الحمدللہ
عظیم محدث، حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کے مزارِ مبارک پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہ لمحہ دل کے لیے نہایت روحانی، پُرسکون اور یادگار تھا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امام بخاریؒ کی علمی خدمات اور سنتِ رسول ﷺ سے محبت و وابستگی نصیب فرمائے۔ آمین۔
جو بنوں میں ہوتا۔ اور آس پاس بچہ بازی کا کلچر۔ ایسی ہی صورت حال تونسہ، لیہ، میاںوالی، بھکر میں ہے۔ میانوالی سے ایم پی اے اکرام اللّہ نیازی کا قتل بچہ بازی کے جھگڑے میں ہوا۔ لونڈے بازی معاشرے میں اوورل آل خاموش قبولیت رکھتی ہے۔ جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو کھیل کے میدانوں لونڈے بازوں
ویل ڈن
@yaqoob_0
اپ نے اج ایک بہت اھم ایشو پر بات کی
ایسی چیزیں کبھی کبھار ھی اچھی لگتی
لیکن جب ٹک ٹاک پر جاو ایک سے بڑھکر ایک ایسا میٹریل دیکھنے کو ملتے
نجانے جیسے کوئ ریس لگی ھو
مولانا فضل الرحمان صاحب نے پندرھویں صدی کا دوسرا سب سے بڑا حق بیان کیا ہے۔(پہلا باجوہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا تھا).یہ حقیقت ہیکہ دو ہزار دس میں جامعہ اشرفیہ میں منعقدہ اکابر علماء دیوبند کی مجل�� میں طویل بحث مباحثے کے بعد اس امر پر اتفاق ہو گیا تھا کہ پاکستان میں مسلح بغاوت ناجائز عمل ہے۔بریلوی مکتب فکر اور اہل حدیث حضرات پہلے ہی اس پر متفق تھے۔اس اتفاق رائے کے باوجود اس موقف کو بھرپور طور پر عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا جا سکا کیونکہ ایسی کوشش کرنے والی آوازوں کو گولیوں سے خاموش کر دیا جاتا رہا۔دوسری طرف قرائن سے ریاست بھی یکسو نہیں لگتی تھی۔اب پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالی نے پوری قوت سے وقت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس حق کو بیان بھی کیا ہے اور باطل کو للکارا بھی ہے۔ریاست نے علماء کی کیا حفاظت کرنی ہے۔اہل حق کی حفاظت الحق خود کرتا ہے۔جس ذہنیت کی دستبرد سے کبائر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانیں محفوظ نہ رہ سکیں ان کے ہاتھوں شہادت پانا یقیناً باعث سعادت و افتخار ہے۔
ماشاءاللّٰہ زبردست
عالم صاحب نے نماز میں ہونے والی عام غلطیوں کو درست کرنے کا بہت خوبصورت اور آسان طریقہ بتایا۔۔ نماز دین کا ستون ہے
نماز ہماری زندگی کی سب سے اہم عبادت ہے، اسے سنوارنا ہی اصل کامیابی ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم کون سا ہے؟
جواب
اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے بعض وہ ہیں جن کو اس لحاظ سے خاص عظمت و امتیاز حاصل ہے کہ جب ان کے ذریعہ دعا کی جائے تو دعا كی قبولیت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے ،ان اسماء کو حدیث میں ”اسم اعظم“ کہا گیا ہے ، لیکن صراحت کے ساتھ ان کو متعین نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ کسی درجہ میں ان کو مبہم رکھا گیا ہے ، نیز احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایک ہی اسمِ پاک “اسمِ اعظم” نہیں ہے بلکہ متعدد وہ اسماءِ حسنیٰ کو جن سے اللہ تعالیٰ کا جامع وصف مفہوم ہوتا ہے، اور ملاء اعلیٰ اور ہر دور میں جن سے اللہ تعالیٰ پکارا جاتا ہے ، اس نام کو “اسمِ اعظم” کہا گیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
"عن عبد الله بن بريدة الأسلمي، عن أبيه، قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو وهو يقول: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ، قال: فقال: «والذي نفسي بيده لقد سأل الله باسمه الأعظم الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى» ."
(سنن الترمذي (5 / 515) باب جامع الدعوات، ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
ترجمہ : "حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دُعا کرتے ہوئے سنا ، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر رہا تھا : ”اے اللہ! میں اپنی حاجت تجھ سے مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ بس تو اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں ،تو ایک اور یکتا ہے ، بالکل بےنیاز ہے ، اور سب تیرے محتاج ہیں ، نہ کوئی تیری اولاد ، نہ تو کسی کی اولاد اور نہ تیرا کوئی ہمسر“ ،رسول اللہﷺ نے (جب اس بندے کو یہ دُعا کرتے سنا تو) فرمایا کہ : اس بندے نے اللہ سے اس کے اس ”اسم اعظم“ کے وسیلہ سے دعا کی ہےکہ جب اس کے وسیلہ سے اس سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے ، اور جب اس کے وسیلہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔ "
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
"عن أنس، أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ورجل يصلي، ثم دعا: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، بديع السموات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لقد دعا الله باسمه العظيم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى»."
(سنن أبي داود (2 / 79)باب الدعاء،ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)
ترجمہ :” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور ایک بندہ وہاں نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے اپنی دعا میں عرض کیا : “اے اللہ ! میں تجھ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ ساری حمد و ستائش تیرے ہی ليے ہے ، کوئی معبود نہیں تیرے سوا ، تو نہایت مہربان اورمحسن ہے ، زمین و آسمان کا پیدا فرمانے والا ہے ، اے ذوالجلال والاکرام ! اے حیّ ،اے قیّوم !، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ : ”اس بندے نے اللہ کے اُس اسمِ اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے کہ جب اس سے الله تعالیٰ سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے ، اور جب اس کے وسیلہ سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔ “
اسی طرح ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
"عن أسماء بنت يزيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " اسم الله الأعظم في هاتين الآيتين {وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم} [البقرة: 163] ، وفاتحة سورة آل عمران: {الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم} [آل عمران: 2]."
(سنن أبي داود (2 / 80)باب الدعاء،ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)
ترجمہ :" اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے رو��یت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ”اسم ِ أعظم“ ان دو آیتوں میں موجود ہے ۔ ایک {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ}اور دوسری آل عمران کی ابتدائی آیت: { الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}."
تشریح ..... ان احادیث مبارکہ میں متعدد اسماءِ الٰہیہ کی خاص ترکیب سے اللہ تعالیٰ کا جو مرکب اور جامع وصف مفہوم ہوتا ہے، اس کو “اسم اعظم” سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی انہی احادیث کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے درج ذیل اسماء کو ”اسمِ أعظم “ کہا ہے:
"أَنْت الله لَا إِلَه إِلَّا أَنْت الْأَحَد الصَّمد الَّذِي لم يلد، وَلم يُولد، وَلم يكن لَهُ كفوا أحد، وعَلى لَك الْحَمد، لَا إِلَه إِلَّا أَنْت الحنان المنان بديع السَّمَوَات وَالْأَرْض يَا ذَا الْجلَال وَالْإِكْرَام، يَا حَيّ يَا قيوم."
Did you think the Epstein files were just about trafficking kids?
Wait until you see the ones that talk about hijacking our nervous system with viruses and bacteria. We’re basically just one giant science experiment for the elites. 😒🔬