کسی کو کوئی شک نہ رہے۔ پی ٹی آئی نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور بربریت کیخلاف احتجاج کی وجہ سے آزاد کشمیر اسمبلی کے جاری الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔ آزادانہ رائے گولیوں کی بوچھاڑ میں نہیں دی جاتی۔ ۱۲ مہاجر نشستوں کا معاملہ انتہائی اہم ہے۔ پی ٹی آئی نے کسی بھی نشست پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اس فسطائی ماحول میں منعقد ہر الیکشن مشکوک ہے۔ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی میں الیکشن لڑنے یا لڑانے والوں کیخلاف پارٹی تادیبی کاروائی کرے گی۔
🚨 مراد سعید نے حلف یاد کروا دیا
ڈی جی آپ اپنا حلف یاد کریں آپ کا حلف تھا کہ آپ آئین کی پاسداری کرو گے ، آپ نے بارہا آئین کو روندا،
آپ کا حلف تھا کہ آپ سیاست میں مداخلت نہیں کرو گے لیکن آپ نے قوم کے لیڈر عمران خان کو 9 مئی کا جھوٹا بیانیہ بنا کر اغواء کر لیا
آپ کا حلف تھا کہ عوام کی خواہشات آپ نے 8 فروری کو الیکشن پر ڈاکہ ڈالا اور عوام کی خواہش کا شب خون کیا
عاصم منیر مجبوری میں مارشل لا یعنی فوجی وردی میں صدر کے طور پر آ رہا ہے۔ محسن نقوی کا دھیما سا اعلان۔
ضد نہیں اے مجبوری اے۔ کیونکہ نظام فیل ہوگیا۔ واہ واہ کیا کہنے۔
اسلام آباد ایف ٹین سڑکوں پر ۔ وہ لوگ کشمیر جو کشمیر کو محض شہہ رگ کہتے نہیں مانتے بھی ہیں۔
عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور ان پر ہوئے مظالم کے خلاف احتجاج کی خاطر سڑکوں پر۔
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو@PTIAJK_Official
پہلا اعتراف ۔۔ دونوں جماعتوں نے تسلیم کر لیا مینڈیٹ جعلی ہے
دوسرا اعتراف۔۔ نظام کے نمبر 2 مرکزی کردار نے تسلیم کر لیا کہ ہم سے نظام نہیں چل سکا۔ تباہ ہو گیا۔
پہلا اعتراف۔۔ دونوں جماعتوں نے تسلیم کر لیا، مینڈیٹ جعلی ہے۔ دوسرا اعتراف۔۔ نظام کے نمبر 2 مرکزی کردار نے تسلیم کر لیا کہ ہم سے نظام نہیں چل سکا۔ تباہ ہو گیا۔ ثمینہ پاشا
#pakistan@pasha_samina
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
"عمران خان نے دو دسمبر کو میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے "آزادی یا موت" آزادی قیمتی ہوتی ہے۔ جو ظلم آج عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی قائدین و کارکنان پر ہورہا ہے یہ یہاں نہیں رکے گا۔ میڈیا اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ آزادی سے کوئی کوریج نہیں کر سکتا، میڈیا والے کہتے ہیں کہ ہمارے چینلز کے پاس ہماری تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں، وہ اس لیے کیونکہ پاکستانیوں نے چینلز دیکھنے ہی چھوڑ دیے ہیں"۔علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت پر چپ رہنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی لیڈرشپ کو 5 اگست کا انتظار کئیے بغیر فوری پر امن احتجاج کی کال دینی چاہیئے۔
آج کشمیری بھائیوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے۔ اگر دیر کردی تو وہ منہ موڑ لیں گے۔ عمل کرنے کا یہی وقت ہے۔ مزید دیر کی گنجائش نہیں۔
جرنیلوں کو خوش کرنے کے چکر میں ملک کو مزید نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
پی ٹی آئی فوری طور پر پر امن احتجاج کی کال دے۔ عوام نکلے یا نہ نکلے یہ عوام کی مرضی۔ آپ اپنا فرض پورا کریں۔
عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو ہرگز اس وقت تک چپ نہ رہتے۔
اگر آج پاکستانی عوام حقوق کے لیئے کھڑی نہ ہوئی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔
محسن نقوی ملک کے مالک بن کر لیکچر ایسے دے رہے ہیں جیسے کوئی سوپر مین ہوں۔ صلاحیت یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل بنایا جو کبھی ٹاپ ٹین میں نہیں آیا، پی سی بی کے چیئرمین بنے تو کرکٹ کا بیڑا غرق ہوگیا، وزیرداخلہ بنے تو دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا۔