مولانا فضل الرحمن کی خوفناک باتیں۔۔۔
ہمارا صوبہ ، حضرت، آپ لوگ اسلا�� آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت کوئی رِٹ نہیں ہے۔
لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں، راستے روکے ہوئے ہیں۔
وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ IG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے۔ اور کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔
تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پورا کمپاؤنڈ، جتنا بھی تھا پولیس کا، وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔ پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہ�� کہ ہم ان سپاہیوں، پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔
اور DPO نے کہا، ٹھیک ہے، ہمیں دونوں باتیں منظور ہیں۔ پھر اگلے روز پتا چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ پھر علماء کرام سے درخواست کی کہ اب ان کو بھی چھڑوائیں۔ پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا۔ اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ۔ وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔
یہ تو آپ کی پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر ۔ اس وقت کرم، اورکزئی کے علاقے، وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا جی۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پختونخوا میں تو بالکل ہی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔
حضرت، آپ ہماری بات مانیں، یا تو یہ ہے کہ ہم عمداً اس کی اجازت دے رہے ہیں ، یا کوئی ڈیپ ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک ک�� نظر نہیں آ رہی ہے۔ اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے جی؟
بلوچ علاقوں میں، حضرت، آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں، آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایکوئپمنٹس لے جا رہے ہیں، تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان، دیہات وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں۔
تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟
صحافی چلے جائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں، باہر سے وہ چلے جائیں ان علاقوں میں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔
اس صورتِ حال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں، جس میں آگ لگی ہے، آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں۔ یہ کوئی معقول بات ہے؟
آپ نے آگ بجھانی ہے یا آپ نے گھروں کو تقسیم کرنا ہے؟ تو صوبے بنانے کے بعد بھی ایسی ہی صورتِ حال تقریباً ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
کرنسی نوٹ کے ڈیزائن کی تبدیلی کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دیتی ہے۔ 7 فروری 1984ء سے کرنسی نوٹوں کی پشت پر لکھا "حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے" 2025 میں ختم کرنے کی کابینہ نے کب چپکے سے منظوری دی کسی کو کچھ پتہ نہیں
یعنی حکومت منافق نہیں۔ اعلانیہ کرپشن میں کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی
پختون ماں جنگ کا ایندھن بننے کیلئے پیدا بچہ پیدا کرتی ہے
دیر میں اس معصوم کو بندوق اٹھانے پر جو شاباشی مل رہی ہے وہ آئندہ کی نسلوں کو بندوق اٹھانے پر اکسائے گی
ساتھ کھڑے ناکام اہلکار اپنی ناکامی کا ملبہ اس معصوم پر ڈال رہے ہیں
یہاں کھڑے بزرگوں کی ذمہ داری تھی کہ اس بچے کو بندوق کی جگہ لیپ ٹاپ اور کتاب دیتے
اس پولیس اہلکار کا فرض تھا کہ اس بچے سے بندوق چھین کر اسے کتاب تھماتا
لیکن
وہ اپنی ناکامی کو ان چند ہزار کے نوٹوں میں چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے
بلوچستان میں دہشتگردی کا سارا مدعا فتنہ ہندوستان کے نام سے بھارت پر ہے ۔ تو بھارت کے گرفتار دہشتگردی ماسٹر مائنڈ کلبھوشن یادیو کو 9 سال پہلے سزا سنا کر آج تک عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا
کیا یہ دہشتگردی کی حوصلہ افزائی نہیں ؟
پہلے عاصم منیر نے انتظامی یونٹس کی بات کی ۔ پھر شامل باجے محسن نقوی ' مصطفے کمال ' علیم خان وہی گیت گانے لگے
ایک تو اس پر بات فوج کا آئینی حق نہیں ۔ دوسرے اس منصوبے کا ٹارگٹ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملا کر ایک وفاقی صوبہ بنانا ہے
یعنی حکومت و جی ایچ کیو کا اپنا الگ صوبہ۔
