یہ ہیں وہ نامعلوم ذرائع جو کسبئی اور گشتیوں کے تحفظ کے لیئے جانیں قربان کرتے ہیں اور شہید کہلاتے ہیں، یقیناً یہ کال کسی میجر یا برگیڈئیر نے نہیں کی۔
تم ��ات لاکھ ہو یا سترہ لاکھ
تمہاری کل نسل، آل اولاد، تمہاری آئندہ نسل پر بھی 🖐️
جس جوش و جذبے سے خیبر پختونخواہ نکلا ہے اور ششٹم کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اگر پنجاب کی عوام بھی اسی جذبے سے نکل آۓ تو یہ رجیم اُسی وقت سب چھوڑ چھاڑ کے پاکستان سے بھاگ جاۓ گا۔
🚨جس جرت کے ساتھ بہادری مستقل مزاجی غیرت مندی کنسنٹنسی وقار کے ساتھ اس ظلم جبر کا مقابلہ کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں چھوڑیں جنوبی ایشیا نہیں پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی
پاکستان کے ٹاپ 10 intellectual میں سے ایک
@MoeedNj
نے عمران خان کو خراج تحسین
مظہر عباس کا اسٹیبلشمنٹ کو کھلا چیلنج 🔥
اگر ہمت ہے, سامنے آؤ میدان میں, لگاؤ مارشل لاء ۔۔ ان جمہوری لاشوں کو دفنا دیں، کیونکہ لاشوں کو لے کے گھوما تو نہیں جاتا. اور جو اچھا کام کر رہا ہے وہ براہِ راست آ جائیں،؟ یہ کہنے کی ان لوگوں کو جرات کیوں نہیں ہوتی کہ اگر جمہوری نظام ناکام ہو گیا ہے، سیاست دان ناکام ہو گئے ہیں تو اس نظام کو اٹھا کے پھینک دیا جائے، جمہوری لاشوں کو لے کے چلا کیوں جا رہا ہے؟۔۔
43 فیصد بچے پاکستان میں اپنے اصل قد و صحت کو حاصل نہیں کر پاتے .. اور اگر میرے بچے ایسی حالت میں ہوں تو مجھے نیند نہ آئے .. اس لیے میں اس شاہانہ لائف اسٹائل کے خلاف ہوں .. جب تک آپ کی عوام وہ زندگی نہ حاصل کر سکے جو اُن کا حق ہے .. تو کیسے ایک ملک کا سربراہ عیاشی کر سکتا ہے !!
سعودی عرب کے عشق میں مبتلا گروہوں کو یہ ٹرمپ ہی رسوا کر رہا ہے مگر مجال ہے کہ سعودی بادشاہ اور شہزادے حضور کی جانب سے کوئی تردید یا مذمت آئے اس ٹرمپ کے خلاف ۔۔۔وہ بیک چاٹنے والی بات جو ٹرمپ نے کی تھی اُسکے بھی مذمت سعودی شاہی خاندان نے نہیں کی ۔۔۔۔
ایک طرف ریٹائر ہونے والا بھارتی آرمی چیف چند کمروں کے فلیٹ میں جاتا ہے،
دوسری طرف ہمارے سابق جرنیلوں کے نام اربوں کی دولت اور سینکڑوں ایکڑ زمینوں سے جوڑے جاتے ہیں۔
سوال صرف اتنا ہے: یہ ملک عوام کا ہے یا کسی کی جاگیر؟؟؟
یہ عمران خان کی زندگی کی بہترین ویڈیوز میں سے ایک ہے۔
لیکن اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد آپ کو شہباز شریف کے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے پر زیادہ غصہ ��ئے گا
کہ ہم کتنے غیرت مند تھے اور اب ۔۔۔
وہ جو کرنا نہیں کروا کے رہیں گے صاحب
آپ پتلونیں اتروا کے رہیں گے صاحب
جو سبق وقت نے ڈھاکہ میں پڑھایا تھا کبھی
اب وہ لاہور میں دہرا کے رہیں گے صاحب
احمد فرہاد
بار بار شئیر کریں ایک ایک بات نظام کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے 👇
ایک عمران خان کو مائنس کرنے کے لئیے تم نے پارلیمنٹ کو مائنس کیا تم نے عدالت کو مائنس کیا تم نے آئین کو بھی مائنس کیا تم نے جمہوریت کو بھی مائنس کیا تم نے رول آف لاء کو بھی مائنس کیا تمام اداروں کو تم نے مفلوج کردیا ایک شخص کی وجہ سے
آپ پاکستان کو مائنس کررہے ہیں ! آپ نوجوانوں کو مائنس کررہے ہیں آپ ان کے ووٹ کو مائنس کررہے ہیں !! یہ بہت خطرناک بات ہے
حافظ حمد اللہ کی ٹاک شو میں گفتگو
کیا گاندھی جی نے انگریزوں سے احتجاج کی اجازت مانگی تھی کہ دو گھنٹے کی اجازت دے دیں احتجاج کرنے آتا ہوں
احتجاج ہمارا حق ہے اس کے لئے اجازت نہیں intimation اور undertakings ضروری ہوتی ہیں وہ ہم نے پولیس کو دے دی پولیس کون ہوتی ہے کہ ہم جن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان سے ہی پوچھیں کہ احتجاج کر سکتے ہیں یا نہیں ہم نے intimation دے دی اب پولیس اس لحاظ سے لا اینڈ آرڈر کی صورت حال اور ٹریفک کے انتظامات کرے " کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کی پریس کانفرنس
