ہمارا شکایت، ہو سکتا ہے کسی ادارے سے یا اس کے چلانے والے سے، لیکن اس سبز ہلالی پرچم سے نہیں۔ یہ پرچم ہماری پہچان ہے، ہماری عزت ہے، اور ہم اس کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس جھنڈے نے ہمیں دنیا میں مقام دیا ہے اور اس کی عظمت کو برقرار رکھنا ہمارا فرض ہے۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید جب ناصر باغ تھانے میں ایس ایچ او تھے تب شہید نے نہ صرف مراد سعید کی فیملی کے خلاف پرچہ دینے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ مراد سعید کے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئی ایس آئی کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے، تب انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔
کرک کے علاقے لاتمبر میں حملے کے شہدا میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین، ایس ایچ او لاتمبر افضل اعوان، سی ٹی ڈی اہلکار کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد شامل ہیں۔
محبِ وطن پولیس افسران کو جعلی دہشت گردی کے حملوں میں شہید کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLa
عاصم منیر، شہباز شریف، گورنر سمیت تمام وفاقی کابینہ اور کور کمانڈرز آج پشاور میں تھے تو وہ جنازے میں کیوں نہیں گئے؟
یہی ٹولہ سہیل آفریدی پر الزام لگاتا تھا کہ وہ چند جنازوں میں ہی گیا- تو خود سب کہاں گئے؟
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
Inna Lillahi wa Inna Ilayhi Raji’un.
Deeply saddened by the martyrdom of CTD DSP Imranuddin Shaheed in Karak, Khyber Pakhtunkhwa, we mourn his exceptional courage, unwavering integrity, and unbreakable commitment to duty. A fearless officer, he survived repeated assassination attempts, bomb blasts, and gunfire, refusing to let fear dictate his choices.
Despite being wounded, his resolve never faltered. When offered a safer posting, he refused, saying, “The terrorists will think I got scared.” His words capture his refusal to surrender to fear. For him, duty was a commitment upheld with honor, courage, and extraordinary responsibility.
From leading high-risk operations to safeguarding his people, DSP Imranuddin chose to lead from the front, even when the cost was his life. He had every reason to step away from danger, yet he remained steadfast in his mission until his final breath.
Pakistan has lost a brave son, Khyber Pakhtunkhwa has lost a devoted protector, and his fellow officers have lost a comrade whose courage will remain an enduring example of service and sacrifice.
His martyrdom is a profound loss, but his legacy will live on in his courage, duty, and the lives he sought to protect.
May Allah Almighty grant DSP Imranuddin Shaheed the highest ranks in Jannat-ul-Firdous, accept his sacrifice, and grant his family, loved ones, and colleagues the strength and patience to bear this devastating loss.
Ameen.
Pakistan under dictatorship of Asim Munir:
23% extreme poverty
168th on Human Development
25–26 million children out of school
#1 on the Terrorism Index
While India and Bangladesh moved forward, Pakistan under military dominance went backwards.
These are not accidents. These are the results of a system that prioritizes power over people.
#ReleaseImranKhan
تیرا آپریشن کے لیے 24 رکنی کمیٹی جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی میں پانچ رکنی کمیٹی کا کردار ایک جیسا ہوگا ۔ انہوں نے قبائل کو دربدر کیا ۔ یہ معدنیات کے زمہ دار ہیں ۔ معدنیات کو امریکہ کے حوالے کیا تو قبائل کو جواب دینا ہوگا ۔
ایم این اے اقبال آفریدی
بلی تھیلے سے باہر!
شاکر اعوان
@ShakirAwan88
دہشت گردی آئی نہیں دہشت گرد لائے گئے۔ عوامی حکومت کو ناجائز طور پر گرانے اور عوامی نمائندوں کے جبری اغواء کے بعد اصل عزائم سامنے آرہے ہیں۔
باڑہ میں ہونے والا سانحہ Mineral Massacre ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید ملٹری کورٹس کے سزا یافتہ چھ اسیران کی پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) کو لکھا گیا خط: سزا سنا دی گئی، مگر اپیل کا حق، قانونی دفاع اور اپنے مقدمات کی دستاویزات تک رسائی بھی چھین لی گئی!