گزشتہ 4 سال میں حکومت نے بجلی کے بلوں میں ایکسٹرا ٹیکس extra tax اور فردر ٹیکس further tax کے نام پر عوام سے 308 ارب روپے سے زائد جمع کیا۔ جبکہ 4 سالوں میں بجلی کے بلوں سے کل 1866 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ سینیٹ میں جمع دستاویزات میں انکشاف۔
روزنامہ دنیا میں م��ثر رانا کی خبر
علامہ حافظ طاہر اشرفی صاحب، آپ کا اس آیت کی صراط الجنان میں کی گئی تفسیر پر کیا موقف ہے ؟؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(51)
ترجمۂ کنز العرفان
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر صراط الجنان
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ:اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔} یہ آیت مشہور صحابی حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مشہور منافق عبداللہ بن اُبی کے بارے میں نازل ہوئی جو منافقین کا سردار تھا۔ حضرت عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ یہودیوں میں میرے بہت بڑی تعداد میں دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت والے ہیں،اب میں اُن کی دوستی سے بیزار ہوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا میرے دل میں اور کسی کی محبت کی کوئی گنجائش نہیں۔اِس پر عبداللہ بن اُبی نے کہا کہ میں تو یہودیوں کی دوستی سے بیزار نہیں ہوسکتا، مجھے آئندہ پیش آنے والے واقعات کا اندیشہ ہے اور مجھے اُن کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا کہ’’ یہ یہودیوں کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے ،عبادہ کا یہ کام نہیں۔ ��س پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۱ / ۵۰۳)
کفار سے دوستی و موالات کا شرعی حکم :
اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی اُن کی مدد کرنا، اُن سے مدد چاہنااور اُن کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا ۔ یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو ۔ چنانچہ یہاں یہ حکم بغیر کسی قید کے فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، یہ مسلمانوں کے مقابلے میں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تمہارے دوست نہیں کیونکہ کافر کوئی بھی ہوں اور ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں ، مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں ’’ اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدۃٌ‘‘ کفر ایک ملت ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۲۸۹)
لہٰذا مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے، اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود ونصاریٰ اور دینِ اسلام کے ہرمخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۲۸۹، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۱ / ۵۰۳، ملتقطاً)
اور جو کافروں سے دوستی کرتے ہیں وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت میں کفار کو کلیدی آسامیاں نہ دی جائیں۔ یہ آیتِ مبارکہ مسلمانوں کی ہزاروں معاملات میں رہنمائی کرتی ہے اور اس کی حقانیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پوری دنیا کے حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھ آئے گا کہ مسلمانوں کی ذلت و بربادی کا آغاز تبھی سے ہوا جب آپس میں نفرت و دشمنی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر غیر مسلموں کو اپنا خیرخواہ ا��ر ہمدرد سمجھ کر ان سے دوستیاں لگائیں اور انہیں اپنوں پر ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔
الیکشن کمیشن کا ٹی ایل پی سے انتخابی نشان ”کرین“ واپس لینے کا فیصلہ یکسر مسترد کرتے ہیں، ترجمان TLP
الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر منصفانہ، جانبدارانہ اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے، ترجمان TLP
من پسند جماعتوں کو غیر منصفانہ و مصنوعی برتری فراہم کی جا رہی ہے، ترجمان TLP
صوبے کو ایک عورت چلا رہی ہے اور گرلز سکولوں میں چھاپے مرد وزیر تعلیم 🫣 کسی نے بھی اس وزیر تعلیم کو عقل نہیں سیکھائی کہ عزت والا لباس پہن کر جانا چاہیئے اگر گرلز کی کلاس میں جانا ہے تو ، اوپر سے پانچ سات ڈشکرے اور ساتھ میں گن مین بھی اور کیمرہ مین بھی داخل ہوئے بے شرم کہی کے !
سینیٹ کی کمیٹی میں ایک پراسرار کردار، غلط معلومات اور چند اہم سوالات:
گزشتہ روز مجھے سینیٹ جانے کا اتفاق ہوا اور وہیں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ایک میٹننگ آبزرو کرنے کا موقع ملا میں باقی جنرل پبلک کے ساتھ بیٹھ گیا۔
میٹننگ اجلاس کے دوران ایک نہایت غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