یہ پہلی ملٹری رجیم ہے جو بالکل بےشرم ہو کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔ پہلے یہ ہمیں دھوکہ دیتے تھے کہ انڈیا پڑ جائے گا۔ انڈیا کھا جائے گا۔ کھا تو تم سب کچھ گئے ہو۔ کسی اور کے لئے تو بچا ہی کچھ نہیں ہے۔
بیرسٹر حامد خان
جب شیخ مجیب الرحمان کو بغاوت کے جعلی مقدمے میں میانوالی جیل میں قید کر دیا گیا، اس وقت بہت سے موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی صحافیوں نے انکا مذاق اڑایا۔
نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی (بعد میں نوازشریف کے سرپرست بنے) نے لکھا کہ "شیخ مجیب جیل میں ایک دیوانہ ہے جو طاقت میں دوبارہ آنے کے خواب دیکھتا ہے جبکہ اسکی قید نے نہ صرف اسکی اپنی سیاسی حیثیت کو کمزور کیا ہے بلکہ اسکے حامیوں میں بھی مایوسی پھیلی ہے۔"
مزید لکھا: "مجیب کی قیادت میں جو تحریک چلی، اس میں ان کے بیانات کے ساتھ ساتھ ان کی قید کی صورتحال نے ایک مذاق کی صورت اختیار کر لی ہےجیسے کہ وہ اپنی اپنی ہی سیاسی صفوں میں ایک مذاق بن چا ہو۔"
اسی دوران میانوالی جیل میں ایک خندق کھودی گئی جسے شیخ مجیب نے اپنی قبر کہا تو ضیا شاہد (پاکستان میں زرد صحافت کے باقاعدہ بانی) نے لکھا: "شیخ مجیب جیل میں بھی خود کو ایک ہیرو کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔"
شیخ مجیب الرحمان کی میانوالی جیل میں قید کا مذاق اڑانے والے زیادہ تر پنجابی صحافی وہ تھے جو اُس وقت کی پنجا��ی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ تھے اور شیخ مجیب الرحمان کو ایک باغی اور ناکام رہنما کے طور پر پیش کرتے تھے اور ان کی قید کو قومی کامیابی قرار دیا کرتے تھے.
ہر دور کے فرعون کو ایسے کردار ہمیشہ میسر آتے رہے ہیں۔ آج بھی میسر ہیں۔
(از منقول)
کیا آپ جانتے ہیں یہ اخبار کس دن کا ہے؟
یہ 17 دسمبر 1971 کے دن کا ڈان اخبار کا کراچی سے شائع ہونے اخبار کا فرنٹ پیج ہے۔ اس سے ایک دن پہلے شام ساڑھے بج�� پاکستانی فوج بھارت کے سامنے سرینڈر کرچکی تھی۔
اوپر کیا لکھا ہے؟ جیتنے تک جنگ لڑیں گے۔ کون کہہ رہا ہے ؟ وقت کا آرمی چیف۔ ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ چین کی بھرپور حمایت ہمیں حاصل ہے۔ پھر نیچے غور سے دیکھیں۔ دو جگہ اشتہار لگا ہے کہ “ جہاد “ فنڈ میں حصہ ڈالیں۔
یعنی یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے جیسی شرمندگی کے اگلے روز بھی یہ جیتنے کی بڑھکیں بھی مارتے ہیں اور جیت کا جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ پھر یہ آخری دم تک اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ جلد ہم سب کچھ کنٹرول کرلیں گے۔ پھر یہ اس قدر ذلت کے بعد یہ کہنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ تھا۔
پھر جب یہ ریپ کررہے تھے ، نہتے معصوم لوگوں کا قتل کررہے تھے ، پروفیسرز اور طالبعلموں کو قتل کررہے تھے اس جنگ کو یہ جہاد قرار دی��ے ہوئے عوام سے اسکے لیے فنڈز بھی مانگ رہے تھے۔ یعنی یہ مذہب کا بے شرمی سے اور مکمل بے دریغ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ پھر یہ عوام کو مطمئن ک��تے رہیں گے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ فلاں بھی ہمارے ساتھ۔
اب بھی ایک تو انہیں لگتا ہے کہ چند لوگ مار کر یہ سب کنٹرول کرلیں گے۔ دوسرا یہ سب ٹھیک ہے والا جھوٹ بولتے رہیں گے اور تیسرا یہ کہ اپنی ہر بے غیرتی کو یہ کسی مقدس مذہبی جنگ سے منسوب کرتے رہیں گے۔ سیٹو سینٹو جیسے معاہدے کرکے سمجھیں گے ہمیں بچانے کوئی اور آجائے گا۔ پھر آخر میں یہ ہر طرح کے نتائج سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کریں گے۔
جاگدے رہنا ، ساڈے تے رہنا ۔