محمد عمر فاروق، محمد دانش، علی حسن، فریاد خان، احسان اور عبداللہ نے مئی 2023 کے احتجاج کے مقدمات میں اپنی سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے اور وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا حق بحال کرانے کے لیے HRCP سے باضابطہ مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اسیران کے مطابق، انہیں فیصلوں کی نقول اور ضروری قانونی کاغذات فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ اہلِ خانہ سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں۔
انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، سزا کے خلاف اپیل اور اپنا دفاع کرنے کا حق بھی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔ HRCP سے مطالبہ ہے کہ ان حقوق کی بحالی کے لیے فوری ضروری اقدامات کرے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
#ReleseMilitaryPrisoners
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا آج یومِ شہادت ہے۔ قائداعظم سے جان چھڑوانے کے بعد یہ جرنیلی ٹولہ اقتدار پر مکمل اختیار چاہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ایک فوجی سپاہی تھا، جسے انکوائری اور گرفتاری میں لینے کی بجائے گولی مار دی گئی۔ اس کے خاندان کی اسی دن فوج سے پنشن لگ گئی۔ اس کی بیوی، جس کا انتقال چند سال پہلے ہوا، کو فوج نے گھر بھی دیا، اور آج بھی اس کی اولاد اس پنشن کے مزے لے رہی ہے اور امریکہ میں مقیم ہے۔
ہماری مادرِ ملت، جنہوں نے جمہوریت کا علم بلند کیا اور متحرک ہو گئیں، ان کے مقابلے پر آمر ایوب خان کی رعونت اور جسارت تو دیکھیے کہ اُس نے فاطمہ جناح کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ ایوب خان دھاندلی کرکے ان سے الیکشن جیت گیا، لیکن پھر بھی جرنیلی رعونت ختم نہ ہوئی۔ فاطمہ جناح کو زندگی ہی میں رسوا کرنا شروع کر دیا گیا، ان کے اوپر پانی چوری جیسے مقدمے بنائے گئے۔ تب بھی بدلے کی آگ ختم نہ ہوئی تو اس جرنیلی ٹولے نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دل لرز اٹھے گا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً میرے نوجوانو! میں آپ کو دہائیوں سے ان کے کردار اور ان کی حرکتوں کی طرف متوجہ کرتا آ رہا ہوں۔ خوشی ہے کہ ان کا یہ کردار عمران خان کے تسلسل سے آپ تک پہنچا۔ ان کے منہ کو آپ کا خون لگ چکا ہے۔
عاصم منیر کی رعونت اور فرعونیت کا بھی وہی عالم ہے۔ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی تذلیل سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
جس دن اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اسی دن گیم واضح ہو گئی تھی۔ سہیل سے انہیں کیا مسلہ تھا۔
پورا سال ڈرون پر خاموشی۔
فوج آپریشن پر 22 ارب سہیل نے دئیے۔ اور فوجی آپریشن چلتے رہے۔
بجٹ پاس کر دیا۔
معدنیات نکالے جا رہے تھے۔
جیو ARY ایکسپرس پر انٹرویو ہو رہے تھے۔
خان قید تنہائی میں رہا۔ گیارہ ماہ خاموشی۔
خان کی بہنیں قید میں۔
پولیس ایکٹ پاس نہ ہوا۔
دفعہ 144 کوئی قانون سازی نہیں
چادر چار دیواری پر کوئی قانون سازی نہیں۔
کے پی میں پہلے دن سے آخری دن تک انکے افسران لگے رہے۔
کیا کیا ایک سال میں جو وہ ہٹانا چاہتے تھے۔ یہ فرمائشی بیان تھے۔ اور کچھ نہیں۔
جنرلز کی خواہش پر پچھلے ایک سال میں KP حکومت نے 22 ارب خرچ کئے دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر۔
اب ہماری قسمت دیکھیں۔ آج وہی جنرلز اور ٹاؤٹ کہتے ہیں یہ Pti والے دہشت گردی پر تعاون نہیں کرتے۔ اس سے پہلے گنڈاپور نے بھی 9 ارب اسی کام کے دئیے۔
ہم نے انکو ننگا کیوں نہ کیا اس سب پر۔ یہ اصل فگرز ہیں
عاصم منیر مر کر بھی کبھی خان کو کوئی ریلیف نہیں دے گا۔ محسن نقوی نے لگاتار میٹھی گولیاں دیں۔ میڈیا میں ٹھنڈی ہوائیں چلائی گئیں۔
جو بھی یہ کہتا ہے کہ فلاں وقت یہ ہونے والا تھا وہ ہونے والا تھا۔ سب جھوٹ ہے۔
آپ کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔ یہ بعد کی بات ہے پہلے آپ میٹھی گولیوں سے خود کو الگ کریں۔ میر جعفروں کو پہچانیں۔
جب تک میٹھی گولیاں۔ ٹھنڈی ہوائیں۔ اور میر جعفر موجود ہیں۔ آپ اپنے آپکو جھوٹی تسلیاں دے سکتے ہیں۔ حاصل کچھ نہیں۔ انہوں نے جو سب سے خطرناک حملہ کیا ہے وہ اندر کا وائرس ہے۔
جنرل باجوہ کو سب سے زیادہ غصہ خان کی طرف سے اپنی تقریر میں میر جعفر میر صادق کے الفاظ استعمال کرنے پر تھا۔
کبھی آپ نے سوچا خان نے یہ کیوں استعمال کئیے تھے۔خان کو باہر والوں کا تو پتہ ہی تھا۔ اصل دکھ خان کو یہ تھا کہ اپنے ہم وطن میر جعفر میر صادق بن گئے۔
اس نے جیل سے بیٹھ کر بھی بازی پلٹ دی۔۔😊
جیل میں تین سال سے قید لیکن اس کا فیض اپنے لوگوں کے لئے جاری ہے۔ جعلی نمونے اقتدار میں بیٹھ کر اپنے لئے اربوں کے جہاز، گاڑیاں ، اپنے ہرکاروں کی عیاشیوں کا سامان کرنے میں لگے ہیں۔!
عمران خان عاصم منیر کی جیل میں ناحق قید کاٹتے ہوئے 1167 دن مکمل کر چکے ہیں۔
ایک سابق وزیراعظم کی طویل ناحق قید اور بنیادی انسانی حقوق پر اٹھنے والے سوالات نظامِ انصاف کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔ اقتدار و طاقت ہمیشہ نہیں رہتے، مگر تاریخ ہر سیاہ دور کے فیصلوں اور ان کے آلہ کاروں کا حساب ضرور رکھتی ہے۔۔۔!!
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں
پاکستان کی عدالتوں کا انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستان میں ووٹوں کا انتخابات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستان کی پارلیمنٹ کا جمہوریت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستانی صحافت کا آزادی اظہار رائے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
حکمرانوں کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
اور
پاکستان کی عوام کا اب ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
کون سا آرمی چیف ایک سیلز میں کی طرح بریف کیس میں پتھر لیکر بیچنے کیلیے نکلتا ہے؟ ہمارا آرمی چیف رئیر ارتھ منرل کے نمونے لیکر گیا یہ شرمناک بات تھی اور قوم کےساتھ پاکستان کیساتھ مذاق تھا۔ ایمل ولی خان