عمران خان کے ان دلیر اتحادیوں کو دل کھ��ل کر سپورٹ کریں !
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کا ساتھ دینے کے لیے اپنا سب داؤ پر لگایا °
#خان_کو_گرانے_میں_کئی_گر_گئے
عوامی سروے !
خان کے ان وفادار نوجوانوں کو آج دل کھول کر سپورٹ کریں، ریکارڈ بننا چاہیے۔
کیونکہ ان کے بیانیے کی لوگوں کو بہت تکلیف ہے °
#خان_کو_گرانے_میں_کئی_گر_گئے
آج ان تین بہادروں کو دل کھول کر سپورٹ کریں، جو خان کے ساتھ وفادار ہیں "
اس ٹویٹ سے ضرور عمران خان مخالفوں کی چیخیں نکلیں گیں ۔۔۔!!
#نہ_خان_جھکا_نہ_عوام
[ عوامی سروے ]
کیا آپ آج بھی خان کے " Absolutely Not " کے ساتھ کھڑے ہیں ؟
1- ہاں 2- نہیں
اپنی رائے کمنٹ باکس میں ضرور دیں۔۔۔۔!!
#سالگرہ_مبارک_قیدی_نمبر_804
🚨🚨 🚨🚨 عمران خان کے تین بار کہنے کے باوجود یہ شخص عمران خان کا ایک ٹویٹ بھی ری ٹویٹ نہیں کرتا
گنہگار سوشل میڈیا ہے جو اس ٹوچے کو راہ راست پر نہیں لے کر ا رہے👇
اعظم نذیر تارڑ صاحب کی
��فتگو سے اندازہ ہوا کہ ابھی مسقبل کو کتنے ہی قاضی فائز عیسیٰ دیکھنے ہیں۔ رسوا، خجل اور چہرے چھپاتے ہوئے۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔
ہر فرعون ڈوبتا ہے لیکن ہر عہد لازماً نئے چھوٹے بڑے فرعون پیدا کرتا ہے۔
عاصم منیر کی بیٹیوں کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے حوالے سے بی بی سی نے فوج کا ردعمل جاننے کیلئے آئی ایس پی آر سے رابطہ کیا تو آگے سے جواب ملا:
ڈی جی صاحب روزے سے ہیں، آپ رمضان کے بعد کال کریں ۔ ۔ ۔
بی بی سی کا نمائندہ بھی شاید فیصل آبادی تھا، کہنے لگا:
انی دیو، تمہارا روزہ کیا رات 9 بجے تک جاری رہتا ہے؟؟؟
پیارے نبی ﷺکےجانثار صحابی حضرت حبیب بن زیدرض کا تڑپا دینے والا واقعہ خدا کی قسم جسے پڑھ کر آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اللہ اکبر۔ آپ بھی ایک دفعہ لازمی پڑھیں
مسیلمہ کزاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی - - - آدھے عرب کا میں نبی" - معاذاللہ
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-
جب نبی پاک ﷺ نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :-
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کذاب کے پاس”
آج قوم کے اس سپوت کا 52 واں جنم دن ہے۔ ہمیں اس عظیم صحافی اور نڈر پاکستانی کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔ ہمارے پاس جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہمیں ہر حال میں فوج کو سیاست سے دور ہٹانے کے مشن کی تکمیل کرنا ہوگی۔ یہ راستہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ شہید ارشد شریف نے جان کی قربانی دے کر راہ متعین کر دی ہے اب ہم سب کو اپنے حصے کی تھوڑی کوشش کرنی ہے۔ پاکستان زندہ باد
چوہدری شجاعت حسین نے 2003 میں انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ جب نوازشریف کو مشرف نے اڈیالہ میں قید کررکھا تھا تو اس سے ملاقات ہوئی اور پارٹی کے لائحہ عمل بارے پوچھا۔ نوازشریف نے مضبوط لہجے میں جواب دیا کہ ہم ڈٹے رہیں گے اور آمریت کا مقابلہ کرتے رہیں گے، پارٹی کے لیڈران اور کارکنان بھی ڈٹے رہیں۔
دو دن بعد صبح اخبارات کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ شریف خاندان آدھی رات کو سارے خاندان کے ہمراہ جدہ بھاگ گیا۔ چوہدری برادران کو شدید توہین کا احساس ہوا کہ دو دن قبل ملاقات میں تم نے بتایا تک نہیں کہ تمہاری ڈیل چل رہی ہے۔
