سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
[انگریزی سب ٹائٹلز - اردو بیان]
06 جنوری 2024
- میں نے اپنی زندگی میں پاکستان پر نافذ ہونے والے تمام مارشل لاء دیکھے ہیں۔ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے، جو پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور تھا۔
- حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے مطابق، یحییٰ خان نے اقتدار میں رہنے کے لیے ملک کا نظام تباہ کر دیا تھا۔ آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
- القادر ٹرسٹ کیس کو، پچھلے کیسز کی طرح، صرف مجھے دباؤ میں رکھنے کے لیے کھینچا جا رہا ہے، لیکن میں اس کا فوری حل چاہتا ہوں کیونکہ جیسے آپ عدت اور سائفر کیسز میں بے نقاب ہوئے، ویسا ہی اب ہوگا۔
- القادر یونیورسٹی ایک فلاحی ادارہ ہے جو ایک دور دراز گاؤں میں قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے بنایا گیا ہے۔
- میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کوئی این آر او نہیں مانگوں گا۔
- بشریٰ خان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ صرف پروپیگنڈا ہے۔
- اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن لاپتہ افراد کو واپس لانے کے لیے حکومت نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔
- پاکستان کی معیشت اپنی بدترین حالت میں ہے۔
#ReleaseImranKhan
#TheFearOfImranKhan
#SubtitledByPTI | #ImranKhan
@ImranKhanPTI
#FreeImranKhan
ملٹری کورٹ سے آج رہا ہونے والے پارٹی کارکن سمیع وزیر کی کیا حالت بنائی گئی ہے، آج ہسپتال کے بیڈ پر ہی فیملی کے حوالے کردیا۔💔
کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔
"حکومت اور سیکورٹی ادارے جھوٹ بول رہے ہیں کہ گولی نہیں چلائی، میرے سامنے کئی لوگوں کو گولی لگی اور میں نے ان کی وڈیوز بھی بنائے، مجھے سنائپر نے گولی ماری جو میرے منہ پر لگی، میں نے وہاں بہت سارے زخمی دیکھے، ڈاکٹرز کم اور زخمی اور شہید زیادہ تھے، سات سے آٹھ لوگوں کو تو میرے سامنے سنائپرز نے ٹارگٹ کر کے سر پر گولیاں ماری"
26 نومبر کو فوجی سنائپر کی گولی لگنے سے زخمی ہونے والے کارکن کی گفتگو
#گولی_کیوں_چلائی
#گولی_کا_بدلہ_بائیکاٹ_سے
Former Prime Minister Imran Khan's New Year Message - January 1st, 2025
Happy New Year to the nation! I have the utmost faith that 2025 will be the year of our genuine freedom.
I want to thank my nation for refusing to bow before the tyrants of this era, despite facing fascism.
On February 8, the people gave a decisive verdict and voted for a party that had been practically banned by stripping it of its election symbol.
The Pakistani nation stood as a symbol of resilience and courage, remaining steadfast throughout the year. God willing, your sacrifices will not go in vain.
The regime change experiment has proven disastrous not only for the national economy but for the entire system of the country. An economy growing at 6% has been destroyed, resulting in losses of $42 billion so far. The growth rate has shrunk from 6.1% to just 0.17%. Institutions and the justice system have been rendered ineffective.
Absurd decision to sentence civilians in military courts have provided global community with yet another opportunity to criticize the country.
The fascist regime imposed on the nation has tried every kind of oppressive and authoritarian tactic to instill fear, however, fear has its limits.
In the new year, I also want to thank those responsible for this blatant fascism and cruelty, as they inadvertently played a pivotal role in helping the nation break the shackles of fear. The entire (authoritarian) system is now on its knees. While it may delay its inevitable defeat with various tactics, such efforts are futile. God willing, victory will belong to the people and is imminent.
