🚨معمولی لڑائی جھگڑے کے دوران ایک شخص سے قتل ہو گیا،معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اور مقتول کے ورثا ��و قصاص کا پورا حق حاصل تھا۔
🚨ایسے نازک لمحے میں قاتل کی کم سن بچیاں قرآنِ مجید اٹھائے مدعی کے گھر پہنچیں اور اپنے والد کی جان بخشنے کی اپیل کی۔
🚨مدعی خاندان نے قرآنِ کریم کو نہایت ادب و ا��ترام سے تھاما، اس کی حرمت کو مقدم رکھا اور اسی واسطے پر قتل معاف کر دیا۔
🚨نہ کوئی مالی مطالبہ کیا گیا اور نہ کسی قسم کی شرط رکھی گئی۔
🚨بلکہ ان بچیوں کے سروں پر چادریں ڈالیں،
🚨انہیں تسلی دی اور اپنی طرف سے نقد رقم بھی عطا کی۔
🚨یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
🚨جب دلوں میں خوفِ خدا اور قرآن کی عظمت جاگ رہی ہو تو انتقام کی جگہ درگزر لے لیتا ہے،
🚨نفرت کے بجائے رحم جنم لے لیتا ہے۔
🚨ایسے ہی فیصلے معاشروں کو ٹوٹنے سے بچاتے اور انسان کو انسان کے قریب لاتے ہیں۔