جب پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کے شور کے پیچھے عمران خان کو دوہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا گیا تھا تو یہی خدشہ تھا کہ آہستہ آہستہ اسے نارملائز کردیا جائے گا۔ آج وہی ہوا ہے۔
آج کل خان صاحب کا BP 100/140 رہتا ہے
اس سے پہلے خان صاحب کا BP 70/110 رہتا تھا........ذرائع
خان صاحب کو BP کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ تھا تو پھر کیوں BP زیادہ ہو رہا ہے؟
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ خان صاحب کو BP کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تو پھر کیوں BP زیادہ ہو رہا ہے؟
خان صاحب سے ان کی فیملی کی ملاقات کروانا ناگزیر ہے تاکہ خان صاحب کی صحت کے بارے میں سچی معلوم ہو سکے
سب آواز اٹھائیں
کیا خان صاحب کو کچھ دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے BP زیادہ ہو رہا ہے؟
ذرائع کے مطابق خان صاحب کا BP تھوڑا زیادہ ہورہا ہے
لیکن حقیقت تب معلوم ہوگی
جب خان صاحب کی بہنوں اور ان کے ذاتی معالج سے ملاقات کروائی جائے گی
اب شفیع جان نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کر دیے ہیں کون غدار اور کون وفادار ہے یہ بتانا آپ کا کام نہیں ہے آپ اپنی کارکردگی بتائیں
صوبائی صدر جنید اکبر نے الزام لگایا ہے کہ کروڑوں روپے بن رہے ہیں بتایا جاۓ کون بنا رہا ہے کروڑوں روپے اور کدھر جا رہے ہیں یہ پیسے
قاسم سوری
"میرے خیال میں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس سے تمام پاکستانی بڑے پیمانے پر مایوس ہیں۔"
عمران خان کے اعلیٰ مشیر @sayedzbukhari کے بارے میں کہ ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی حمایت کرنے سے جمہوری طور پر منتخب سابق وزیر اعظم کو تیسرے سال کے لیے جیل میں کیوں چھوڑ گئے۔
فوج کی رضامندی سے خبر دینے میں اور فوج کی دی ہوئی خبر دینے میں باریک سا فرق ہے جو آپ شاید سمجھ نہیں پائے۔ اول الذکر کا مطلب یہ ہے کہ فوج چاہتی تھی کہ زید ، بکر یا کوئی بھی شخص یہ خبر چلائے۔
بہن کے لکھ کر دینے والا وہ مدعا ہے جو نئی باریک واردات ہے۔ فوج کو جو لکھوانا ہے عمران خان سے لکھوائیں۔ عمران خان کے فیصلے عمران خان کو کرنے ہیں۔ کسی بہن کو یا اولاد کو یا کسی بھی تیسرے شخص کو کوئی اختیار نہیں۔
جیو نیوز نے خبر چلائی سہیل آفریدی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا لانگ مارچ کا مقصد رہائی نہیں بلکہ عمران خان تک رسائی ہے،دوسری طرف وزیراعلی کے سوشل میڈیا ترجمان یار محمد کے مطابق ایسا بیان نہیں دیا گیا۔
تیسری طرف عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش ناک خبریں ا رہی ہیں اور کوئی عوام کو ٹھیک طریقے سے بتا ہی نہیں رہا۔
یہ جو communication gap ہے اسکو ختم کریں عوام کے درمیان ائیں،ترجمانوں کی بجائے خود آفیشل سپیس میں اکر عوام کے سوالوں کا جواب دیں تاکہ چیزیں کلئیر ہوں۔
@SohailAfridiISF
شفیع جان نے چند دن پہلے شیر افضل مروت کی وفا کی کہانیاں سنائیاں اور کہا کہ ہم انہیں منا لیں گے
اب شفیع جان نے شہباز گل کی بے وفائیوں کے قصے سنا کر کہا یہ وفادار نہیں ہیں
شفیع جان یہ جو وفاداری اور بیوفائی کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہا ہے کیا یہ عمران خان نے لکھ کر دیے ہیں یا کسی کرنل نے؟
سلمان اکرم راجہ جی کے بارے میں یہ ٹویٹ 30 جنوری 2025 کو لکھی تھی
لوگوں نے بہت برا بھلا بولا اور راجہ جی کے حق میں لکھا۔۔۔۔
لیکن اب دیکھ لیں، راجہ جی بھی ایکسپوز ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔
ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ:
“اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“
غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔
جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟!
اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔
ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔
🚨🚨 شہباز گل کا بڑا دعویٰ...
4 تاریخ کو سہیل آفریدی کی ملاقات ہوئی ہے, محسن نقوی اور کور کمانڈر پشاور سے, اور 27 ستمبر لانگ مارچ کی تاریخ بھی سہیل آفریدی اکیلے کا فیصلہ ہے
ادھر ہم ادھر تم
فالج کا مریض ، سفید سر ، تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن مشکلات کا سامنا کرتا ہوا جاوید ہاشمی ، کیا وہ وہ جھوٹ بولتاہے کہ فوج نے ندیم انجم نے کہا ہمارے ساتھ مل جاؤ ، جتنی چاہے تنقید کرو بس کوئی بل وغیرہ آئے تو ووٹ دے دینا؟ جاوید ہاشمی جیسے کھرے آدمی کو یہ آفر کرنے والے پھتو شقو کو کیسے کیسے گھیرتے ہوں گے؟ ہم کیا آنکھیں بند کرلیں ؟ اندھے بہرے گونگے ہوجائیں؟
عمران خان ڈیل کو تیار نہیں تو کیا بے نامی اکاونٹس ، اوورسیز یا زہریلے یوتھیے اسے اس کے حال پر مرنے کے لیے چھوڑ دیں ؟ کہ باہر حالات بہت مشکل ہیں اور لوگوں کی مجبوریوں کا احساس کرنا چاہیے؟ اور تنقید وغیرہ نہیں کرنی چاہیے؟ حماد اظہر پنجاب کے صدر تھے اور روپوش تھے ، صدارت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے کہ واپس ملنا مشکل ہے۔ بے تحاشا تنقید ہوئی۔ پھر کہیں جا کر وزنی پتھر رکھا اور صدارت چھوڑی۔ اسکے بعد ان پر کوئی تنقید ہوئی؟ نہیں۔ کم بہت کم۔ انکی جگہ جو صدور بنے ہوا ان سے بھی کچھ نہیں۔ پر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حماد اظہر آج کے دن تک پنجاب کے صدر رہتے؟
شیر افضل مروت تحریک انصاف کا سنئیر نائب صدر بن گیا۔ پتہ چلا اسکے پیچھے فوج ہے۔ مخدوم شہاب الدین تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ پھر غداران وطن والے بینر پر بھی موجود تھے۔ پتہ چلا آزاد چینل کے ملازم ہیں۔ سلمان درانی ملاقات کے بہانے لوگوں کی آڈیو ریکارڈنگ ایجنسیوں تک پہنچاتا رہا۔ بنا تو وہ بھی تحریک انصاف کا ہمدرد رہا۔ کتنے ہی چہرے ہیں جو بظاہر آزاد ہیں لیکن در حقیقت وہ آزاد چینل سے پیسے لیتے ہیں۔ کتنے ہی معصوم لوگ جو بظاہر تحریک انصاف کے ہمدرد ہیں پیٹ کی خاطر، نوکری کی خاطر ڈی جی آئی ایس پی آر کے جھوٹ سننے کے لیے دو تین گھنٹے ٹک کر بیٹھے رہتے ہیں۔ کیا ہم ایسی سازشوں اور انفلٹریشنز کے امکانات رد کردیں؟
مانا کہ حالات سخت ہیں۔ شریف لوگوں پر بے جا تنقید بھی ہوجاتی ہے۔ گالم گلوچ بھی ہوتی ہے۔ غلط ہوتا ہے۔ سب غلط ہوتا ہے۔ لیکن الٹا ہمیں ڈراتے ہو؟ ادھر انگلیاں اٹھاتے ہو؟ عمران خان عملا اس وقت فوج نے بے ضرر کردیا ہے۔ جس میڈیا میں تم مخنث لوگ جا جا کر بیٹھتے ہیں وہاں نا عمران خان کا نام چلتا ہے نا تصویر۔ تم سے دس مہینوں میں عمران خان سے ایک ملاقات نہیں ہوپائی اور سوال اور اعتراض ادھر کرتے ہو؟