اجلاس میں سینیٹر جناب طاہر خلیل صاحب بھی موجود تھے۔ دورانِ کارروائی ایک خاتون، جو کمیٹی کے ارکان کی نشستوں پر نہیں بلکہ عوام کے لیے مختص نشستوں ��ر بیٹھی ہوئی تھی، وقفے وقفے سے اپنی نشست سے اٹھتی، سینیٹر صاحب کے پاس جاتی، ان کے کان میں سرگوشی کرتی اور کچھ کاغذات بھی دکھاتی۔ یہ طرزِ عمل اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا اور اس نے توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
اس کے بعد سینیٹر صاحب نے اجلاس میں یہ مؤقف پیش کیا کہ پاکستان میں ایک وکیل اور ایک مولوی کی سرپرستی میں ایک ایسا گینگ یا گروہ موجود ہے جس نے ساڑھے چار سو بچوں کو بلاسفمی کے جعلی مقدمات میں جیل بھجوایا۔
یہ بیان حقیقت کے مطابق نہیں تھا۔
چنانچہ میں نے چیئر پرسن صاحبہ سے اجازت لی کہ مجھے ریکارڈ کی درستی کرنے دی جائے۔ اجازت ملنے پر میں نے فورم پر واضح کیا کہ پاکستان میں کسی ایسے “گینگ” کے وجود کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ البتہ اسپیشل برانچ کی ایک ابتدائی رپورٹ میں بعض دعوے کیے گئے تھے، لیکن بعد ازاں خود اسپیشل برانچ نے متعدد مواقع پر ہائی کورٹ میں پیش ہو کر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان دعوؤں کے حق میں ان کے پاس کوئی قابلِ اعتماد ��بوت موجود نہیں تھا۔
اسی طرح وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے اپنی تفصیلی تحقیقات کے بعد عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔ مزید برآں، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی متعلقہ رپورٹ بھی بادی ال��ظر میں خلافِ قانونی قرار پائی، جس کے نتیجے میں اس پر فی الحال عملدرآمد معطل ہے۔
جب فورم اور سینیٹر طاہر صاحب کے سامنے یہ حقائق اور عدالتی و تحقیقی ریکارڈ بیان گیا تو وہ خاصے حیران ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے ایک علیحدہ ملاقات میں اس معاملے پر مزید گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس سے پہلے اس کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ حقائق کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے کو متعلقہ کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے فورم پر بھی اٹھائیں گے۔
تاہم، اس ملاقات کے فوراً بعد ایک مخصوص پروپیگنڈا مہم کے تحت سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، تا��ہ اصل گفتگو اور اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق سے توجہ ہٹا دی جائے۔
اصل سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
وہ خاتون کون تھی؟ وہ کس کے ساتھ وہاں آئی تھی؟ وہ کس کے کہنے پر وقفے وقفے سے ایک معزز سینیٹر کے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھیں اور انہیں ایسے نکات فراہم کر رہی تھی جو بعد میں حقائق کے برعکس ثابت ہوئے؟
یہ محض ایک فرد یا ایک ا��لاس کا معاملہ نہیں۔ اگر پارلیمانی کمیٹیوں کے اندر بھی عوامی نمائندوں تک غلط معلومات منظم انداز میں پہنچائی جا رہی ہیں تو یہ نہ صرف پارلیمانی عمل بلکہ ریاستی فیصلہ سازی کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جعل سازی پر مبنی رپورٹ، ملزمان کے ایک وکیل طرف سے وزارتِ داخلہ میں جعلی درخواست، یک طرفہ عدالتی کاروائی کے بعد غیر آئینی کمیشن اور اب ایوانِ اقتدار میں پراسرار کرداروں کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک جامع انکوائری کی جائے اور اس معاملے کی گہرائی تک پہنچا جائے۔
وفاقی حکومت نے وزیر اعظم صحت کارڈ پروگرام کے تحت بیماریوں ک�� تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ کروڑ وں مریض جدید تشخیصی نظام سے مستفید ہوں گے۔ کینسر اور دماغی امراض سمیت پیچیدہ بیماریوں کی مصنوعی ذہانت سے تشخیص ہوگی۔ 1100 سرکاری و نجی اسپتالوں میں اے آئی نظام نافذ کیا جائے گا۔اس کے لیے علی بابا گروپ اور صحت کارڈ پروگرام کے درمیان آئندہ ماہ معاہدہ متوقع ہے، وزیر اعظم نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے تشخیصی اخراجات میں اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔صحت میں AI اور انسانی عمل کا م��تقل محدود ہونے سے جو مسائل آئیں گے اس پر کوئی قانون سازی اور منصوبہ بندی نہیں کی جارہی ،جیسا باقی شعبوں میں اے آئی ٹھونس کر کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کا یہ اقدام صرف جدید ترقی سے متاثر ہونے پر کھڑا نظر آرہا ہے، تکنیکی لحاظ سے یہ خبر ایک بڑی پیش رفت کی دکھائی دیتا ہے، لیکن طبی دنیا اور عالمی ماہرینِ صحت اس انقلابی تبدیلی کو شدید تشویش اور تنقیدی نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں۔عالمی تحقیقی رپورٹ The Political Economy of Health Care سمیت بے شمار مغربی محققین اس کی حقیقت کھول چکے ہیں۔ان کے مطابق، صحت کے امور میں مشین کا داخلہ ہی سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ہوا ہے۔ اس میں ساری تصویر کشی جیسے کہ ایکس رے، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینز ، خون ٹیسٹ وغیرہ سب مخصوص کمپنی کی مشینوں اور آلات ، ان کی کوالٹی اور طریقے پر پیش کردہ نمبروں ، ان کے الگورتھم، سافٹ ویئر زکے اندر بندھے ہوئے ہیں۔
صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی اسٹریٹجک گائیڈ لائن میں جہاں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کے کچھ فائدے بتائے گئے ہیں، وہیں واضح طور پر متنبہ کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں سیکیورٹی، ڈیٹا مونوپولی (اجارہ داری)، اور مشینوں کی غلط تشخیصی صلاحیت کے باعث مریضوں کا جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
#shaoornews #SehatCard #AIinHealthcare #HealthcareDebate #shaoorfeed
ایوب خان کی آمرانہ حکومت کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان وفاق سے دور ہوگیا۔ ضیا الحق کی امرانہ حکومت کے نتیجہ میں سندھ میں وفاق سے بیگانگی اور بداعتمادی پھیلی۔ پرویز مشرف کی آمریت نے بلوچستان میں حالات کو انتہائی خرابی کی طرف دھکیل دیا۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام کی تعلیمات کا ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ظلم نہ کیا جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کی اکثریت انتہائی غریب ہے وہاں دالوں اور دواؤں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنا کیا ظلم نہیں ہے؟
9 دسمبر 1979 کو تربت (بلوچستان) میں سلطنتِ عمان کی فوج کے لئے مقامی نوجوانوں کو بطورِ کرائے کے فوجی بھرتی کرنے کا ایک کیمپ لگا ہوا تھا، جس کی سربراہی عمانی افسر کرنل خلفان ناصر کر رہے تھے۔ بلوچ قوم پرست تنظیمیں (بشمول BSO) اس بھرتی کے خلاف تھیں۔ بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن عبدالحمید بلوچ نے اس کیمپ پر فائرنگ کی اور گرفتار ہوئے۔
یہ مقدمہ سویلین عدالت کے بجائے 'خصوصی فوجی عدالت' میں چلایا گیا۔ پہلی فردِ جرم میں ان پر عمانی افسر پر قاتلانہ حملے اور اسے زخمی کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، جب یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ عمانی افسر بالکل محفوظ اور زندہ سلامت عمان واپس جا چکا ��ے اور جائے وقوعہ پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تو پراسیکیوشن نے چارج شیٹ تبدیل کر دی۔ کیس کو دفعہ 302 (قتل) میں بدل کر سزائے موت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نامعلوم مقامی اہلکار کا نام بطور "مقتول" شامل کیا گیا، مگر تحقیقات میں وہ شخص بھی زندہ نکلا۔
حمید بلوچ کے وکیل ایڈووکیٹ مبشر کیسرانی نے عدالت میں چیلنج کیا کہ جس مقدمے میں کوئی لاش یا مقتول موجود ہی نہیں، اس میں سزائے موت کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے۔ اس مضحکہ خیز صورتحال کے خلاف جب بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، تو ہائی کورٹ نے ٹرائل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حمید بلوچ کی پھانسی پر سٹے آرڈر جاری کر دیا۔
جب سویلین ہائی کورٹ سے سزا معطل ہونے کا قانونی راستہ نکل آیا، تو جنرل ضیاء الحق نے مارچ 1981 میں عبوری آئینی حکم (Provisional Constitutional Order - PCO) نافذ کر دیا۔ اس PCO کے تحت اعلیٰ سویلین عدالتوں (ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) سے فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے یا سٹے آرڈر دینے کا اختیار ہی چھین لیا گیا۔ نتیجے ��ے طور پر ہائی کورٹ کا سٹے آرڈر بے اثر ہو گیا اور تمام تر قانونی خلا کے باوجود 11 جون 1981 کو کوئٹہ جیل میں حمید بلوچ کو پھانسی دے دی گئی۔
اصل وجہ یہ تھی کہ عمان کو کرائے کے فوجی دینے کا معاہدہ متاثر ہو رہا تھا اس لئے عمان کو خوش کرنے کیلئے اپنے ہی ایک پاکستان کو مثال بنانے کیلئے تمام قانون و ضابطوں کو کچل کر سزائے موت دے دی گئی
پاکستان کی تاریخ کچھ ایسی ہی ھے 🤕
2 سال سے لکھ رہے ہیں کہ کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملی تو گندم کا شارٹ فال آئے گا، کسانوں کو مافیا بولا گیا، کہا کرپشن کے راستے روک دیے۔ ایکسپریس کی خبر کے مطابق، 35 لاکھ ٹن کا شارٹ فال، 20 لاکھ ٹن درآمد کرنا ناگزیر۔ یہاں کسانوں کو روپے دینے تھے، اب بیرون ملک کسانوں کو ڈالر دیں گے