جو دفاعی معاہدہ پاکستان کی حکومت کو فخر سے اپنے عوام کیساتھ شہید کرنا چاہئیے تھا وہ معاہدہ اپنی عوام سے چھپایا گیا اور اب ترکی کی حکومت نے اسے اپنی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئیے پیش کیا ہے اور عوام کے سامنے بھی رکھ دیا ہے۔
اس معاہدے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ روایتی اور معمول کا پاک سعودی دفاعی تعاون نہیں ایک مکمل کم از کم دس سالہ معائدہ ہے جسکی پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہے۔ اس معائدے کی اشاعت کے بعد بھی اگر ہماری پارلیمنٹ یا سیاسی جماعتیں اس پر بحث نہیں کرتی تو پھر عوام کو ایسی پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور حکومت پر دو حرف بھیج کر ۰۰۰۰
بشکریہ انگریزی روزنامہ ڈان
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟
آج جب میں دہشتگردی عدالت فیصلے کا انتظار کر رہا تھا تو اچانک گجرانولا پولیس ۹ مئی کے مقدمہ میں ایک مجذوب سے مزدور بندے کو پکڑ لائی۔جب سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے ۹ مئی کو سقوط ڈھاکہ بنایا تو میں اُٹھ کر کھڑا ہوا اور عدالت سے بولنے کی اجازت طلب کی۔ صرف ایک سوال سرکاری وکیل سے پوچھا کہ جن لوگوں نے پریس کانفرنس کی تھی انکو کیا سزاء ہوئی اس مقدمے میں۔۔۔۔اس کے بعد چراغوں میں روشنی ��ہ رہی۔۔۔۔جج صاحب نے ہمت کی، ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل کردیا گیا۔
ان شاءاللہ اسی ہفتے ضمانت ہوجائیگی
خبر ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد آٹا سستا ہو گیا ہے
ی��نی آٹے کے سستا ہونے کا کریڈٹ گورنر راج کو دیا گیا ہے
جبکہ اصل وجہ یہ ہے کہ پنجاب سے گندم کی ترسیل شروع ہو گئی ہے
لہذا جب چیف منسٹر سہیل آفریدی بار با�� چیخ رہے تھے اور گندم کی ترسیل پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے تبھی ان کی بات مان لی جاتی تو آٹا تبھی سستا ہو سکتا تھا
ایسا لگتا ہے سیاسی بنیادوں پر خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ دشمنی کی گئی
ایک جانور کو بھی ایسی موت دینے سے پہلے انسان کئی بار سوچتا ہے، مگر ان درندوں نے اس معصوم غریب بچے کی کس بے رحمی سے جان لی!
وسیم عباس، عمر صرف 15 سال، مظفرگڑھ سے ملتان الیکٹریشن کا کام سیکھنے آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کام میں تاخیر پر ٹھیکیداروں نے اس پر تشدد کیا، جس پر وہ بھاگ نکلا۔ دونوں ٹھیکیداروں نے گاڑی میں تعاقب کرکے اسے ٹکر ماری اور کچل ڈالا۔ معصوم بچے نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
بہرحال، اس نظامِ انصاف سے مایوس ہو کر بھی ہم صرف یہی درخواست کر سکتے ہیں کہ ان ظالموں کو قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی ��ائے کہ آئندہ کوئی کسی معصوم کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی جرأت نہ کرے۔
@rpo_multan
@OfficialDPRPP
@MohsinnaqviC42
@HBLPak Thnx to resolve issue with concerns, why issue was not resolved on two calls made on helpline and why app n central digital working system were failed to enhance the limit.
@HBLPak Today made call on hbl helpline. Rep asked to del n reinstall the mobile app. Did but issue not resolved. Issue is my app donot transfer daily over 50k inspite limit set is many times more. 03006703428
🏆 اعلان نامزدگی | پی ڈی ایل اے 2026۔بیرسٹرحسان خان نیازی کو
PAKISTAN DISTINGUISHED LAWYERS AWARDS (PDLA-2026)
میں ’’قانون کی حکمرانی اور انصاف کے ایوارڈ‘‘ (Rule of Law and Justice Award) کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
حسان نیازی کی عمدہ کارکردگی اعتراف کی مستحق ہے۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ان کے غیرمتزلزل عزم،لگن اور خدمات یقیناً وابل فخر ہیں! ⚖️
بیرسٹر حسّان خان نیازی انسانی حقوق، شہری آزادیوں ، کمزور طبقات، بالخصوص عورتیں ، بچوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے اپنی وابستگی کے باعث پہچانے گئے۔ اپنی قانونی جدوجہد کے ذریعے انہوں نے اُن لوگوں کے لیے انصاف کی اہمیت اجاگر کی ہے جن کی آواز اکثر سنی نہیں جاتی اور بیرسٹر حسان خان نیازی نہ صرف ان کی جنگ لڑے ہیں ان کی آواز بنے ہیں۔ بیرسٹر حسان نیازی بطور سیاسی قیدی جیل میں دس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں ان کی غیر موجودگی میں انکا ایوارڈ وصول کرنے لئیے ہم نےانکے والد حفیظ اللہ نیازی اورانکی بھانجی صفیہ نیازی کو یہاں بلایا ہے۔
بلیک اسٹون اسکول آف لاء اینڈ بزنس کے زیرِ اہتمام اور نارتھ امریکن بار کونسل کے تعاون سےمنعقد ہونےوالے آج کےایوارڈز کا مقصد قانون کے شعبے میں نمایاں خدمات، پیشہ ورانہ مہارت اور اُن ممتاز شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرناہےجو پاکستان کےقانونی و عدالتی منظرنامے ک�� تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔
آئیے، ہمارے ساتھ مل کر ان نامزد شخصیات کی خدمات اور شعبۂ قانون میں ان کی اعلیٰ کارکردگی، انصاف اور قانون کی بالادستی کے لئیے ان کے عزم کو سراہیں اور��راجِ تحسین پیش کریں۔
ایک بیوہ خاتون ٹیچر ساڑھے تین ماہ قبل 25 جون 2026 کو ریٹائرڈ ہوئیں انکا کوئی بیٹا نہیں ہے وہ گھر کی واحد کفیل ہیں۔ پنشن اور دیگر بقایا جات کے لیے انکی فائنل ساڑھے تین ماہ سے DEO بہاولنگر سمیرا شاہین صاحبہ کی میز پر انکے دستخطوں کی محتاج ہے۔ سمیرا شاہین صاحبہ کو فائل سائن کرنے کا وقت یا شاید کچھ اور نہیں مل رہا تو فائل بند کی بند پڑی ہے۔ نوٹس لیکر دعائیں لیں
@RanaSikandarH@SchoolEduPunjab