نمک حرام پاکستانی جرنیلو!
ہم افغانوں نے اپنی آزادی کے لیے جو جنگ لڑی، اُس میں پاکستان کا مفاد بھی پوشیدہ تھا۔ یہی جرنیل ایک وقت ہمارے لیے کامیابی کی دعائیں مانگتے ہوئے اسٹیجوں پر کھڑے ہوتے تھے اور کھلے عام اعتراف کرتے تھے کہ اگر افغان یہ جنگ ہار گئے تو اگلی باری ہماری ہوگی۔
ذرا تاریخ کا جائزہ لیجیے!
اگر افغان قوم مزاحمت نہ کرتی، اپنی آزادی کی جنگ نہ لڑتی اور اپنے حریفوں کے سامنے نہ ڈٹتی، تو آج پاکستان کی صورتِ حال بھی شاید کچھ اور ہوتی۔
مگر افسوس!
آج وہی جرنیل ہمیں نمک حرام کہنے کی جسارت کرتے ہیں، جن کے بقول ہماری کامیابی میں اُن کا اپنا مفاد بھی وابستہ تھا۔ جس ملک نے افغان مہاجرین کی دہائیوں پر محیط محرومیوں اور قربانیوں کے دوران عالمی امداد اور دیگر وسائل سے فائدہ اٹھایا، آج اسی ملک کے مقتدر حلقے احسان فراموشی کے الزامات ہم پر عائد کر رہے ہیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ کل جس افغان مزاحمت کو اپنے مفاد کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، آج اسی افغان قوم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یاد رکھیے، افغان قوم کی قربانیوں کو گالیوں سے مٹایا نہیں جا سکتا، اور نہ ہی تاریخ کے اوراق سے اپنے ماضی کے بیانات کو کھرچ کر پھینکا جا سکتا ہے۔
پاکستانیوں اللہ پاک کے احکامات کے مطابق اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہر پاکستانی ہتھیار اُٹھاٹے اور غدار پاکستان فوج کا ویسے ہی قتلِ عام شروع کرے جیسے وہ معصوم نہتے پاکستانیوں کا 78 سال سے قتلِ عام کر رہے ہیں یہ ہی قرآن میں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے ✔
اگر تم عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے اور بندوق کے زور پر راج کرنے کے بجائے عاجزی اختیار کرتے تو اپنے مرنے والوں کے لیئے تمہیں گدھوں کی ضرورت نہ پڑتی،
مکافات عمل سمجھتے ہو ناں؟
اب چونکہ تمہارا انتخاب ہی گدھے ہیں تو انہی پر سواری کرو اور رات کے اندھیرے میں جنازے دفناؤ بیشرمو!