ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کی کوشش کی، ہماری آوازوں اور سیاسی رہنماؤں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے جب بھی انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، ہمیں ناانصافی اور جبر کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ہم نے جب بھی اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی، ہماری آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب اگر ہمارے ساتھ کوئی کھڑا ہے تو وہ بلوچ قوم ہے، جس کے حوصلے، ہمت اور دلیری یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست ہم پر ظلم کے پہاڑ کیوں نہ توڑ دے، ہمیں ہر حال میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
آج یہ ظلم اور جبر کی داستان صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ آج ہر بلوچ اسی ناانصافی اور جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، پُرامن طریقے سے زندگی گزارنے کا حق، حتیٰ کہ یہاں جینے اور سانس لینے کا حق بھی ہم سے چھینا جا رہا ہے۔ اب اس نظام میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کرے تو کیا کرے؟
پُرامن سیاست، منصفانہ ٹرائل اور پُرامن احتجاج کا حق نہ صرف عالمی اصولوں کا حصہ ہے بلکہ ریاست کے اپنے قوان��ن میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ مگر ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، ہمیں تشدد، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتی ہو�� کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا، وہ بھی بغیر کسی واضح اور ٹھوس ثبوت و شواہد کے، بلوچ قوم کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ریاستی عدالتی نظام میں بلوچ عوام کے لیے انصاف کی کوئی گُنجائش نہیں ہے۔
مگر ہم یہ مقدمہ بلوچ عوام کے سامنے رکھتے ہیں کہ اب انصاف کی یہ جنگ بلوچ عوام اور قوم کو لڑنی ہوگی۔ ہمیں متحد ہو کر اس جبر کے خلاف پُرامن طریقے سے مزاحمت جاری رکھنی ہوگی۔ ہمیں اپنی پُرامن جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو معلوم ہو کہ ظلم، تشدد اور جبر کے باوجود ہم متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔
کل جو سب کی آواز تھے، کل جو ہر متاثرہ خاندان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، کل جنہوں نے دن رات ایک کر کے بلوچ عوام کے لیے جدوجہد کی، آج وہ ہماری جدوجہد اور ہماری آوازوں کے منتظر ہیں۔
کل جس نے کہا تھا کہ: “میں رہوں یا نہ رہوں، یہ تحریک آپ کی امانت ہے۔”
تو آئیں، ہم انہیں جی�� میں یہ احساس دلائیں کہ آپ کی امانت ہم نے اپنے سینوں سے لگا کر محفوظ رکھی ہوئی ہے اور آخری دم تک اس تحریک کو انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کے ذریعے جاری رکھیں گے۔
بلوچ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔
ریاست کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ جتنا زیادہ ہم پر جبر کریں گے، ہم اتنا ہی مضبوط ہو کر ابھریں گے۔ آپ جتنا ہمیں دبانے کی کوشش کریں گے، ہم اتنی ہی ثابت قدمی کے ساتھ پُرامن مزاحمت کریں گے۔ آپ جتنے لوگوں کو قید کریں گے، اتنے ہی لوگ اپنے حقوق کے لیے آگے آتے رہیں گے، یہاں تک کہ ظلم کی طاقت ہمارے حوصلوں کے سامنے کمزور پڑ جائے گی۔
#ReleaseBYCLeaders
کتاب سادہ رہے گی کب تک؟ کبھی تو آغاز باب ہو گا
جنہوں نےبستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو انکا حساب ہوگا
سحرکی خوشیاں منانےوالو سحرکے تیور بتا رہےہیں
ابھی تواتنی گھٹن بڑھےگی،کہ سانس لیناعذاب ہوگا
I am the reckoner of your "FALSE JUDICIARY".
Thank you for your call, Special Rapporteur on human rights, and for standing with this call for justice and due process for Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah. Fair trial is a fundamental right, not a privilege.
#ReleaseBYCLeaders#EndUnFairTrialOfBYCLeaders
🇵🇰#Pakistan
I express grave concern regarding life sentences imposed on WHRD Dr. Mahrang Baloch & Sibghatullah Shah, leaders of the Baloch Yakjehti Committee by the Anti-Terrorism Court in Quetta in a secret trial.
⚖️ Violations Identified:
• Denial of fair trial
• Abuse of antiterrorism laws
• Criminalization of peaceful assembly
• Due Process
• Double punishment for same act.
I urge Superior Judiciary to overturn manifestly unjust convictions.
@PakUN_Geneva@UN_SPExperts
کتاب سادہ رہے گی کب تک؟ کبھی تو آغاز باب ہو گا
جنہوں نےبستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو انکا حساب ہوگا
سحرکی خوشیاں منانےوالو سحرکے تیور بتا رہےہیں
ابھی تواتنی گھٹن بڑھےگی،کہ سانس لیناعذاب ہوگا
I am the reckoner of your "FALSE JUDICIARY".
کتاب سادہ رہے گی کب تک؟ کبھی تو آغاز باب ہو گا
جنہوں نےبستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو انکا حساب ہوگا
سحرکی خوشیاں منانےوالو سحرکے تیور بتا رہےہیں
ابھی تواتنی گھٹن بڑھےگی،کہ سانس لیناعذاب ہوگا
I am the reckoner of your "FALSE JUDICIARY".
کتاب سادہ رہے گی کب تک؟ کبھی تو آغاز باب ہو گا
جنہوں نےبستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو انکا حساب ہوگا
سحرکی خوشیاں منانےوالو سحرکے تیور بتا رہےہیں
ابھی تواتنی گھٹن بڑھےگی،کہ سانس لیناعذاب ہوگا
I am the reckoner of your "FALSE JUDICIARY".
we are the boat
returning to dock
we are the footprints
on the northern trail
we are the iron
coloring the soil
we cannot
be erased.
Remi Kanazi
#ReleaseBYCLeaders#MahrangBaloch
Turbat Shuts Down and Rejects the Life-Imprisonment Verdict Against BYC Leaders
24 June 2026 | Turbat, Kech, Balochistan
Today, a complete shutter-down strike was observed across Turbat in response to the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch. Markets remained closed as people expressed solidarity with the imprisoned leaders and their struggle for rights and justice.
The people of Balochistan strongly rejected the verdict, describing it as an attempt to silence political resistance and suppress the voice of the Baloch nation. Despite efforts in some areas to force shopkeepers to reopen their businesses, the strike remained largely successful, reflecting the public's continued commitment to resistance and collective action.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
Turbat Shuts Down and Rejects the Life-Imprisonment Verdict Against BYC Leaders
24 June 2026 | Turbat, Kech, Balochistan
Today, a complete shutter-down strike was observed across Turbat in response to the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch. Markets remained closed as people expressed solidarity with the imprisoned leaders and their struggle for rights and justice.
The people of Balochistan strongly rejected the verdict, describing it as an attempt to silence political resistance and suppress the voice of the Baloch nation. Despite efforts in some areas to force shopkeepers to reopen their businesses, the strike remained largely successful, reflecting the public's continued commitment to resistance and collective action.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
صبغت اللہ کا جرم صرف انصاف مانگنا تھا۔ انکے ہاتھ میں بندوق نہیں، بلکہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے آواز تھی۔ وہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف پُرامن جدوجہد کر رہے تھے۔ آج انہیں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ریاست پاکستان میں انصاف مانگنا جرم ہے۔
#ReleaseBYCLeaders