اس دن کے بعد چوہدری برادران نے ق لیگ بنانے کا فیصلہ کیا اور مشرف کے ساتھ مل گئے۔
بالکل یہی داستان بینظیر کی بھی ہے۔ ایک طرف مخدوم امین فہیم کے ذریعے اے آر ڈی تحریک میں شمولیت اختیار کی، لندن میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلا کر خود علاج کے بہانے دبئی بیٹھی رہی۔ اگلے دن ٹی وی سے پتہ چلا کہ مشرف نے پی پی کو این آر او دے دیا۔
اب آجائیں عمران خان کی طرف۔
گنڈاپور نے آج ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ چند ہفتے قبل فوج سے 99 فیصد معاملات طے پاگئے تھے اور عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے جارہے تھے لیکن عمران خان نے شرط عائد کردی کہ پہلے تمام گرفتار کارکنان رہا ہوں گے، پھر وہ بنی گالہ منتقل ہوگا۔
اس میں وہ کارکنان بھی شامل تھے جو ملٹری کی حراست میں تھے۔ فوج نے بڑے ترلے کئے لیکن خان نہ مانا اور اپنے کارکنان کی رہائی تک جیل میں ہی رہنے پر مصر رہا۔
آج اگر نوازشریف اور بینظیر کی جماعتیں تباہ و برباد نظر آتی ہیں اور ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے ساتھ عوام کی بھرپور اکثریت کھڑی ہے تو اس کی وجہ لیڈرشپ کا یہ فرق ہے۔
ایک طرف ذاتی مفاد کیلئے ڈیل کرنے والے کرپٹ بھگوڑے، دوسری طرف عوام اور کارکنان کیلئے مشکلات جھیلنے والا عمران خان۔
عوام کیوں نہ اس پر اپنی جان چھڑکیں؟؟؟
یہ سال بھی فسطائیت کے اعتبار سے سخت ترین گزرا لیکن اس سال کچھ اہم ترین کامیابیاں بھی قوم کو حاصل ہوئیں
پی ٹی آئی نے 8 فروری کا الیکشن فوجی جبڑے سے کھینچ کر جیت لیا۔
عوام نے تاریخ میں پہلی مرتبہ عسکری پراڈکٹس پر لعنت بھیجتے ہوئے ان کے بائیکاٹ کا آغاز کیا۔
اوورسیز پاکستانیوں نے امریکہ سے ��ے کر آسٹریلیا تک، نہایت مؤثر کردار ادا کیا اور تقریباً ہر ملک سے عسکری مافیا پر لعنتیں بھجوائی گئیں۔
ترسیلات زر، جو کہ جرنیلوں کی لائف لائن ہے، ان پر پہلی مرتبہ پاؤں رکھ دیا گیا۔ اگرچہ یہ مہم دسمبر کے آخری ہفتے میں لانچ ہوئی لیکن اس کے اثرات بہت آگے تک، بہت دور تک پہنچیں گے۔
عدالتی تاریخ کا سب بڑا نطفہ حرام فائز عیسی ایکسٹنشن لینے میں ناکام رہا۔
عوام اس بات پر متفق ہوچکی کہ برائی کی جڑ اور مرکز عسکری ہیڈکوارٹر ہی ہے۔
عاصم منیر کی سرمایہ کاری کونسل ایک ڈالر کی انویسٹمنٹ بھی نہ لا سکی جس سے اس کی نااہلی کا بھانڈا مکمل پھوٹ چکا۔
آئی ایس پی آر نے چار سے زائد سیاسی پریس کانفرنسز کیں اور ہر دفعہ تحریک انصاف کی لوکل قیادت کی طرف سے منہ توڑ جواب دیا جاتا رہا۔ یہ ہزیمت کی بدترین شکل ہے اور فوج کیلئے بہت بڑی منہ کالک۔
بائیڈن رجیم گٹربرد ہوچکی، ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی جرنیلی موتر سے پتلونیں گیلی ہونا شروع ہوچکی ہیں۔
2025 میں اللہ کی مہربانی سے اس سے بھی زیادہ کامیابیاں میسر ہوں گی!!!
جب عمران خان نے انڈین شائقین کے پتھراؤ پر فیلڈرز کو ہیلمٹ پہنا دیے
ہوا یہ کہ پاکستان میچ جیت رہا تھا انڈین شائقین سے یہ برداشت نہ ہوا
انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں پر بوتلیں اور مٹی کے ڈھیلے پھینکے
مگر ان کا سامنا دی گریٹ کپتان عمران خان سے تھا ۔ خان کی حکمت عملی نے انڈیا کو دنی�� بھر میں رسوا کیا
کوئی نہیں جانتا کہ عمران خان کب کیا کردے
مشکل حالات میں عمران خان حکمت عملی نے سب کو دنگ کرکے رکھ دیا🧵
24 سالہ مبین اورنگزیب، 9 افراد کے خاندان کا واحد کفیل، جسے ریاست نے سیدھی گولی مار کر شہید کر دیا اور ان کے ساتھ کئی اور زندگیاں اجاڑ دیں۔۔۔۔ جواب دو کہ تم نے #گولی_کیوں_چلائی