Mashallah glad to hear about the efforts of Amir Nawaz Warraich Sb (Ex President KBA
& GS High Court Bar Association)
Rehman Korai Sb, (Ex GS KBA)
Ammar Haseeb Panhwar Sb (Ex Treasure KBA)
Imran Aziz Sb (Ex Joint Secretary KBA) & all legal fraternity in the bail process for Idrees Alvi Sb & Mohammad Suleman Sb. We hope that your legal guidance will help other workers of MQM in their release, who are booked in fake & concocted cases.
جمہوریت سے بہترین انتقام لینےوالی وڈیروں کی جماعت
@PPP_Orgکرپٹ،دہشتگرد اور قاتل جماعت ہے
PPP کا ماضی اورحال دہشت گردی،قتل وغارتگری اور تخریب کاری سےعبارت ہے
لیاری گینگ کی سرپرستی کرنےوالوں سےانکی اپنی جماعت کے رہنمااور کارکنان بھی ��دم تحفظ کاشکار ہیں
یہ طرزسیاست اورنگی پہنچ گئی
Residents expressed anger after a 25-year-old lost his life during a motorcycle snatching in Korangi's Allah Wala Town, saying the robbers stole his motorcycle and still shot him.
#TOKReports
سندھ میں ٹیچرکا تبادلہ ہوا،جوائننگ دینےسکول پہنچاتو وہاں صرف چار دیواریں موجودتھیں۔
لیکن جلد سینئر وزیر شرجیل میمن چیلنج کرکے بولیں گےکہ سندھ میں ایک اسکول بھی"خراب" نہیں۔ اور جیالے چاہیں گے ہم اس بات پر ایمان لے آئیں
🚨193 دن گزر چکے،
یہ وہ ویڈیو ہے جس میں میرا بھائی محسن پنہوار اپنے والد، سابق ایم این اے نثار احمد پنہوار کے لیے انصاف کی فریاد کر رہا ہے۔
محسن نے کہا تھا: "آپ کے پاس دلیل نہیں، صرف جبر ہے۔ آپ زمینی خدا بنے ہوئے ہیں، مگر اصل خدا صرف اللہ ہے،
نثار احمد پنہوار کی رہائی کے صرف 10 دن بعد میرے بھائی محسن کو بھی انہی کے ساتھ اغوا کر لیا گیا، صرف اس لیے کہ اس نے اپنے والد کے لیے آواز بلند کی، ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا، اور حق کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
🩺میرے والد نثار احمد پنہوار ذیابیطس کے مریض ہیں، عمر 60 سال ہے۔ ایک بار انہیں 88 دن غیر قانونی قید میں رکھا گیا، جس سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔
⏳آج 193 دن گزر چکے ہیں۔ 💔 ایک ماں، ایک خاندان، آج بھی اپنے پیاروں کی ایک جھلک کے منتظر ہیں۔
📢 ہم فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ دیکھیں کہ کراچی میں ان کے لوگ کیا کر رہے ہیں اور
نثار احمد پنہوار اور محسن پنہوار کی فوری بازیابی اور رہائی کو یقینی بنائیں۔
کہاں ہیں بھٹو صاحب؟ یا یوں کہیں کہ آج کا زرداری گروپ؟
آپ کی جمہوریت کہاں ہے؟ سندھ کے دو باوقار، قانون پسند شہری گزشتہ 6 ماہ سے لاپتہ اور مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
آخر کب تک بھٹو صاحب کے نام کو بیچا جاتا رہے گا، جبکہ انصاف، قانون اور جمہوریت خاموش کھڑے تماشائی بنے ہوئے ہیں؟
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
@IHRF_English
#Pakistan
#karachi
#SpeakUp
#journalism
@OfficialDGISPR
کراچی کے علاقے کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں ملزمان کی فائرنگ سے 25 سالہ نوجوان عباس جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہےکہ مقتول عباس کو سینے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، فائرنگ کا واقعہ موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر پیش آیا، پولیس موقع پر موجود ہے واقعے کی مزید تفتیش جاری ہیں۔
#TOKAlert #Karachi #StreetCrime
"اگر بیمار اس ملک میں رہنا مفید نہیں تو نکال دو... اللہ کی قسم، چلے جائیں گے۔"💔
🚨 192 دن سے جبری قید,
⚠️ پانچویں بار جبری گمشدگی,
⚖️ عدالتی نظام کی خاموشی,
محسن پنہور کو بھی اپنے والد نثار احمد پنہور کے ساتھ غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ دونوں کو آئین اور قانون سے بالاتر جبری قید میں رکھا گیا ہے۔
🤔 سوچیے...
