اقرار بھائی آپ بالکل درست فرما رہے ہیں ڈاکٹر اسرار نے جو کچھ کہا تھا وہ آج عملاً جلوہ گر ہوتا دکھائی دے رہا ہے
دراصل یہ بیان عمران خان اور جمائما کی شادی کے 3 دن بعد کا ہے
ڈاکٹر اسرار صاحب نے یہ گفتگو اسی زمانے میں کی تھی اور یہ ویڈیو بھی مستند ہے
تاہم اگر ہم تحقیق و تدبر کا راستہ اختیار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اسرار نے اپنی اس تقریر کے تقریباً 7 سے 8 مہینے بعد ایک رسالہ شائع کیا جسے انہوں نے عمران خان کے نام سے موسوم کیا
اس دور میں ڈاکٹر اسرار آرڈر آف الیومناٹی اور یہود کی جانب سے عالمی شخصیات کو جال میں پھنسانے کے موضوع پر تحقیق کر رہے تھے چنانچہ عمران خان کی شادی بظاہر ان کے نظریے سے ہم آہنگ محسوس ہوئی
لیکن بعد ازاں جب عمران خان کی فکری جہت اور عملی رویہ ان پر واضح ہوا
تو انہوں نے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا!!!
اور ایک مفصل رسالے میں انہیں عالمِ اسلام کا ابھرتا ہوا ستارہ قرار دیا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے منتخب فرمایا ہے
انہوں نے عمران خان کے حق میں یہ شعر بھی نقل کیا
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت عمران خان عملی سیاست میں وارد نہیں ہوئے تھے
مزید یہ کہ ایپسٹین فائل ایک بدنام زمانہ شخص اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی ایک ای میل کا شائع ہوئی جس میں عمران خان کو مغرب کے لیے آیت اللہ خامنہ ای چین کے صدر اور روس کے پیوٹن سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا
جو ڈاکٹر اسرار کی بات کو صحیح ثابت کرتا ہے
عمران خان ان قوتوں کے لیے چیلنج ہیں جو اسلام کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں اور ان کے مخالفین خواہ بیرون ملک ہوں یا اندرون ملک ان میں بے چینی پائی جاتی ہے
عمران خان سے خوف واضح نظر اتا ہے
تو ڈاکٹر اسرار احمد کی بات بالکل صحیح ہے