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام:
“مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 اس قوم کے لیے حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
رجیم چینج کے بعد ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نیا سرمایہ آنے کی بجائے صنعت کار اپنی انویسٹمنٹ نکال رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت کی اس بدحالی کی 4 بنیادی وجوہات ہیں:
نمبر 1: ملک میں قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کا خاتمہ
ملٹری کورٹس سے سویلینز / سیاسی قیدیوں کو سزائیں دلوا کر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا منہ کالا کیا ہے- ملٹری کورٹس اور “آئینی بنچ” بنا کر ملک سے رول آف لأ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس سے ہمارا “جی ایس پی پلس” سٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے- ملٹری کورٹس کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب بیرونی سرمایہ کاری ایک خواب ہے کیونکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھایا جا چکا ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ دباؤ کے ذریعے وقتی طور پر دکھاوے کا استحکام تو لا سکتے ہیں مگر جب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ایک ہی بنیادی ستون ہے جو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہے۔
نمبر 2: انٹرنیٹ کی بندش
تحریک انصاف کو کرش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا ہے۔ مستقبل IT کا ہے لیکن آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ حکومت نے انٹرنیٹ میں خلل پیدا کر کے نوجوانوں کے روزگار کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر کر دیا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے- وہ سارے کاروبار جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے-
نمبر 3 : سیاسی عدم استحکام
ایجینسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فراڈ الیکشن اور جھوٹ ، فریب پر کھڑے جعلی نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔
نمبر 4: دہشت گردی
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشتگردی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میں بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ آپ کو دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے دیرپا سیاسی حل نکالنا ہو گا، ورنہ دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناممکن ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دھڑلے سے جھوٹ بولا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی تجویز خود جنرل باجوہ نے تحریک انصاف دور میں کابینہ کے سامنے پیش کی تھی جس پر مراد سعید ، نور الحق قادری اور قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم دیرپا حل کی طرف نہیں لے جائے گا۔ کابینہ کے بعد اس وقت کی اپوزیشن کو بھی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کیطرف سے بریفنگ دی گئی تھی ۔ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد PDM حکومت کو بریف کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2021 میں جنرل فیض کا تبادلہ ہو گیا اور اسکے بعد کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا نہ اس پر ہمارے دور میں عمل ہوا۔
اگر آبادکاری سے ہی دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو مغربی بارڈر کے پار بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقل حل کے لیے اپنی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا ناصرف اعتراف کرنا ہو گا بلکہ تصحیح بھی کرنا ہو گی۔
آئی ایس پی آر کو جواب تو ملٹری کورٹس پر بھی دینا چاہیے، کون سا قانون آپ کو جج ، جیوری اور خود ہی جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے؟ ملٹری کورٹس کے ٹرائل شفافیت پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے دو مطالبات بالکل جائز اور فوری عمل درآمد کے لئے ہیں- 26ویں آئینی ترمیم کو ہم نے اس لیے فوری مطالبات کا حصہ نہیں بنایا کیونکہ وہ طویل کام ہے۔
حکومت اگر مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیتی تو ہماری ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم پورے زور سے جاری رہے گی-
نواز شریف اب صرف سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے-
1/2
This little angel's father was killed in cold blood by the fascist regime.
His "crime":
Exercising his Constitutional Right to express his political opinion, be counted & dreaming of a Free Pakistan.
May the perpetrators of this heinous crime rot in Hell.
#گولی_کیوں_چلائی
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو:
“جنگل کے بادشاہ نے خود کو آئین و قانون سے اوپر رکھ لیا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ سمیت ہر ادارے کو زیر کر کے ایک شخص کی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے دس سال کے لئے ملک میں آمریت نافذ کر دی گئی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے زریعے ملک میں خوف پھیلایا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرا دھمکا کر ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
ایجینسیوں کو ان کے اصل کام سے ہٹا کہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے، جس سے قومی ادارے فوج کا تاثر تباہ ہو رہا ہے۔ پورے ملک کو بند کر دیا گیا۔ اسلام آباد سے باقی صوبوں کا راستہ کاٹا گیا، اسلام آباد پہنچنے والی نہتی عوام پہ گولی چلائی گئی۔ ہمارے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا گیا، سیدھی گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ ان کے گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی توہین کی گئی-
ملک میں صوبائیت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے اسلام آباد میں پختونوں کو نسلی بنیاد پہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں- تحریک انصاف وفاقی جماعت ہے جس نے پورے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے- میں اپنی قوم کو ہدایت کرتا ہوں کہ حکومتی شرپسند عناصر کی کسی بھی کوشش کے باوجود آپ نے متحد رہنا ہے۔ ہم سب کسی بھی نسل سے بالاتر ہو کر صرف پاکستانی ہیں!