❓ کیا یہی عوامی خدمت کا صلہ ہے؟۔
📢 ہمارا مطالبہ
اگر نثار احمد پنہور اور محسن پنہور پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے۔ اور اگر کوئی الزام نہیں تو دونوں کو فوری، محفوظ اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
✊⚖️ عدالتی نظام کی خاموشی بھی ایک سوال ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے وہ صحافی، اینکرز اور سوشل ایکٹوسٹس بھی خاموش نظر آتے ہیں جو خود کو حق اور انصاف کی آواز کہتے ہیں۔
خاموشی توڑیں، آواز اٹھائیں۔ ✊
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #Pakistan #EndEnforcedDisappearances
#journalism
#SpeakUp
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی سے اپنے خطاب میں مہاجروں کو طعنہ دیتے ہوئے اولاد رسول ﷺ حضرت لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہ کو بھی سندھ کا طعنہ دیدیا۔
حضرت لعل شہباز قلندر کی عظمت و بزرگی کسی صوبے یا علاقے کی محتاج نہیں، اگر سندھ آج صوفیوں کی دھرتی کہلاتا ہے تو وہ حضرت لعل شہباز قلندر اور سندھ میں آرام فرمانے والی دیگر جلیل القدر ہستیوں کی مرہونِ منت ہے۔
مراد علی شاہ نے حضرت لعل شہباز قلندر کی توہین کی ہے، اسے معافی مانگنی چاہئے۔
ملاحظہ کیجئے اس گستاخی پر مصطفےٰ عزیزآبادی کا وڈیو لاگ۔
مراد علی شاہ کی اس گستاخی پر آپ کا کیا خیال ہے، اپنے کمنٹس میں ضرور آگاہ کیجئے گا
بلاول زرداری!
جاگیردارانہ ذہنیت کبھی بانی وقائد الطاف حسین کےطرز سیاست کی حامی نہیں ہوسکتی
الطاف بھائی کاطرز سیاست
جاگیردارانہ نظام،موروثیت،کرپشن کاخاتمہ
سیاست برائےخدمت
ملک میں سچی جمہوریت کانفاذاور
98فیصدجمہور کی حکمرانی ہے
ویسے
الطاف بھائی آج بھی آپکےحواسوں پرکیوں سوار ہیں؟
191 دن گزر گئے، نہ جانے نثار اور محسن پنہوار کس حال میں ہیں، کہاں ہیں، اور کن حالات سے گزر رہے ہیں۔
آخر میرے والد اور بھائی سے اداروں کا مسئلہ کیا ہے؟
کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق سامنے لایا جائے، اس طرح ظلم نہ کیا جائے۔ خدارا رحم کیجیے، انہیں محفوظ واپس گھر آنے دیجیے۔
ان سے ملئے یہ ہیں تیمور تالپور ان کے والد محترم یوسف تالپور جن کا کچھ عرصے پہلے انتقال ہوا تو ان کی گدی پر یہ براجمان ہوے۔
ان کا تعلق کنری، مانجھاکر اور ��مرکوٹ (ضلع عمرکوٹ، سندھ) سے ہیں جہاں کے دیرینہ مسائل کئی دہائیوں سے توجہ طلب ہیں۔ یہ علاقہ مرچ کی پیداوار کا مشہور مرکز ہے (ایشیا کا ریڈ چلی کیپیٹل کہلاتا ہے)، مگر بنیادی ڈھانچے کی عدم توجہ، خشک سالی اور انتظامی غفلت کی وجہ سے مقامی عوام شدید مشکلات کا شکار ہے۔
