚨 دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ: صوبے بھر میں دہشت گردوں کو آزادانہ کارروائیوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے قیام سے روکنا۔
🚨 واضح اور بلا مشروط مذمت: ٹی ٹی پی (TTP)، ٹی ٹی اے (TTA) اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کی پرزور اور واضح مذمت۔
🚨 افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی: افغان مہاجرین کی ��طن واپسی اور کے پی میں قائم افغان کیمپوں کے خاتمے سمیت وفاقی پالیسی کی مکمل حمایت۔
🚨 افغان عبوری حکومت سے رابطہ پر پابندی: افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست یا باضابطہ رابطے سے گریز۔
🚨 دہشت گردی کے خلاف مالی اعانت: پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے ٹھوس اور باقاعدہ فنڈز کی فراہمی۔
🚨 قومی ملکیت اور ہم آہنگی: انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی مکمل صوبائی ملکیت کا مظاہرہ اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون و اشتراک کو مزید مضبوط بنانا۔
🚨 ضم شدہ اضلاع سے متعلق فیصلے: سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے مربوط پالیسی فیصلے کرنا۔
🚨 نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد: نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد۔
“ُنک دا کوکا” کی تحریک قیدی نمبر 420 کی رہائی سے بانی تحریک انصاف کی رسائی کے مطالبے پر پہنچی۔۔۔اور پھر۔۔۔رہائی اور رسائی کا سفر طے کرتے کرتےاُمتِ مسلمہ کے عظیم نوسرباز کی “دوائی” کے ترلوں پر آگئے۔۔۔ترلوں سے کچھ نہیں ہوا تو لانگ مارچ کی دھمکیاں دی گئی۔۔۔۔لیکن ریاست نے “کوکلا چھپاکی جمعرات آئی اے۔۔جیہڑا اگے پچھے دیکھے اودی شامت آئی اے” والا ایسا ماحول بنایا کہ اکابرینِ نک دا کوکا نےلانگ مارچ کا رُخ اسلام آباد(بقول پی ٹی آئی سومنات) کی طرف کرنے کے بجائے غزنی کی طرف(ڈیرہ اسماعیل خان) کی طرف کردیا۔۔۔یعنی کہ۔۔۔”کھوتا میرا کھاریاں تے سوگ وزیر آباد” والا ماحول فُل آن ہے۔۔۔!!!!
اب تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ فارم 47 والی ناجائز حکومت اور بقول ن لیگ کی کافرانہ حکومت کے نمبر 3 اور نمبر 4 کے ساتھ بیٹھ کر بانی تحریکِ انصاف کی رسائی کی رُسوائی کی کالک اپنے منہ پر مل کر لانگ مارچ کال آف کریں گے اور اپنے کانوں اور تشریف کو ہاتھ لگا کر توبہ کریں گے کہ آئندہ لانگ مارچ کی تڑیاں تو دور کی بات کسی شارٹ مارچ کی رائے دینے سے بھی ساری زندگی اجتناب کریں گے۔۔۔مزید یہ کہ کافرانہ جابرانہ اور قاہرانہ حکومت سے منتیں اور ترلے عروج پر ہیں کہ قیدی نمبر 420 سے ملاقات کروا دی جائے۔۔۔تاکہ فیس سیونگ اور رُسوائی کی شیونگ ہوجائے۔۔۔۔!!!!!
مبشر زیدی۔۔۔۔میں تمہیں نہیں جانتا۔۔لیکن تم باہر کے ملک میں بیٹھ کر نبی پاک ٌ کی ذات اقدس کے حوا��ے سے اِس طرح کی گفتگو کرکے اپنی دُنیا اور عاقبت کو تباہ و برباد کر رہے ہو۔۔۔تمہارا یہ بیانیہ اور مسلسل نبی پاکٌ کی ذات اقدس پر بالواسطہ اور بلا واسطہ تنقید کے آفٹر افیکیٹ تمہیں فیس کرنے پڑ جائیں گے۔۔۔میری تم سے دست بدستہ گذارش ہے کہ اپنی منطق استدلال اور علم الکلام کے تازیانے کہیں اور اور کسی اور ہستی پر آزماؤ۔۔۔تمہارے اِن ٹویٹس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔۔!!!
دنیا وآخرت کی سب سے خوبصورت،حسین،جمیل،ذہین،خاتم النبینٌ،قائدِانسانیتٌ،محسنِ انسانیت اور محبوبِ خدا کے بارے میں تمہاری یہ طرزِ تحریر ابلیسیت اور شیطانیت کی معراج ہے۔۔۔۔!!!!
میں نے نبی پاکٌ سے محبت کرنے والے اربوں کھربوں انسانوں،جنوں،جانوروں،جمادات،ملائکہ اور ہر مخلوق کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے ادب سے سمجھا دیا ہے۔۔۔۔آگے تمہاری مرضی۔۔۔جس ایجینڈے پر تم ہو وہ میں اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہوں۔۔۔!!!!