جب بھی ہماری جماعت احتجاج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ میرے اوپر جیل کے اندر مزید پرچے کر دئیے جاتے ہیں۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے کئی لوگ اب تک مسنگ ہیں جن کی زندگی کے بارے میں ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد از جلد گرفتار شہریوں اور ہسپتالوں اور سردخانوں میں لائے گئے زخمی اور شہید افراد کا ڈیٹا شائع کرے اور ہسپتالوں اور سیف سٹی کا CCTV کیمروں کا ڈیٹا بھی محفوظ بنایا جائے تاکہ سچ قوم کے سامنے آئے-
ہمارے دو مطالبات ہیں،
• سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز کے نیچے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا جائے
- ناحق قید سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے
مذاکرات کے لئے عمر ایوب کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے۔ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو سول نافرمانی، ترسیلات زر میں کمی اور بائیکاٹ کی تحریک شروع کی جائے گی۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام:
“ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم ہو چُکی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں اور پُر امن سیاسی کارکنان کو شہید کیا گیا ہے۔ ہمارے سینکڑوں کارکنان لا پتہ ہیں۔ سپریم کورٹ کو اب اس کا نوٹس لے کر اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہم پہلے بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سپریم کورٹ، لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا لیکن عدالتوں کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور ملک اس نہج ہر پہنچ گیا!
ہم تیرہ دسمبر کو پشاور میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے عظیم الشان اجتماع منعقد کریں گے- اس اجتماع میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی۔
میں دو نکات پر پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں
• انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں رہائی
• 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام
ہماری مذاکراتی کمیٹی عمر ایوب خان ، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر پر مشتمل ہو گی اور سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرے گی-
اگر ان دو مطالبات کو نہ مانا گیا تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائیگی۔ اس تحریک کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔
سول نافرمانی کے نتیجہ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کرینگے کہ وہ ترسیلات زر (remittances) کو محدود کریں اور بائیکاٹ مہم چلائیں۔ اس تحریک کے دوسرے مرحلے میں اس سے آگے بھی جائیں گے!!”
“26 نومبر کی رات کا میں عینی شاہد ہوں، 6 بجے سے لائٹس بند ہو جاتی ہیں، ساڑھے آٹھ بجے انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے، ایسے تو کوئی پرندے بھی نہیں مارتا جیسے انہوں نے ہمارے لوگوں کو چھلنی کیا ہے، کیا ایک سرکاری نوکری اتنی اہم ہوتی ہے کہ آپ ہر ایک حکم بجا لائیں گے، اللّہ نہ کرے پر جس نے گولیاں چلائیں اور جس کے حکم پر چلائیں اور جس طرح سے انہووں نے لوگوں کے بچے مارے ہیں اللّہ کرے وہ بھی اسی احساس سے گزریں۔۔۔
ایک بچہ جو شہید ہوا اس کی جیب میں سے 570 روپے، ایک چنے کا پیکٹ اور ‘پیاری امی’ کے نام کی موبائل پر 41 مسڈ کالز تھیں۔۔۔”
- ایم پی اے کے پی اسمبلی، شفیع جان
#اسلام_آباد_قتل_عام
#گولی_کیوں_چلائی
“He was talking to my sister on the phone when the call suddenly dropped. When she called back, a stranger answered and told her that Mobeen had been shot and was being taken to hospital,” Asad recounted.
https://t.co/PWYKOFxzZW
“اتوار 24 نومبر کو ہمارا احتجاج ہر صورت ہو گا۔
پاکستان کو بنانا ریبلک بنا دیا گیا ہے۔ ملک میں جمہوریت، آئین اور قانون کا جنازہ نکل چکاہے- چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو ضلعی عدالتوں کی طرح بےاختیار بنا دیا گیا ہے۔ جہاں سے کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔
پاکستانی قوم اپنی نسلوں کے مستقبل کے لئے 24 نومبر کو نکلے!!
