کچھ وصال آخر تک متعبر نہیں ہوتے
ساتھ چلنے والے بھی ہمسفر نہی ہوتے
کچھ کہے بنا اکثر بولتی ہیں آنکھیں بھی
گفتگو کے سب لمحے حرف گر نہی ہوتے
کتنا خوف ہوتا ہے شام کے اندھیرے میں
پوچھ ان پرندوں سے جن کے گھر نہی ہوتے
عمر بھر نہیں ملتا واپسی کا ��روازہ
آگہی کے زندان میں بام و در نہی ہو
اس ڈر سےمیں قمیص کبھی جھاڑتا نہیں
کب جانے آستین سے احباب گر پڑیں
جاگیں تو احتیاط سے پلکوں کو کھولئے
ایسا نہ ہو آنکھوں سے خواب گر پڑیں
اتنا بھی مت بڑھایئے رخت سفر کہ کل
جب پوٹلی اٹھائیں تو اسباب گر پڑیں
رہنے بھی دیں نہ منھ مرا کھلوائیے جناب
ایسا نہ ہو کہ آپکے القاب گر پڑیں
Perhaps it isn't really a scream but a feeling
with sound, one so raw, so painful, so excruciating
that there are no words to describe it,
so it becomes a sound, a noise, a vibration
that rages through our entire body, screaming,
The scream of grief!!
Imagine living with a scream inside you.
And the scream is yours.
And no one else hears it.
That is grief.
Imagine living with a scream inside you—a scream that is yours alone.
It’s loud, it’s piercing, and it reverberates through every part of your being.
And yet, no one else hears it.
Grief can make the world feel so distant.
You might be in the middle of a conversation,
but your mind is elsewhere, caught in that scream.
What does a silent scream even sound like?
What would it sound like if someone else could hear it?
اداسی کی
کوئی تو آخری حد ہو.
کہ جس کے بعد
ممکن نہ رہے کچھ اور غم سہنا
یا پھر یوں ہو کہ
غم سہنے کی عادت اس طرح کچھ ہو
کہ سہہ کر بھی
نہ جنبش ابروؤں میں
نہ ماتھے پہ بل آۓ
شکستہ ٹوٹتے اعصاب پر طاری تھکن نہ ہو
لبوں سے بے ارادہ 'آہ' نہ نکلے
چبھن میں اور تھکن میں
خامشی سے جی لیا جاۓ..
کوئی تُم سے پُوچھے ،
کون ہوں میں!
تُم کہہ دینا ، کوئی خاص نہیں
اِک دوست ہے ، کچّا پکّا سا
اِک جھوٹ ہے ، آدھا سچّا سا
اِک خواب ، ادُھورا پُورا سا
اِک رِشتہ ہے ، انَجانا سا
حقیقت میں ، افسانہ سا
کوئی تُم سے پُوچھے ،
کون ہوں میں!
تُم کہہ دینا ، کوئی خاص نہیں۔۔
یہ جو دل ہے ناں
اس میں کئی جہان آباد ہیں
کچھ یادوں کے، کچھ جذبوں کے
مانو جیسے حاشیے لگے ہوں
سب جہاں اپنے حاشیوں میں بستے ہوں
کبھی ماں باپ کی یادیں جگمگاتی ہیں
توکبھی اپنے جگر گوشوں پر ا��حد پیار آتا ہے
کبھی وہ روح کا ساتھی ہماری جان ہوتا ہے
ہاں پر محبتوں میں موازنے، نہیں ہوتے!