اسلامی تاریخ میں لکھا ہے کہ رسول پاک کا کنیزوں سمیت تیس خواتین سے تعلق رہا اور ان میں سے کئی کو انھوں نے طلاق بھی دی۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ واقعی ایسا ہوا۔ میں یہ بتارہا ہوں کہ اسلامی تاریخ میں ایسا لکھا ہے۔
لوگ مضحکہ خیز اسلامی تاریخ کے بجائے مجھے کوسنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یا علم الرجال پڑھانے لگتے ہیں۔ یا اپنے مسلک کی تبلیغ شروع کردیتے ہیں۔
جب میں اپنی ویب سائٹ پر مضمون لکھتا ہوں تو اس میں تمام حوالے پیش کرتا ہوں۔ لیکن فیس بک یا ایکس کی مختصر پوسٹ میں حوالہ جات کی فہرست نہیں دی جاتی۔ یہ فرق سمجھنا چاہیے۔
ضعیف، احسن، مرسل، احادیث اور روایات کے تمام درجے مجھے معلوم ہیں۔ یہ جلیبیاں اس لیے تلی جاتی ہیں کہ جہاں اپنے مذہب یا مسلک کے خلاف بات جارہی ہو، وہاں ڈیمیج کنٹرول کیا جائے۔
بعض دوست اعتراض کرتے ہیں کہ پہلے آپ یوں لکھتے تھے، اب یوں لکھ رہے ہیں۔ یوں نہیں، ووں لکھنا چاہیے۔
بھائیو اور بہنو، میں کسی سے اجازت لے کر، کسی کی فرمائش پر یا کسی کی خوشی کے لیے نہیں لکھتا۔
ان سبسکرائب، ان فرینڈ، بلاک، جو بھی کرنا ہے، فوراً کر گزریں ورنہ جذبات متاثر ہوتے رہیں گے۔
فیاض الحسن چوہان نے سہیل آفریدی کو جنگل کے عارضی بادشاہ بندر سے تشبیہہ دیتے ہوئے ایک زبردست کہانی سنائی ہے، ذرا آپ بھی سنیے
مکمل ویڈیو دیکھیے
https://t.co/YRO2Yoxh1A
سہیل آفریدی کی کرپشن کی داستان بھی ایک چرواہے کی طرح ہے جسے بادشاہ نے اپنی سلطنت سونپی، کیا ہی کمال کا لطیفہ ہے۔۔۔!!!!
سنیے فیاض الحسن چوہان کی زبانی۔۔۔!!!
ماں صدقے جائے۔۔تے۔۔پیو ڈسکے جائے۔۔۔!!!
سہیل آفریدی کے منہ میں چوسنی اور “تشریف” پر ڈائپر باندھ کر اور گود میں اُٹھا کر شہداء کے گھر لے جایا جائے اور پھر اُسے سکھایا جائے کہ کیسے ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرنی ہے اور پھر “چھونو مونو” کو ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں لے جاکر یقین دلایا جائے کہ جنابِ والا۔۔۔آپ پاکستان کے سب سے حساس صوبے وزیر اعلی ہیں۔۔۔۔!!!!
سہیل آفریدی نہ ہوا۔۔سولہ سالہ گھریلو دوشیزہ ہو گئی۔۔۔جسے پتہ ہی نہیں ہے کہ زندگی اور ذمہ داری نبھانے کے کیا طور طریقے ہوتے ہیں۔۔۔!!!!
می��ے بھائی علی محمد خان۔۔۔یہ نوسر بازیاں اور منافقتیں اب چھوڑ دے اور کلمہ حق بلند کر کے یہود و نصاریٰ اور اجیت دول نیٹ ورک کے ایجنڈے اور ختم نبوتٌ کے منکروں کی سرپرستی میں چلنے والی اِس “نک دا کوکا” کی تحریک کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ دو۔۔۔۔۔!!!!
حکومت آپ کا پروگرام دیکھتی ہے میں آپ کے پروگرام کے ذریعے تجویز دیتا ہوں وزیراعظم صاحب پاکستان واپس آ کر پشاور آئیں، سہیل آفریدی کو ساتھ لے کر شہداء کے گھر جائیں، پھر ایپکس کمیٹی اجلاس بلائیں، سہیل آفریدی کی ذمہ داریاں لگائیں، اگر اس کے بعد بھی وزیراعلی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کی پروگرام “جی فار غریدہ” میں دبنگ تجویز۔۔! 👇👇👇
#GFG
“نک دا کوکا” کی تحری�� قیدی نمبر 804 کی رہائی کے اعلان سے شروع ہو کر قیدی نمبر 420 کی رسائی کی دہائی تک پہنچی۔۔۔پھر۔۔۔قیدی نمبر 420 کی رسائی کی دہائی بانی تحریکِ انصاف کی دوائی کی فراہمی کی التجا میں ڈھل گئی۔۔۔آخر کار۔۔۔رہائی،رسائی اور دوائی کی دہائی بُری طرح پِسپائی کا شکار ہو کر ایسی رُسوائی اور سیاسی بے حیائی کا درجہ حاصل کرنے جارہی ہے۔۔کہ۔۔مستقبل میں دونوں ہاتھ اور ایک ٹانگ اُٹھا کر “نک دا کوکا” پر لڈیاں ڈالنے والوں کی دونوں ٹانگیں اُٹھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔۔۔!!!!!
اپنے دوست،محسن اور ٹیچرز ایسوسشن راولپنڈی کے صدر حماد الرحمن لودھی کے ایصال ثواب کے لیے اُن کے بیٹے اور میرے چھوٹے بھائی ثاقب لودھی نے گھر میں دُعا کا اہتمام کیا۔
قیدی نمبر 420 نے چار سال سے تیتر نہیں کھایا۔۔یہ دعوی کرنے والے بھگوڑے یوٹیوبرز نے قیدی نمبر 420 کے لیے چھتر کھانے کا بندوبست جاری وساری رکھا ہوا ہے۔۔۔!!!!