مجھے پیغام ملا کہ احتجاج کو دس دن تک مؤخر کر دیا جائے تو مذاکرات شروع کئے جا سکتے ہیں۔ ہمارے مطالبات میں بےگناہ قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ فی الفور قابلِ عمل مطالبہ ہے۔ لیکن لاہور میں قید رہنماؤں کو ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے رکھا ہوا ہے۔ ان کو رہا کرنا سنجیدہ مذاکرات کی طرف مناسب قدم ہوتا۔ ایک سال سے جیل میں ہوں اس دوران مجھے ساٹھ سے زیادہ مقدموں میں ملوث کر دیا گیا۔ کل ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد مجھے رہا کرنے کی بجائے ایک اور بےہودہ مقدمے میں گرفتاری ڈالی دی گئی- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کرنے والی قوتیں سنجیدہ نہیں ہیں۔
احتجاج ہمارا بنیادی آئینی حق ہے- ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنے تین مطالبات رکھے ہوئے ہیں- احتجاج اور مذاکرات جاری رہیں گے- ہم سیاسی لوگ ہیں بات چیت سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں- اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے انڈر ٹرائل لوگوں کو رہا کیا جائے۔
ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی تو کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ چین اور ہندوستان کو اوور سیز چائنیز اور ہندوستانیوں نے اٹھایا۔ ملک صرف ترسیلات زر سے نہیں سرمایہ کاری سے ترقی کرتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی مجھے پچاس سال سے جانتے ہیں، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو وہ کیوں سرمایہ کاری کریں گے؟
آپ دیکھیں گے کہ اتوار کو سمندر پار پاکستانی ساری دُنیا میں پاکستان میں جاری فسطائیت اور جبر کےخلاف تاریخی احتجاج کریں گے۔ ان کو کوئی ڈنڈے نہیں مارے گا نہ ہی ان پر شیلنگ ہو گی۔ وہ آزاد جمہوری ملکوں میں رہتے ہیں۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو
Former Prime Minister Imran Khan’s Media Talk with Reporters at Adiala Jail:
(November 20, 2024)
Under no circumstances will our protest be canceled or postponed.
If there is tangible progress in negotiations with regards to our three demands, then the protests in Islamabad will turn into a celebration. Our convoys will start heading out for the protest on November 24 from Friday onwards.
It takes two to tango. We have already put forward our three-point agenda for the protest as well as for negotiations. We will talk when the other side puts forth their points. Negotiations will be held with those who have authority. Now you can think for yourself who has the power.
I have given two calls (for protest) after February 8 (2024). I had asked just my party to come out on October 4, and on November 24, I ask the entire nation to come out (and protest). Because this is the movement for the survival and sovereignty of Pakistan.
The country is not being run in line with the Constitution. Had the country been run according to the constitution, the largest and most popular political party in the country would not have been persecuted.
Every effort was made to keep PTI out of the elections. Even our electoral symbol was taken away, yet we won the elections on February 8 (2024) with a two-thirds majority. It has been ten months since the election fraud. How many cases have the election tribunals decided in all this time, especially in Punjab?
Our party workers and leaders are being harassed for a year and a half in fabricated cases without any evidence. Why are their bails not being granted?
It is said that I talked about attacking the army. My videos are available; I have never encouraged an attack on anyone. The footage of my illegal abduction by the rangers (paramilitary force) on May 9 (2023) was released to the public, which led to a reaction. I was in their custody, how was I to know what was happening outside?
How can unarmed women and children attack the army? Was Dr. Yasmin Rashid riding a tank that she would attack the Corps Commander's House? There are also videos of her in which she is continually seen urging people to remain peaceful.
Mere military operations are not the solution to any problem. It is necessary to have political engagement along with that. Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) is the only national political party that is capable of dealing politically with the problem of terrorism in the country. Only political forces with a public mandate can keep the country together.
Former Prime Minister Imran Khan’s media talk at Adiala Jail:
(November 21, 2024)
We will protest on Sunday, November 24th, under any circumstances.
