میری ایک اہم ترین شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا: فیلڈ مارشل جتنے مرضی ایکٹ پاس کروا لیں، جتنی مرضی آئینی ترامیم کروا ل��ں جب امریکہ نے انہیں آم کی پیٹی کا تحفہ بھیجا تو نہ کوئی ایکٹ انہیں بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی آئینی ترمیم۔
جن حرامزادوں کو آئین کی دھجیاں اڑانے میں کبھی آئین کی خلاف ورزی نظر نہیں آئی، فل کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہونے میں توہینِ عدالت نظر نہیں آئی، جن کے سامنے عدالتوں کو کوٹھا اور ججز کو خصی بنا دیا گیا اور پھر بھی ان کی غیرت نہ جاگی، انہیں آج ایک پریس کانفرنس میں توہینِ عدالت اور عدالت کی تکریم نظر آ رہی ہے۔ منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔
اس وقت سپریم کورٹ ایک کوٹھا ہے اور ججز طوائفیں ہیں۔ اور کوٹھے پر موجود ہر طوائف کو ہر گاہک اپنی حیثیت کے مطابق پیسے دے کر استعمال کرتا ہے۔ اس کی کوئی توہین نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی کوئی عزت ہی نہیں ہوتی۔
اخے توہینِ عدالت
علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو چاہیے کہ سلمان اکرم راجہ اور سہیل آفریدی سے ڈنڈا دے کر فیصلہ کروائیں۔ 27 ستمبر میں ابھی تقریباً چالیس دن باقی ہیں۔ عمران خان کے لیے کچھ کرنا ہے تو اس کا وقت 27 ستمبر نہیں، آج ہے، ابھی ہے۔ اس وقت عمران خان تکلیف میں ہے، اس وقت خاموش رہنے والا ہر کردار عمران خان کا مجرم ہوگا۔
پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے، سپریم کورٹ جانا چاہیے۔ کچھ انصاف پسند یوتھیوں کو یہ کیڑا کاٹ رہا ہے۔ ارے بھئی جو کوٹھا اپنے ہی ایک حکم پر عمل نہ کروا سکے، اس کی تکریم کر کے کیا اکھاڑ لو گے؟
عمران خان نے ہسپتال جانے سے انکار نہیں کیا، کیونکہ وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان ہشاش بشاش تھے تو وہ لعنتی ہے۔ 27 ستمبر سے پہلے کچھ کرو، ورنہ تم سب عمران خان کے مجرم ہو گے تم سب۔
اسے مکمل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا رہا، حتیٰ کہ پڑھنے کے لیے کتابیں تک نہ دے کر اسے ذہنی اذیت دی جاتی رہی۔ اور یہاں ٹاؤٹ اور خفیہ اثاثے ہمیں ڈیل اور ڈھیل کی کہانیاں سناتے رہے۔
نہ وہ نواز شریف ہے جو اپنی بیٹی گروی رکھوا کر اور قید کارکنوں کو اکیلا جیل میں چھوڑ کر خود باہر نکل آئے اور علاج کے بہانے لندن بھاگ جائے۔ نہ وہ زرداری ہے جو سودے بازی کرے۔ نہ وہ عاصم منیر ہے اور نہ کوئی فوجی جرنیل جو ذرا سی مشکل دیکھ کر بیٹی پیش کر دے۔
وہ عمران احمد خان نیازی ہے۔