گلگت بلتستان میں صرف عمران خان کے نام کی گونج ہے: 7 جون کی شام 8 فروری دہرائی جائے گی اور فسطائیت منہ کی کھائے گی۔
یہ ویڈیوز عوامی سروے ثبوت ہیں کہ گراونڈ پر کوئی نون لیگ یا پیپلزپارٹی کا نام لیوا بھی نہیں ہے، انشاءاللہ گلگت بلتستان کی عوام اپنے ووٹ پر ضرور پہرا د�� گی!
#گلگت_بلتستان_خان_کا
کشمیر پلندری میں عوام مکمل لاک ڈاؤن کرکے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے، جو احتجاج 9 جون کو شروع ہونا تھا وہ احتجاج فیصلہ سازوں کی بیوقوفی نے 6 جون کو ہی شروع کروا لیا ہے
گلگت بلتستان میں مقابلہ بہت سخت ہے اگر اصم منیر نے تھوڑی سی بھی ہینکی پنیکی کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر تو خدا کی قسم میں بتا رہی ہوں کہ گلگت بلتستان میں حالات بہت خراب ہو جائیں گے
اگر انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گلگت بلتستان ہم نے اس پارٹی کو دینا ہے یا ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے اور کشمیر میں ہم نے دوسری کسی جماعت کو الیکشن جتوانا ہے اور ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے جو ان کی مرضی کے ہیں تو یہ الیکشن والا تماشا اس ملک سے بند کر دینا چاہیے، انہیں لوگوں کو ویسے ہی ایک نوٹس ایک آرڈر ایشو کردینا چاہیے کہ یہ لوگ یہ ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں اور عوام کے ووٹ اور عوام صرف اور صرف یہاں پہ پسنے کے لیے اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارے کے لیے ہیں، یہاں پہ عوام تابعداری کرے نوکری کرے غلامی کرے ان جاگیر داروں، سیاستدانوں اور اشرافیہ کی، عوام کا پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا حق اگر آپ وہی ان سے چھین لیتے ہیں تو پھر عوام نے یہاں پہ کیا کرنا ہے؟ اگر آپ انہیں اس ووٹ ڈالنے والے سسٹم کا حصہ ہی نہیں بننے دیتے ��ور ان کی مرضی کے لوگوں کو چننے ہی نہیں دیتے تو وہ کیسے عوام سمجھے گی کہ یہ نظام ہماری وجہ سے کھڑا ہے؟ یہ بہت ضروری ہے اور یہ ملک کے لئے بڑا ضروری ہے کہ عوام کو واقعی اپنے آپ کو شیئر ہولڈر سمجھنا چاہیے کہ یہ جو لوگ چنے گئے ہیں یہ ہماری وجہ سے ہیں اور یہ جو نظام ہے یہ ہماری وجہ سے کھڑا ہے، آج ان کے وزیر وہاں (جی بی) جا کے کہتے ہیں میں یہاں پہ دو سو میگا واٹ بجلی دے دوں گا یہاں پہ اتنے ڈیم بنا دوں گا اور جو ملک کے اندر پہلے ہی چھالیس ہزار میگا واٹ آپ نے بجلی لگا دی ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ ایم این اے چوہدری مبین عارف جٹ
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
🚨خالد خورشید خان نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا
مجھے ہٹا کر جو حکومت لائی گئی انھوں نے گلگت بلتستان کے پہاڑ بیچے ، زمینوں پر بھی 10 پرسنٹ کا کٹ مارا،
اب ان کا پلان بہت خطرناک ہے اگر ن لیگ یا پی پی پی میں سے کسی کی حکومت بنی تو یہ گلگت بلتستان میں اتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کریں گے کہ لوگ پنجاب کی لوٹ مار کو بھول جائیں گے
ہم نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا، ہم نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا، ہم ایک ایسی جعلی حکومت کو خط لکھا جسے کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ ہم نے فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی غیر منتخب پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کو بھی لکھا، لیکن کوئی بھی عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرتا.
لہٰذا اب ہمارے پاس صرف ایک راستہ بچا ہے: مزاحمت! #اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت
سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان کا عوامی منشور!
🔹 گورننس:
گلگت بلتستان کو آئینی صوبے کا درجہ، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور بااختیار گورننس۔
🔹 وسائل پر عوام کی ملکیت:
زمین، جنگلات اور معدنی وسائل پر مقامی عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ اور وسائل کی ملکیت عوام کو منتقل کرنا۔
🔹 مواصلات، انفراسٹرکچر، روزگار:
روڈز، گلگت ایئرپورٹ، ہائیڈل پاور منصوبوں اور ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے ترقی، سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ۔
🔹 ہیومن ڈیولپمنٹ:
صحت، تعلیم، ہیلتھ کارڈ، خواتین کی تعلیم اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی، روزگار اور کاروباری مواقع کی فراہمی۔
گلگت بلتستان کے وسائل اور اختیارات پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے۔ عوامی حقوق کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خطے کو خوشحال اور خودمختار بنایا جائے گا۔
7 جون کو عمران خان کے نا��زد امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں اور گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
#گلگت_بلتستان_خان_کا
جب انہوں عمران خان کی حکومت چھینی اور اس کے بعد الیکشن چرایا ، ہمارے گھر توڑے، پی ٹی آئی نوجوانوں کو مارا اغواء کیا اس کے پیچھے ان کا بیانیہ تھا کہ ہم تجربہ کار ٹیم لائیں گے اور معیشت ٹھیک کریں گے آج معیشت کا جو حشر ہے وہ قوم کے سامنے ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری یوگنڈا، ایتھوپیا اور خونی انقلاب والے بنگلہ دیش سے بھی کم ہوچکی ہے۔
پتہ نہیں ان کو نیند کیسے آتی ہوگی ان کو شرم آنی چاہئے الیکشن کے ڈاکے بعد 90 کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں۔
ایف بی آر جب ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو لیوی کے ذریعے ٹارگٹ پورا کرتا ہے۔ 40 لاکھ لوگ ٹیکس والے نیٹ ورک میں آ سکتے لیکن آج تک صرف 2 لاکھ ٹیکس نیٹ ورک میں ہیں۔ یہ ادارہ ناکام ہوچکا ہے۔ قانون سازی کرا کے اختیارات لیے لوگوں کو گرفتار کرنے، میٹر، بند کرنے کے اختیارات لیے فیکٹریوں میں اپنا قاصد بٹھا کر بلیک میل کرنے کے اختیارات لیے لیکن نتیجہ صفر اس ادارے کو تو بند کردینا چاہیے۔ اسامہ ��یلہ
پاکستان میں اب فوج کا وجود نہیں رہا بلکہ یہ ایک مکمل عسکری سیاسی پارٹی بن چکی ہے، جس کا چیئرمین عاصم منیر ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی اس پارٹی کا جنرل سیکریٹری ہے۔