یہ صحرائی علاقہ ہے جہاں بارش پر انحصار زیادہ ہے، مگر ناقص نہری نظام، کچی نہریں اور بخارات کی وجہ سے پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔کسانوں کو مرچ اور دیگر فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی نہیں ملتا، جس سے پیداوار کم ہوتی ہے۔ گرمی اور سیلاب دونوں متبادل طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، خاص طور پر مرچ کے موسم میں مزدوروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ۔
چلی کی مارکیٹ شہر کے بیچ میں ہے (مجاہد کالونی، پٹھان کالونی وغیرہ)۔ اکتوبر-دسمبر میں مرچ کی دھول ہوا میں اڑتی ہے، جس سے آنکھیں جلنا، کھانسی، دمہ، TB اور سانس کے امراض بڑھتے ہیں۔
انتہائی خستہ حال ہسپتال میں روزانہ 700-800 مریض آتے ہیں، جن میں 60%+ مرچ دھول سے متاثر۔ بچے، بوڑھے اور مزدور ہوتے ہیں
اس کے سدباب کیلئے ان کے والد محترم کے دور میں نئی مارکیٹ (2007 میں منظور، 22 ایکڑ زمین خریدی گئی) جو آج 15-18 سال سے ادھوری پڑی ہے۔ کرپشن، فنڈز کی عدم رہائی اور من پسند ٹھیکیدار کے فرار کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے
سڑکیں ٹوٹی ہوئیں، سیوریج کا پانی گلیوں میں بہتا ہے، صفائی کا نظام ناقص۔ وہ تو اب انتہائی بیشرمی سے سندھ کا وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ خود بھی اع��راف کرتا ہے کہ سندھ کی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مرچ مارکیٹ میں ایک ہی واش روم ہزاروں مزدوروں کے لیے، جس میں پانی نہیں ہے۔ نئی مارکیٹ کے پلان میں سڑکیں، واٹر ٹینک، پولیس چیک پوسٹس وغیرہ شامل تھے مگر مکمل نہیں ہوئے۔ نواب یوسف تالپور تو اللہ کو پیارے ہو گئے پیچھے اپنے جیسی اولاد چھوڑ گئے جس کو شائد پتا بھی نہیں کے اس کے حلقے میں مین مارکیٹ میں یہ صورتحال ہے
ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید کمی (60 سے زائد خالی پوسٹیں)۔ خاص طور پر آئی اسپیشلسٹ نہیں۔جو کہ مرچوں کے کاروبار اور اس اڑتی دھول کے سبب آنکھوں کے مسائل بے انتہا ہی۔
صحرائی علاقے ہونے کی وجہ سے صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود۔ غربت اور نقل مکانی عام۔
•سندھ کے دیگر شہروں کی طرح بجلی کی چوری تقریباً اسی سے نوے فیصد ہے اور اس کا نتیجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ناقص سپلائی کا سبب بنتا ہے۔
موصوف گھر بیٹھے الیکشن جیت جاتے ہیں اگر آپ کو ایک دن بھی ان کے حلقے میں رہنا پڑے تو آپ ان کو ووٹ دینا تو درکنا لعنت دینے پر بھی غور نا کریں۔
وفاق کو ایسے چنتخب نمائندوں کو ہوئی فنڈز ایلوکیشن کے آڈٹ اور احتساب کیلئے ��صوصی ٹیمیں بنانی چاہئیں جو کنری جیسے ریموٹ اضلاع میں جا کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور منصوبوں کے مکمل ہونے کی تصدیق کریں۔
یاد رہے 1970 سے انکا خاندان اس حلقے سے اسمبلیوں میں آ رہا ہے۔