خیر ہے جی، خیر ہے… شاید یہی وہ فقرہ ہے جو ہمارے معاشرے کو کبھی ٹھیک نہیں ہونے دے گا۔
آج ایک ریڑھی والے سے ایک کلو گھنیری خریدی۔ وزن کرتے ہوئے اس نے کہا، کمی بیشی معاف کرنا۔
میں نے کہا، خدا معاف نہیں کرتا، میں کیسے کر سکتا ہوں؟
اس کی بات سے مجھے کچھ شک ہوا، تو میں سامنے والی دکان پر چلا گیا اور وہاں ترازو پر دوبارہ وزن کروایا۔ وزن 890 گرام نکلا۔
میں نے ریڑھی والے کو بلایا اور ترازو دکھایا تو کہنے لگا، "میں نے تو پہلے ہی معذرت کر لی تھی اور معافی بھی مانگ لی تھی۔"
وہاں تین چار لوگ اور کھڑے تھے۔ سب نے فوراً کہا
"خیر ہے جی، خیر ہے!"
مسئلہ یہی ہے کہ ہم غلطی کو روکنے کے بجائے خیر ہے کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پھر یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی عادت بن جاتی ہیں۔
نئی نویلی دلہن… اور ایک شوہر کا چھوٹا سا فیصلہ
"آج کھانا تم بناؤ گی۔"
جس لڑکی نے کبھی پانی کا گلاس اٹھ کر بھی نہیں پیا تھا، اسے ساس نے حکم دیا۔
وہ چپ چاپ اٹھ گئی۔
جیسے تیسے کرکے تین چار گھنٹے کچن میں گزارے، کھانا بنایا اور دسترخوان پر رکھ دیا۔
مگر نمک اور مرچ گھر والوں کے ذائقے کے مطابق نہیں تھے۔
کسی نے کھانا نہیں کھایا۔
اوپر سے طنز بھی شروع ہوگیا:
"اپنی ماں کے گھر سے یہی سیکھ کر آئی ہو؟"
وہ خاموش کھڑی رہی۔
شاید اسے کھانا بنانے سے زیادہ اپنے پہلے امتحان میں ناکام ہونے کا دکھ تھا۔
میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد گھر پہنچا۔
ابھی بیگ بھی نہیں رکھا تھا کہ امی نے کہا:
"ہم تو صبح سے بھوکے بیٹھے ہیں، بازار سے کچھ کھانے کو لے آؤ۔"
میں نے ایک نظر اپنی سہمی ہوئی بیوی کی طرف دیکھا…
اور خاموشی سے بازار چلا گیا۔
کھانا لے کر واپس آیا تو سب کھانے لگے۔
میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما اور اسے کچن میں لے گیا۔
میں نے پوچھا:
"آج کیا پکایا ہے؟"
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
میں نے کہا:
"تم میرے ساتھ کھانا نہیں کھاؤ گی؟"
اس نے شاید سوچا کہ میں بھی بازار کا کھانا کھاؤں گا۔
میں نے کہا:
"نہیں… مجھے تو اپنی بیٹر ہاف کے ہاتھ کا بنا کھانا پسند ہے۔"
اس نے خاموشی سے میرے لیے کھانا لگایا۔
میں نے ایک نوالہ لیا۔
سچ کہوں تو کھانا اتنا بھی خراب نہیں تھا کہ کھایا نہ جاسکے۔
بس اسے ایک موقع چاہیے تھا۔
غلطی درست کرنے کا موقع۔
سیکھنے کا موقع۔
اور سب سے بڑھ کر… اپنوں کی طرف سے تھوڑا سا حوصلہ۔
میری بیوی کی بھی غلطی نہیں تھی۔
وہ اپنی تعلیم میں مصروف تھی، شادی ہوگئی، اور اسے گھر داری سیکھنے کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔
میری ماں کی بھی نیت بری نہیں تھی۔
وہ ساری زندگی اپنے بچوں کے لیے کھانا بناتی رہی تھیں، اس لیے ان کے لیے "اچھا کھانا" ایک معیار تھا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میری بیوی ابھی سیکھ رہی تھی۔
اس دن میں نے اپنی ماں کی عزت بھی رکھی…
اور اپنی بیوی کا دل بھی۔
میں نے کسی کے سامنے اسے ڈانٹا نہیں۔
اسے سب کے سامنے شرمندہ نہیں کیا۔
بس اسے یہ احساس دیا کہ:
"تم ناکام نہیں ہوئی ہو، تم ابھی سیکھ رہی ہو۔"
وقت گزرا…
آج وہ ہر طرح کی ڈش بنا لیتی ہے۔
اور کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جو لڑکی پہلے نمک اور مرچ کا تناسب نہیں جانتی تھی، وہ آج میرے پسندیدہ کھانے مجھ سے پوچھے بغیر بنا دیتی ہے۔