Pakistan has been made into a banana republic. Democracy, the constitution, and the rule of law have all been annihilated from our country. Ever since the passage of the 26th Amendment, the High Courts and the Supreme Court have become as powerless as district courts, from where nobody can get any justice.
The Pakistani nation must come out on the 24th for the future of their generations.
I received a message that if we postpone the protest for ten days, then negotiations can take place. Among our demands is the release of innocent political prisoners, which could have been acted upon immediately. Our party leaders have been imprisoned in Lahore on fabricated charges for over a year-and-a-half. Releasing them would have been a positive step towards serious negotiations. I have been in jail for over a year, and during this time, I have been implicated in more than sixty cases. Instead of releasing me yesterday after bail was granted by the High Court, I was arrested in yet another absurd case. This shows that the powers-that-be are not serious about negotiations.
Protesting is our fundamental right. We have already put forth our three demands for which we are protesting and negotiations can be based on. Both the protest and negotiations will continue. We are political representatives, and any progress can only be made through negotiations. If they are serious about negotiations, then all our prisoners who are currently awaiting trial must be released.
Nobody will invest in the country unless there is rule of law. The Indian and Chinese economies were built by the Indian and Chinese diaspora overseas. Countries develop not only through remittances but also through investments. Overseas Pakistanis have known me for the past fifty years. Why would they invest here when they see that there is no rule of law in the country?
You will see on Sunday that overseas Pakistanis will hold historic protests all over the world against the fascism and oppression in Pakistan. They will not have to endure any police brutality because they live in free, democratic countries!
“24 نومبر غلامی سے نجات کا دن ہے
ملک میں قانون کی حکمرانی ، آئین کی پاسداری اور انسانی حقوق معطل ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم کا باہر نکل کر قربانی دینا نا گزیز ہو چکا ہے-
قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ بہادر شاہ ظفر کی طرح موت تک غلامی کا طوق پہننا ہے یا ٹیپو سلطان کی طرح مرتے دم تک آزادی کا سہرا پہننا ہے!!
سعودی عرب سے میرے مثالی تعلقات ہیں۔ جب وزیر آباد میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مجھے سب سے پہلی کال سفارت خانے کے ذریعے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آئی۔ ہمارے دور میں شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا تاریخی دورہ بھی کیا- ہماری حکومت کے خاتمے سے دو ہفتے پہلے OIC وزرائے خارجہ کی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جو سعودی عرب کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی- سعودی عرب ہر مشکل مرحلے میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے-
بشریٰ بی بی کے بیان کو توڑ مروڑ کر قوم کی توجہ بٹانے کی ناکام کوشش نہ کی جائے ۔ انھوں نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا- ہماری حکومت کے خلاف تمام سازشوں میں جنرل باجوہ کا ہاتھ تھا- میں نے اس وقت بھی چیف جسٹس اور جنرل طارق خان کے ذریعے سازش کی تحقیقات کروانے کی کوشش کی مگر جنرل باجوہ نے ایسا نہیں ہونے دیا اگر تب شفاف تحقیقات ہو جاتیں تو سچ کھل کر سامنے آ جاتا۔
بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، بطورِ اہلیہ انہوں نے احتجاجی کال کے حوالے سے قوم تک میرا پیغام پہنچایا- نواز شریف کے لیے مشرف دور میں کلثوم نواز بھی نکلی تھیں مگر اس نے ڈکٹیٹر ہوتے ہوئے بھی خاتون کو جیل میں نہیں ڈالا تھا مگر بشریٰ بی بی کو 9 ماہ جھوٹے مقدمات میں قید میں ڈالا گیا-
قوم اپنی توجہ 24 نومبر کے احتجاج پر رکھے-
انشاللہ فتح آپ کی ہو گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
“November 24th is the day to break free from slavery. The rule of law, constitution, and human rights are suspended in Pakistan, forcing the nation to come out to protest and make sacrifices. The nation must decide whether to wear the yoke of slavery like Bahadur Shah Zafar or to adorn the crown of freedom like Tipu Sultan.