پھر روز کی وہی کہانی تم باہر بیٹھے ہو۔ ہاں بیٹھے ہیں۔ کسی عہدے پر تو نہیں بیٹھے۔ کسی وزارت پر تو نہیں بیٹھے۔ کسی اسمبلی میں تو نہیں بیٹھے۔ یہ تو تم نے تصور کر رکھا ہے کہ باہر بیٹھے ڈالر کما رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایک ٹکے کے روادار نہیں۔ اور کسی دن دیکھو کہاں بیٹھے ہیں۔ ٹرکوں اور ٹیکسیوں کی ڈرائیونگ سیٹوں پر بیٹھ بیٹھ کر تشریف فلیٹ ہوگئی ہے۔ سٹور پر کھڑے ہو ہو کر ٹانگوں میں خون جم گیا ہے۔ ڈالروں کی بوریوں کے اوپر نہیں بیٹھے ہوئے۔ سخت مشقت اور اذیت والی مزدوریاں کررہے ہیں۔ وہ جو ڈالروں اور پاونڈز والے ہیں وہ تمہیں کب کے چھوڑ کر بھاگ گئے۔
تم لیڈ کرو۔ تم عہدہ سنبھالو ۔ تم یہ کرو ۔ تم وہ کرو۔ تم چھوڑو تو یہ بھی ہوجائے گا۔ بناؤ شہباز گل کو سیکرٹری جنرل وہ باہر بیٹھ کر پارٹی کو متحرک کرے۔ آن لائن پارٹی الیکشنز کروائے ، فنڈ ریزنگ کرے ، دنیا بھر میں پارٹی کی نمائندگی کرے۔ بناؤ شہزاد اکبر کو سیکرٹری اطلاعات ، وقاص اکرم کی یئیں یئیں کی جگہ وہ نام لے لے کر بتائے کہ اس ملک میں کون کیا کررہا ہے۔
اور پھر آخری حد تم ان لوگوں کو سامنے لاتے ہو جو تم ہو ہی نہیں۔ غریب گھروں کے کارکنان ، ملٹری کورٹس میں پڑے ہوئے ، مڈل کلاس ، ماریں کھاتے ، لڑتے جھگڑتے لڑکے بالے ، تم ان کے پیچھے چھپتے ہو ؟ نہیں تم وہ نہیں ہو۔ نہیں وہ تو ہم ہیں۔ تم تو وہ ہو اسمبلیوں اور عہدوں والے۔ ملاقاتوں اور خفیہ پیغامات والے۔ اربوں کی جائیدادوں اور کروڑوں کی آمدن والے۔ عہدوں سے چپکنے والے۔ قائمہ کمیٹیوں کی مراعات پر بھوکوں کی طرح گرنے والے۔
یہاں سے ہزاروں اکاونٹس غائب ہوگئے۔ پتہ ہے کیوں چلے گئے؟ کہاں چلے گئے؟ کیا تمہیں پتہ ہے کس اوورسیز اکاونٹ ہولڈر کو کیا دکھا کر اکاونٹ بند کروایا گیا؟ کب آخری دفعہ سہیل آفریدی کا ، گنڈاپور کا ، شفیع جان کا ، سلمان اکرم راجہ کا بھائی بیٹا باپ اغواء ہوا؟ اور ادھر ہم ہیں ، بتا بھی نہیں سکتے کس پر کیا گزری۔
ہم دل بڑا رکھتے ہیں۔ تنقید پر ہنستے ہیں۔ فوکس بڑے مقصد پر رکھتے ہیں۔ ہم آپ سے الجھنا نہیں چاہتے۔ آپ ہم سے مت الجھیے۔ آپ اپنا کام کیجیے۔ ہمیں ہمارا کام کرنے دیجیے۔ آپ کا کرنے کا کام نہیں ہورہا۔ ہمارا کام رک نہیں رہا۔ خاموش ہوجائیے۔ روپوش ہوجائیے۔ آپ مجبور ہیں تو باہر آجائیے نا۔ یہاں آکر آپ بھی ڈالر کمائیے نا۔ نا کیا کیجیے حضور نا کیا کیجیے۔ آج کے لیے بھی اور آئندہ کے لیے بھی اتنا ہی کافی ہے۔ معاف کیجیے بابا معاف کیجیے۔
شفیع جان نے جو گھٹیا قسم کی باتیں شہباز گل کے بارے میں کیں اس سے رہا سہا شک بھی ختم ہوگیا کہ KP حکومت جرنیلوں کی چاکری میں جرنیلی بیانیے کی ذامن بن چُکی ہے۔ سوشل میڈیا کو اپنے خلاف کر کے تحریک کا ڈرامہ کرنا عمران خان سے دشمنی ہی نہیں بلکہ ایسے ہی ہےجیسے بغیر بلے کے کرکٹ کھیلنا۔