مجھے اس دن ایک بات سمجھ آئی:
رشتوں میں ہر غلطی کا جواب سزا نہیں ہوتا، بعض غلطیوں کا جواب صرف تھوڑا سا وقت ہوتا ہے۔
اگر میں بازار سے کھانا نہ لاتا تو شاید امی ناراض ہوتیں۔
اور اگر میں سب کے سامنے اپنی بیوی کو ڈانٹ دیتا تو شاید وہ مجھ سے اندر ہی اندر ٹوٹ جاتی۔
رشتوں میں بیلنس رکھنا پڑتا ہے۔
ہر انسان کو اتنا مارجن ضرور دیں کہ وہ آپ کے گھ
یہ جو باحجاب بہن ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے ہوا یوں کہ
خواجہ فرید BS فزکس (4th سمسٹر) کی طالبہ علیزہ علی کو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں 3 سے 4 گھنٹے کے لیے غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
علیزہ کے مطابق اس کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں PhD کر رہی تھی اور اسے HEC کی طرف سے 13 لاکھ روپے کا اسکالرشپ ملا تھا۔
یونیورسٹی کے VC (سلیمان طاہر) اور HOD (بلال طاہر) نے اس اسکالرشپ میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس کی بہن پر دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالا اور انکار کرنے پر شدید ذہنی اذیت دی اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں
18 مئی کو جب علیزہ یونیورسٹی کی ایک نمائش میں موجود تھی، تو سیکیورٹی انچارچ خرم شہزاد مسلح اہلکاروں اور لیڈیز سیکیورٹی کے ساتھ وہاں آیا
اور علیزہ سے اپنی بہن کو بلا کر اسکالرشپ سرنڈر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروانے کا کہا۔
علیزہ کے انکار پر اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا، اس کا موبائل اور پرس چھین کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے لاک لگا دیا گیا
اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ بعد میں زبردستی لاؤڈ اسپیکر پر اس سے گھر والوں کو فون کروا کر بلانے پر مجبور کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر علیزہ کی بہن اسماء علی نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نوٹس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علیزہ کو بند کمرے سے بازیاب کروایا۔
کیس اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے،
تاہم علیزہ اور اس کے والد شوکت علی کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان پر کیس واپس لینے اور صلح نامہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے اور تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
کیا کوئی ہے کو اس بہن کو انصاف دے سکے؟؟؟
شئیر کریں شاید کوئی اس کو جانتا ہو۔
یہ جو معصوم سی بچی نظر آرہی ہے اس کا نام روقیہ ہے یہ کراچی طارق روڑ ایک گھر میں کام کرتی تھی
نہ اس کو راستوں کا پتا ہے نہ کچھ جن کے گھر کام کرتی تھی ان کے نا مناسب رویہ کی وجہ سے وہاں سے بھاگ نکلی
یہ بچی پہلے پہلوان گوٹ کراچی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہی تھی
اس کے چہرے پہ پریشانی اور خوف نظر آرہا ہے یہ تو شکر ہے کہ
یہ سیف ہاتھوں میں ہے ۔
اپنا شہر رحیم یار خان بتا رہی ہے اور دوسری بات تین بہنیں ایک بھائی ہیں یہ ۔
بچی چاہے پندرہ سال کی ہی کیوں نہ ہو بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے ہم اپنی بچیوں کو ایسے گھروں میں بھیج دیتے ہیں
جہاں ان کا رویہ انتہائی غلط ہوتا ہے اس ہی وجہ سے یہ بھاگ نکلی لیکن سڑکوں پہ پریشان پھر رہی تھی
نہ راستوں کا پتا نہ کسی کا موبائل نمبر یاد
اس کو ایدھی شلٹر ہوم دے دیا گیا ہے اس کے والدین رحیم یار خان ہیں اگر کوئی جانتا ہو تو پلیز مدد کریں
میٹرک کے امتحان میں 1100 میں سے 1004 نمبرز حاصل کرنے والی چکوال کی یتیم بچی نرگس گل کا گھر دیکھیں جس میں وہ رہائش پذیر ہے۔
یہ ہیں ہمارے ملک پاکستان کے اصل ستارے
سوات کے دوست مدد کریں۔۔۔۔
ممبئی انڈیا سے ایک خاتون نے رابطہ کرکے اپنے والد کے خاندان کی تلاش کے لئے کہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ:
"میرا نام ریحانہ ہے۔ میں ممبئی، بھارت میں مقیم ہوں اور اپنے والد کے خاندان اور آبائی رشتے داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والد شیبر لالا (Shebar Lala) سوات کے پٹھان تھے۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے سوات سے ممبئی، بھارت آئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ الحمدللہ، ہمارا خاندان ممبئی میں اچھی طرح آباد ہے۔ ہمیں اپنے سوات والے خاندان سے کسی قسم کا مالی فائدہ یا کوئی چیز نہیں چاہیے۔ ہماری صرف یہ خواہش ہے کہ ہمیں اپنے والد کے خاندان، اپنے آبائی گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم ہو سکے اور اگر ممکن ہو تو ایک مرتبہ اپنے خاندان کے لوگوں سے ملاقات بھی ہو جائے۔
والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں جو معلومات بتائی تھیں، ان کے مطابق:
آبائی گاؤں: بور (Bur)، سوات (شاید بر سوات بتایا ہے والد نے انکو)۔ کاسٹ یوسفزئی۔
شیبر لالا کے والد کا نام: محمد علی
والدہ کا نام: خان تولی
محمد علی کی تین شادیاں تھیں۔شیبر دوسری بیوی سے تھے۔
شیبر لالا کی ایک بہن بھی تھیں، جن کا نام: گیرانہ (ہمارے مطابق شاید گرانہ ہو ) بتایا جاتا ہے، جن کی شادی کے بعد وہ بیحا (Biha)، سوات چلی گئی تھیں۔
شیبر لالا کے بھائیوں میں سے ہمیں فی الحال صرف ان تین ناموں کا علم ہے:
• امیر خان
• دولت خان
• دلاور خان
شیبر کے مطابق وہ کل 11 بھائی اور ایک بہن تھے۔
انکے دودھ کا کاروبار تھا۔
والد صاحب غالباً 1930 سے 1940 کے درمیان ممبئی آئے تھے، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی بھارت آ چکے تھے اور بعد میں ممبئی میں مستقل آباد ہوگئے۔
والد صاحب کی ایک خاص پہچان یہ بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں، پنجے کے اوپر ایک داغ/نشان بنا ہوا تھا۔
یہ تمام معلومات ہمیں والد صاحب نے اپنی زندگی میں خود بتائی تھیں۔ ہمارے پاس اس وقت مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں، لیکن ہم انہی معلومات کی بنیاد پر اپنے والد کے خاندان اور اپنی خاندانی جڑوں (Family Roots) کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر سوات، بالاکوٹ، یوسفزئی برادری، بور گاؤں یا بہا سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ان ناموں یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا کوئی شخص اس خاندان کو پہچانتا ہو، تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔
ہم صرف اپنے والد کے خاندان کو جاننا اور اپنے آبائی رشتوں سے دوبارہ جڑنا چاہتے ہیں۔"
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید کسی تک یہ معلومات پہنچ جائیں اور ایک بچھڑا ہوا خون ایک ہوجائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
کچھ دن پہلے اک فیملی لڑکی کو دیکھنے آئی ۔۔
لڑکی ماشااللہ پیاری ہے اور ماسٹر کیا ہوا ہے۔۔چائے دینے کے بعد لڑکی روم میں چلی گئی۔
کچھ تعریفوں کے بعد بات پکی ہونے لگی تو سوال جہیز کا آگیا ۔ لڑکے کی ماں نے کہا کے ہمارے خاندان میں یہ رواج ہے کہ 15 تولہ سونا 10 مرلے کا پلاٹ اور فلاں فلاں سامان فرنیچر ہوتا اور ساتھ بیٹھا بیٹا چائے کے سپ لیتا رہا۔۔
کچھ دیر پہلے جہاں لڑکی کی بات اور ہنسی مزاق ہو رہا تھا اب وہاں سناٹا تھا۔۔۔
آخر کار جواب نا ہو گیا۔ لڑکی ڈر کے مارے کمرے سے نا نکل رہی تھی۔ آخر برتن اٹھانے کے لیے آئی تو غیرت مند (پڑھا لکھا بےروزگار )بھائی بولا " جتنا اس کو پڑھانے پر پیسا لگایا اس سے اچھا تھا جہیز بنا لیتے۔۔
پھر غصہ سے بہن کی طرف مخاطب ہوا کہ اتنا باپ نے پڑھایا ہے کوئی اچھی جاب کر اور جہیز بنا۔۔. وہاں بیٹھا باپ خاموش تھا اور ماں آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
میں اکثر جو لکھتی ہوں کہانی نہیں حقیقت لکھتی ہوں۔۔
باقی اگر جہیز کی پوسٹ کردو تو ہر مرد یہاں "جہیز لعنت ہے" کہنے لگتا ہے
اور حقیقت میں خاموش بیٹھے چائے پیتے ہیں۔۔😪😥😫
عارفہ نے کہا جو مجھے میرے پیاروں سے مِلائے گا ، میں اسے زندگی بھر دعائیں دیتی رہوں گی۔ وہ اپنے پیاروں سے ملنے کو ترس گئ ہیں۔
تقریباً 35 سال ہونے کو ہیں کہ عارفہ دکان پر کوئ چیز لینے گئ کہ کچھ درندہ صفت لوگوں نے عارفہ کو اغ*واء کر لیا اور انسانی سمگ*لنگ جیسی سفاک تجارت کی نذر کر دیا گیا۔
وہ اپنا شہرکراچی بتاتی ہیں ، اس کے علاوہ مخصوص علاقہ بتانے سے قاصر ہیں۔ اُن کی والدہ مطلقہ تھیں۔ ماں نے جہاں دوسرا نکاح کیا وہاں سے اس زمانے تک عارفہ کی والدہ نے دو بیٹوں کو جنم دیا۔
اس کے علاوہ وہ اپنی دو ماسیوں( خالاؤں) کے نام رشیدہ اور حلیمہ بتاتی ہیں ، جبکہ والدہ کا نام انھیں یاد نہیں۔
عارفہ کہتی ہے کہ ایک دن کوئ عورت آئ تھی، وہ بھی کسی کو ڈھونڈ رہی تھی، شاید وہ میری ماں تھی مگر میں جہاں ہوں وہاں کی عورتوں نے مجھے کمرے میں بند کر دیا۔
خدا جانے پچپن سے آج تک کیسے وقت گزارا عارفہ دماغی طور پر مکمل ٹھیک نہیں ہے ۔ شاید ان کی والدہ، والد ، خالائیں یا کوئ اور رشتہ دار ان کو پہچان لے۔ وہ صرف اپنے پیاروں سے ملنا چاہتی ہیں ، اور انھیں کچھ بھی نہیں چاہیے۔
خدا کرے کہ ان کی آس پوری ہو جائے۔
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں آپ کا ایک شئیر ایک مظلومہ کو اسکے پیاروں سے ملا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
19 sept 2026
#waliullahmaroof
مظلوم کی آواز بنیں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔
یہ میری بیٹی ہے میں ایک مزدور آدمی ہوں شام کے وقت پانچ بجے میرے داماد کی کال آئی کہ کرن کی طبعیت خراب ہے اس نے غصے میں کوئی زیریلی چیز پی لی ہے ۔
میری بیٹی کے 3 بچے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو میری بیٹی کی حالت بہت تکلیف دہ تھی
میں اسپتال لے کر آیا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اب یہ بچ نہیں سکتی
میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ اس پہ تشدد کیا گیا ہے اس کو زبردستی زہریلی چیز دی گئی ہے ۔
یہ واقعہ سیالکوٹ ڈسکہ کا ہے جہاں مبینہ طور پہ سسرال نے اپنی بہو پہ مظالم کی انتہا کردی
تین بچوں کی ماں افسوس ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال میں دم توڑ گئی
جبکہ سسرالی کہہ رہے ہیں کہ اس نے خود ایسا کیا
میری ڈی پی او سے گزارش ہے کہ اس بچی کو انصاف دیا جائے
😔😔😪
شئیر کریں تاکہ حکومتی ادارے ہوش میں آئیں اور اس باپ کی فریاد رسی کر کے اس مظلوم باپ کو اس اذیت سے نجات دلائیں۔
بیٹے کے مرنے کا غم اور درد ایک باپ کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ تقریباً دو ہفتوں سے ایک باپ اپنے شہید بیٹے کی لاش کے ساتھ دھرنے میں بیٹھا ہے۔ اس کی ایک ہی فریاد ہے:
"جب تک میرے بیٹے کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے، میں اپنے بیٹے کی تدفین نہیں کروں گا۔"
سوچیے، ایک باپ کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی کہ وہ اپنے لختِ جگر کو سپردِ خاک کرنے کے بجائے انصاف کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ انصاف اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔
ایک باپ کو اپنے بیٹے کی میت کے ساتھ احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ اسے انصاف دیا جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کو عزت کے ساتھ سپردِ خاک کر سکے۔ 💔
فتح جنگ کے ایک نجی ہسپتال میں انسانیت کی تذلیل اور ایک نرس کی دلیری کا آنکھوں دیکھا واقعہ سامنے آیا ہے۔
گزشتہ روز ایک نجی ہسپتال کی نرس نے ہسپتال انتظامیہ کے لالچ اور بے حسی کا وہ راز افشا کیا جسے سن کر انسان کانپ اٹھے۔ نرس کے مطابق، کوہاٹ روڈ پر واقع ایک نجی ہسپتال میں ایک غریب پٹھان خاندان اپنی حاملہ خاتون کو لے کر پہنچا۔ خاتون کی حالت نازک تھی اور ڈیلیوری کا وقت بالکل قریب تھا۔ مریضہ نے انتہائی لاچاری میں لیڈی ڈاکٹر کو بتایا کہ "میرے پاس اس وقت صرف ایک ہزار روپیہ موجود ہے"۔
اس بات پر ڈاکٹر کے دل میں رحم آنے کے بجائے لالچ جاگ اٹھا۔ آپریشن کے نام پر بھاری رقم بٹورنے کی خاطر ڈاکٹر نے خاتون کو ایک ایسا انجیکشن لگا دیا جس سے درد اور ڈیلیوری کا عمل رک گیا، اور غریب خاندان کو صبح تک پیسوں کا بندوبست کرنے کی سخت ہدایت کر دی۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ صبح کے وقت جب ڈاکٹر کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی تو مریضہ کی حالت شدید غیر ہو گئی۔ ہسپتال میں موجود ایک نرس—جس کے پاس ڈیلیوری کا 10 سالہ تجربہ تھا—سے اس غریب عورت کی کراہیں اور تڑپ برداشت نہ ہوئی۔ نرس نے اپنی ملازمت کا خطرہ مول لیتے ہوئے ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر ہی بحفاظت ڈیلیوری کروا دی اور یوں ماں اور بچے دونوں کی جان بچ گئی۔
جب لالچی لیڈی ڈاکٹر ہسپتال پہنچی اور اسے معلوم ہوا کہ شکار اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے، تو اس نے انسانیت کا مظاہرہ کرنے والی نرس کی شدید بے عزتی کی اور اسے فوراً ملازمت سے برطرف کر دیا۔
یہ ہے ہمارے شہر فتح جنگ کے نجی ہسپتالوں کا دردناک سچ! جہاں غریبوں کی مجبوریاں بیچی جاتی ہیں اور پیسہ انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سفید پوش ڈاکوؤں کو لگام کون ڈالے گا؟ اور جب صحافی ایسے ظالمانہ رویوں اور بلیک میلنگ کو بے نقاب کرتے ہیں، تو الٹا ان پر اپنی دکانداری چمکانے کے الزامات کیوں لگائے جاتے ہیں؟
ایک اور غیرت مند باپ بیٹی کی حفاظت کرتے شہید
اشرف صاحب کی بیوی نے گھر آکر اپنے شوہر کو کہا کہ
اشرف صاحب :آج تو حد ہوگئی آج تو ان دونوں اوباشوں نے سب کے سامنے غلط اشارے کیئے میں نے کہا بھی کہ میری بیٹی کو تنگ نہ کرو تو انہوں نے مجھے بھی غلیظ شارے کیئے
ہوا یوں کہ اس بیچارے شخص کی بیٹی زرفشاں فاروقہ پنجاب کالج سرگودھا پڑھنے جاتی جاتی تھی کہ راستے میں ایک درزی گانے لگا کر اشارے کرتا
لڑکی نے یہ بات ماں کو بتادی کل جب ماں بیٹی کو بس اسٹینڈ چھوڑنے گئی تو کلیم ﷲ درزی اور اس کے اوباش دوست معین بلوچ نے نازیبا اشارے کیئے ۔
جس پہ بچی کی والدہ صائمہ نے اپنے شوہر اشرف کو بتایا جس پہ اشرف نے کہا میں جاکر سمجھاتا ہوں
جب اشرف ان کو سمجھانے گیا تو انہوں نے اشرف کو دھکے دیئے جس کی وجہ سے ساتھ نالے میں گر کر اشرف جوکہ پانچ وقت کا نمازی تھا
موقع پہ شہید ہوگیا
یوں ایک بی بیچارا باپ اپنی بیٹی اور بیوی کی عزت بچاتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوگیا
ملزم کی اور اس کی دکان کے بورڈ کی تصویر پوسٹ میں ہے۔
آواز بلند کریں اور مظلوم کی بیوہ اور بیٹی کے دست وبازو بنیں۔
آپ بتائیں یہ کیس کس کو دینا چاہیئے اور ملزم کی کیا سزا ہونی چاہیئے
😓😓😔😪😪
آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی، ایک بےبس باپ کا واحد سہارا، منگھو پیر میں پولیس کے غلط انفارمیشن کے سبب پولیس کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔
گزشتہ 6 روز سے ایک بےبس باپ اپنے اکلوتے بیٹے کے جسدِ خاکی کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھا ہے، مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
یہ کیسی ریاست ہے جہاں ایک غریب باپ 6 دن تک اپنے جوان بیٹے کی لاش کے ساتھ انصاف کا منتظر رہے؟
اگر یہی واقعہ کسی بااثر جاگیردار، سرمایہ دار یا طاقتور شخصیت کے گھر میں پیش آیا ہوتا تو خدا کی قسم، پوری ریاست اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی اور ملزمان کو ڈھونڈ نکالتی۔
غریب کا خون آخر کب تک سستا سمجھا جاتا رہے گا؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور اس بےبس باپ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
خاموشی بھی ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
کیا آپ مظلوم کی آواز بنیں گے؟
میرا نام ستارہ سلیم ہے۔ میں RHC راولپنڈی میں ایک نرس ہوں۔ میرا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ رات 2 بجے سرکاری ہسپتال کے میل وارڈ میں ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر تھی۔
میں فی میل وارڈ میں مدد کرنے کے لیئے ایک مریض کو ڈرپ لگانے گئی تو وہاں رش بہت زیادہ تھا۔ ہسپتال کے رولز کے مطابق میں نے اٹینڈنٹس سے مہذب انداز میں کہا کہ "پلیز رش کم کریں یہاں زیادہ لوگ الاؤ نہیں ہیں "۔
بس یہی بات ان کو ناگوار گزری۔ مجھ پر حملہ کیا گیا۔ مجھے مارا گیا۔ مجھے گھسیٹ کر دوسرے وارڈ میں لے جایا گیا۔ وہاں میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
گارڈز کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ کوئی مدد کو نہ آیا۔
میں نے خود کو بچانے کے لیے 15 پر 3-4 بار کال کی۔ پولیس گھنٹوں بعد آئی۔ اور آ کر بھی کہا "یہ فی میل کا کیس ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ایپلیکیشن لکھ کر لائیں"۔
صبح تک ہسپتال کی انتظامیہ کا کوئی سینئر بندہ نہیں آیا۔ جب میرے کولیگز نے احتجاج کیا تب جا کر FIR درج ہوئی۔ لیکن وہ FIR بھی میرے بیان کے بغیر، میری مرضی کے بغیر لکھی گئی۔
اس کے بعد 6 گھنٹے تک مجھے ایک کمرے میں بند رکھا گیا۔ میرا فون لے لیا گیا۔ مجھے کہا گیا "کیس دبا دو، ورنہ تمہاری عزت چلی جائے گی"۔
آج ہاسٹل میں بھی مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا ایک نرس کی جان، عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا ہسپتال جیسی جگہ پر بھی ہم محفوظ نہیں؟
کیا پولیس اور انتظامیہ کا کام صرف کاغذی کاروائی کرنا ہے؟
ہم دن رات عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ صلہ ملے گا؟
میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ مجھے اور میرے جیسے تمام ہیلتھ ورکرز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مجھے انصاف چاہیے۔
خاموشی ظلم کی حمایت ہے۔
براہ کرم اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ میری آواز حکام بالا تک پہنچے۔
#JusticeForSitaraSaleem
بے شک یہ مقام عبرت ہے۔
اللہ اب کو ایسی بدنام موت سے بچائے۔
آج ان کا جنازہ تھا، میں سوچ رہی ہوں کہ تعزیت کرتے وقت لوگ کیسے یاد کریں گے کہ اللہ مغفرت کرے، بہت نیک انسان تھے۔۔۔؟؟؟
یہ نوجوان علاقے کے بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ایسے خاندان کہ جن کے نام کے ساتھ لاحقے سابقے لگائے جاتے ہیں۔
6 ستمبر کی رات دو بجے یہ دو نوجوان اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ اپنے ہی کرایہ دار ایک عزت دار شخص کے گھر میں گھس گئے، اسلحے کے زور پر سب کو یرغمال بنایا، ان موبائلیں چھین لیں، نقدی اور زیورات لوٹ لیں،
پھر گھر کے مرد کو ایک کمرے میں باندھ دیا، اور اس کی دو حیادار بیویوں کو دوسرے کمرے میں بند کرکے ان کے ساتھ جن کی عمریں 27 اور 22 سال تھیں اسلحے کے زور پر زنا بالجبر کرنے لگے،
اس دوران ایک درندہ صفت انسان اپنی درندگی پر قابو نا رکھتے ہوئے گھر میں موجود ایک چھوٹی بچی پر جھپٹ پڑا مگر کافی چیخنے چلانے کی وجہ سے پھر اسے باپ کے ساتھ کمرے میں بند کردیا، خواتین اس دوران گڑگڑاتی رہیں، منت سماجت کرتی رہیں خدا رسول کے واسطے دیتی رہیں
مگر ان ظالموں کو کوئی رحم نہیں آیا، بلکہ الٹا انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔
ان ظالموں کو گھمنڈ تھا کہ ہمارا کرایہ دار ہے غریب اور بےبس ہے ہمارا کیا اکھاڑ لےگا سو خاموش رہ جائےگا مگر ہوا اس کے برعکس،،،،
متاثرہ فیملی رات چار بچے پیدل تھانے پہنچی کیونکہ نا ان کے پاس موبائل تھا اور نا پیسے کہ رکشہ ٹیکسی کرکے تھانے پہنچتے۔
تھانے جاکر وہاں ساری صورتحال بتائی، بات سینئر افسران تک پہنچی،
سویرے سویرے ملزمان گرفتار ہوئے ان سے اسلحہ برامد کیا، لوٹی گئی رقم، زیورات اور موبائل برآمد کیے۔
کل رات پولیس پر مبینہ حملے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے چاروں اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
یہ واقعہ لاہور گجومتہ میٹرو اسٹیشن کا ہے
جہاں ایک نوجوان کا بغیر ہیلمٹ چالان کیا جاتا ہے
چالان کے بعد نوجوان اپنا ائی ڈی کارڈ دیتا ہے