I have excellent relations with Saudi Arabia. When I was attacked in Wazirabad, one of the first calls I received was, through the embassy, from HRH Crown Prince Mohammed bin Salman. Saudi Arabia has always stood by us in difficult times.
Only two weeks prior to our government being toppled, we held a very successful OIC foreign minister's conference in Islamabad, which would have been impossible to do had Saudia Arabia not supported and stood with us.
Bushra Bibi's statement was deliberately taken out of context to draw our brotherly country KSA into a needless controversy. She didn't mention Saudi Arabia at all.
My government was toppled through conspiracies, all orchestrated by General Bajwa. I tried to have these investigated through the Chief Justice and General Tariq Khan, but General Bajwa did not allow that to happen.
Bushra Bibi has no connection with politics; she only conveyed my message to the nation, as my wife, regarding the November 24th protest.
The nation should focus on the November 24th protest. God willing, you will emerge victorious.” - Message of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
سابق وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام پیغام:
“اسلام آباد قتل عام کے شہدأ کا سن کر انتہائی رنجیدہ ہوں- دورِ حاضر کے جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ کی تاریخ دہرائی ہے- ان شہیدوں کا خونِ ناحق ضائع نہیں جائے گا اور ہم ان شہدأ کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم تک لے کر جائیں گے-
حقیقی آزادی کی تحریک ان ہتھکنڈوں سے رکنے والی نہیں- نہ میں پیچھے ہٹوں گا نہ پاکستانی قوم- اگر ہم نے آج ہار مان لی تو پاکستانی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا-
پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے اور وہ پاکستان میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے- 9 مئی کو بھی ہمارے 25 کارکنان کو شہید کیا گیا اور اس بار بھی پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خون کی ہولی کھیلی گئی اور درجنوں شہریوں کو شہید کیا گیا جو کہ بدترین ڈکٹیٹرشپ میں بھی نہیں کیا گیا-
ہماری کال پر لاکھوں پاکستانی تمام تر رکاوٹوں، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود آئینِ پاکستان اور جمہوریت کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچے لیکن ان پرامن لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے- اس بار شیلنگ اور ربڑ بلٹس سے آگے بڑھ کر سنائپرز اور دیگر جان لیوا اسلحے سے قتل عام کیا گیا جو ڈیتھ سرٹیفیکیٹس میں بھی سامنے آ چکا ہے- درجنوں مظاہرین کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کیا گیا اور 6 ہزار سے زائد کارکنان کو جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا گیا-
میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر اس قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں-
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ شہدا اور زخمیوں کے حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام ہسپتالوں اور سیف سٹی کی CCTV فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ 9 مئی کی طرح شواہد غائب نہ کیے جا سکیں-
میں نے اپنی پارٹی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایات دی ہیں کہ شہدأ کے لواحقین اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیں- جو لوگ لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کے لیے تمام توانائی خرچ کریں اور جو لوگ گرفتار ہیں ان کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلا کی ٹیمز کی حوصلہ افزائی کریں-
اسلام آباد قتل عام کے خلاف پشاور میں شہدا مارچ کا انعقاد کیا جائے اور پارلیمنٹ کا سیشن جلد از جلد بلا کر قرارداد پیش کی جائے-
اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں اس قتل عام کے خلاف آواز اٹھائیں اور پاکستان میں جاری ظلم و بربریت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں-
میں اسلام آباد پہنچنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں- علی امین، بشریٰ بی بی، عمر ایوب، خالد خورشید، عالیہ حمزہ، شاہد خٹک، نوجوان لیڈرز سمیت مارچ کو لیڈ کرنے والے تمام سینئیر اور جونئیر پارٹی ممبران، ممبران اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو سراہتا ہوں-
پنجاب اور اسلام آباد میں جیسے کرفیو کا ماحول بنا کر تحریک انصاف کے کارکنان پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں- فارم 47 کے سہارے کھڑی کٹھ پتلی حکومت اور مافیا کے غلام پولیس کے آئی جیز صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے یہ ظلم کر رہے ہیں-
تحریک انصاف کے کارکنان متحد اور منظم ہو کر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں”