8 فروری کو جو نتائج بنا کر دیے گئی اس میں ہماری جماعت کی اکثریت نہیں تھی ! جاوید لطیف۔
( تیسرے ) نمبر سے اُٹھا کر حکومت دے دی گئی ہے آپ کی پارٹی تیسرے نمبر کی پارٹی تھی ! کاشف عباسی ۔
یہ رجیم ماضی کے چاروں ڈکٹیٹرز سے زیادہ بیوقوف گھوف اور آئین شکن ہے، ماضی والے مارشل لا لگاتے تھے آئین معطل کرتے تھے مسلط رہتے تھے اور ان کے جانے کے بعد آئین بحال ہوجاتا تھا اپنا فسطائی نظام ساتھ لے جاتے تھے
لیکن یہ رجیم آئین مسمار کرتی ہے اور باربار کرتی ہے اب تک کئی آرٹیکل مسمار کرچکی ہے۔نوے دن کے اندر الیکشن نہ کرانے سے گلگت بلتستان الیکشن چوری کرنے تک وہ رہا بار آئین مسمار کررہی ہے اور یہ سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ناجائز پارلیمنٹ کے ��ریعے کررہی ہےیہی انکے گلے کا طوق ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن کے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں اس کے علاوہ 9 اور کمپنیاں ہیں جن کے اثاثے ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیں یہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں؟
کشمیر کو جلیانوالہ باغ بنا دیا گیا ہے، اپنے ہی بیٹوں پر گولیاں چلائیں گئیں، انکی لاشیں گرائی گئیں، کوئی اس پر بات کریگا؟
اسے پہلے 9 مئی کو قتلِ عام ہوا، ڈی چوک پر اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا گیا۔ مریدکے سے پختونخوا تک، بلوچستان سے راولاکوٹ تک، اس ملک کو قبرستان بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات کا ذمعہ دار عاصم منیر ہے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے تم جرنیلوں کا نہیں! اپنے بیرکوں میں واپس جاو نہیں تو پورا پاکستان کشمیر بن جائیگا!
بلوچوں کے قاتل
پشتونوں کے قاتل
سندھیوں کے قاتل
پنجابیوں کے قاتل
گلگت بلتستانیوں کے قاتل
کشمیریوں کے قاتل
پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں
#RawalakotBleeds#FascismUnderAsimLaw
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
��ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو GB میں اپنے مینڈیٹ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئیے۔
کے پی حکومت اور لیڈرشپ کو کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جیتی ہو ن��ی نشستیں چپ چاپ بیٹھ کر کھو دینا عوام اور عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
عوام نے ووٹ دیا۔ اب لیڈرشپ کا کام ہے توانا آواز اٹھائے
بلوچوں، پشتونوں، بنگالیوں اور افغانیوں کے بعد اب کشمیریوں سے نفرت کا وقت شروع ہے۔ ان پر گھناؤنے الزامات لگانے میں بدقسمتی سے پنجاب کے دانشور ایک بار پھر پیش پیش ہیں۔