لیکن وارڈن انکار کرتا ہے اور وردی کا روپ جا کے کہتا ہے کہ بائیک بند ہوگی یا تو چالان پے کرو یا بائک بند ہوگی
جب ہم نے کہا کہ یہ تو رول ہی نہیں ہے اپ ائی ڈی کارڈ لیں ہم چالان پے کر کے ا جائیں گے تو اگے سے جب ہم نے کیمرہ نکالا ویڈیو بنائی تو ہمارا موبائل چھین لیا اور اپنی پاکٹ میں ڈال لیا
جب ہم نے استدا کی اور اواز اٹھائی تو پھر جا کر ہمیں اپنا موبائل واپس ملا جو کہ سراسر نا انصافی کے زمرے میں اتا ہے کوئی بھی وارڈن پلس والا ہمارے پرسنل چیز اپنی پاکٹ میں نہیں ڈال سکتا ہماری بائک بند کر رہا تھا ہم رائٹ پہ سے اس کی ویڈیو بنانے میں
یہ ہے لاہور ٹریفک پولیس کا حال
لاہور والوں آج آپ نے انسانیت کا علم بلند کرنا ہے۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام یاد نہیں ہے ۔ والدین اور بہن بھائیوں کے نام بھی بھول چکا۔ شیلٹر میں اسکا نام علی چاند رکھ دیا تھا۔
اسکا کہنا ہے کہ بچپن میں مجھے کسی نے اٹھاکر شیلٹر میں ڈالا دیا تھا۔۔ میں بار بار ادارے کو کہتا رہا کہ میرا گھر بکرمنڈی کی طرف ہے لیکن وہ مجھے لیکر نہیں گئے۔ ادارے میں جوان ہوا تو 18 سال ہونے کے بعد مجھے نکال دیا گیا۔ اب میں ایک جگہ کام کررہا ہوں۔
علی چاند کا کہنا ہے کہ اسکا گھر بکرمنڈی کی طرف تھا۔گھر کے پاس کے پاس ایک بیکری تھی اور بیکری کے ساتھ ہی ایک مذبح خانہ تھا جہاں قصائی کام کرتے تھے۔
برائے مہربانی اس کیس کو کامیاب کریں ۔ ان شاءاللہ آپ کی یہ محنت درجنوں لاوارث بچوں کو انکے خاندان والوں سے ملنے کا سبب بنےگا۔ اللہ کا نام لیں اور خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
11 sept 2026
#waliullahmaroof
نور مقدم کا سر تن سے جدا کر کے اس کو سفاکی سے قتل کرنے والے"ظاہر جعفر"کی
صدارتی معافی کی اپیل آنے والی ہے۔
معافی دینے سے پہلے صدر زرداری اپنی بیٹیوں"آصفہ اور بختاور"کے بارے میں ضرور زہن میں رکھے کہ بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہیں۔
زرداری نے"ظاہر جعفر"کو معاف کیا تو پورا پاکستان کیا
اس کی بیٹیاں بھی اس سے نفرت کریں گی۔
(اسد آر چوہدری)
سائنس کی دنیا میں چھ ستمبر 2026 وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان میں ایک ایسی مشین بنائی گئی ہے جس کا ابھی تک پاکستان میں تصور نہیں تھا، یہ مشین دعوت اسلامی کی طرف سے متعارف کروائی گئی ہے جو شاپنگ مالز وغیرہ میں نصب ہوگی اور آن لائن چندہ، صدقہ، زکوۃ، صدقات نافلہ وغیرہ اکٹھے کرے گی!
اس مشین کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں رقم دینے کے لیے اکائی یونٹ خریدنا ہے، اور حیرت یہ ہے کہ ایک ہی یونٹ کی قیمت مختلف ملکوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ یعنی دس روپے کی پنسل ہے لیکن پاکستانی دس روپے دے کر خریدیں گے، بنگلہ دیشی وہی پنسل پندرہ روپے میں، بحرینی وہی پینسل 20000 روپے اور امریکا کے شہری وہی پینسل کم از کم تیس ہزار روپے میں خریدیں گے۔۔۔ ہر ملک کے لیے یونٹ کی الگ قیمت اسکرین پہ بھی شو ہو رہی ہے!
دعوت اسلامی کے سائنس دان حضرات کو مبارک ہو، یقینا یہ مشین چندے کی دنیا میں ایک عظیم ایجاد کے طور پر یاد رکھی جائے گی!
نوٹ: مرشد عطار کی سادگی پہ قربان کہ دونوں ہاتھوں سے کارڈ لگا رہے ہیں، اتنے سادہ اور نیک انسان کی ایسی سائنسی خدمات یقینا کسی کرامت سے کم نہیں ❤️