A dead whale weighing about 12 tonnes was recovered from a beach in Muanda after washing ashore on the Atlantic coast.
Officials used a 42-tonne crane after two days of failed attempts with tractors and other equipment, as crowds gathered to watch.
First half is now underway!
🇧🇷 Brazil face Norway 🇳🇴 in a Round of 16 clash.
Share your score predictions👇
🏆 #FIFAWorldCup
⚽ LIVE coverage: https://t.co/pXVSh7uEI8
معمار نو اکیڈمی، گوادر (Meymar E Neo Academy)کے پرنسپل اور جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بی این ایم کے رہنما رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی، عبدالحق مراد بلوچ، Abdul Haq Muradکو فروری میں گوادر سے پاکستانی فوج کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ آج ان کی تشدد زدہ لاش پانوان ، جیمڑی کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا اس کے علاوہ چار دیگر افراد کو بھی قتل کیا گیا ہے، جن میں پیری اور شاہ بخش بھی شامل ہیں۔۔
یاد رہے کہ عبدالحق مرادبلوچ نے بلوچستان یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مشکے میں ’’ معمار نو اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک اسکول قائم کیا، جسے پاکستانی فوج نے زبردستی بند کروا دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے گوادر میں اسی نام سے ایک اکیڈمی کی بنیاد رکھی، جہاں بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی تھی۔ تاہم، فروری میں انہیں پاکستانی فوج نے گرفتار کیا، جس کے بعد وہ جبری گمشدگی کا شکار رہے ، اور انھیں زیرحراست قتل کرکے لاش پھینکی گئی۔
اس سے پہلے بھی گوادر میں اویسس اسکول کے پرنسپل، زاھد آسکانی، کو پاکستانی فوج نے شہید کیا تھا۔ پاکستان میں اساتذہ کے قتل کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جو واجہ صبا دشتیاری سے لے کر شہید غمخوار حیات اور شہید عبدالحق مراد تک پھیلی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں تعلیم کی سہولیات پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں، اور جو لوگ جذبے کے ساتھ تعلیم دے رہے ہیں، انہیں چُن چُن کر قتل کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح بی این ایم کے رہنما رمضان بلوچ کو بھی 25 جولائی 2009 کو، جب وہ مشکے سے گوادر جا رہے تھے، اوتھل زیرو پوائنٹ سے گرفتار کرکے جبری طور پر لاپتا کر دیا گیا۔ وہ اب بھی پاکستانی فوج کے نامعلوم حراستی مراکز میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوج پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، جو جنگی جرائم ہیں۔ ہم انسانی حقوق کے قومی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ان کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
بلوچستان میں کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے، خواہ وہ استاد ہو، طالب علم، وکیل ہو یا ڈاکٹر۔ یہاں ہر طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ریاستی جبر، ��ومی غلامی اور تشدد کی واضح نشانی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست بلوچستان کو ایک کالونی کی حیثیت سے چلا رہی ہے۔ بلوچ قوم اس قبضے کے خلاف متحد ہے۔ جبر و ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتے، ایک نہ ایک دن ان کا خاتمہ ہونا ہی ہوتا ہے، کیونکہ ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔
#EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide #BalochistanCrisis #BalochMartyrs
You killed our beloved leaders but in reality, you only broke a bottle of perfume whose fragrance spread everywhere, we'll continue to follow their path until the end. ❤️