وہی گیا ہے اُس کا ، ، ، اثر تو نہیں گیا
زادِ سفـــر گــیا ھے ، ، سفر تو نہیں گیا
جس پر تری نِگاہ پڑی ھے بس ایک بـار
دُنیا سے اُٹھ گیا ھے وہ گھر تو نہیں گیا
طــارق ن��یـــمؔ 🖋️
📓 دیے میں جلتی رات
پلک جھپکتے
آ نئیں سکتے؟
پتھر ہو گئے
رستہ تکتے
دھوپ بنا تو
پھل نئیں پکتے
آپ رواں ہیں
مجھ میں 'سکتے'
من بھاوک تھا
کیسے تھکتے
بوڑھے ہو گئے
تکتے تکتے
گونگے اچھے
کچھ نئیں بکتے
زیست ہماری
مطلعے، مقطعے
ڈاکٹرفخر عباس
ہمارے وزیرِ اعظم عمران خان بار بار ذکر کرتے ہیں کہ ہمیں چِین سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو غربت سے نکال کر مُلک کو ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا جاتا ہے
ممکن ہو تو مہاتیر محمد سے بھی یہ سیکھ لیں کہ مسروقہ مال کیسے برآمد کیا جاتا ہے
آؤ کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
آؤ کہ حسنِ ماہ سے دل کو جلائیں ہم
سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں ، نہ جائیں کہ جائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستانِ عشق
اب ختم�� عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
فیض
جب میں کہتا ہوں کہ وعدہ کوئی پورا نہ ہوا
بن کے انجان وہ پھر پوچھتے ہیں، کیا نہ ہوا؟
میں نے وہ ضبط کیا جو مرے امکاں میں نہیں
تم نے وہ ناز کیا جو تمہیں زیبا نہ ہوا
رضی الدین حسن کیفیؔ سید حیدر آبادی
اچھا لگتا ھــــے تقاضے تِــــــرے پورے کـــــرنا
زندگی تیـــــــرے تقاضوں کا مَـــزا لیتا ھُـــــوں
اب اذیت نہیں ہوتی ھــے دیئے بجھنے سے
اب میں بد مست ھـــــواؤں کا مَـــزا لیتا ھُوں
تیمور حسن
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد... https://t.co/ZutyG6G6BN