خواجہ آصف! مجرم پتلو نہیں، مجرم تم اور تمہاری جعلی حکومت ہے!
دس دن پہلے جس پتلو کو میرے گھر کے باہر یومِ نجات منانے کے لیے تم نے چیف گیسٹ بنا کر تقریب میں بلایا، آج اسی کو تم مجرم قرار دے رہے ہو۔
Frederick Douglass, 1857:
“Power concedes nothing without a demand. It never did and it never will.”
Douglass escaped slavery and became one of the great voices of abolition. His point: those who hold power over others never give it up out of kindness. Freedom has only ever been won by people who refused to stop demanding it.
That is why we speak every day. No one will hand us our freedom. We have to demand it.
#FrederickDouglass
عمران خان کا بھانجہ 🔥♥️
جس نے پوری تاریخ ادھیڑ کر رکھ دی!!
شوکت خان کی اولادیں دلیل سے بات کرتے ہیں, انتہائی ذہین خاندان جو انتہائی تعلیم یافتہ ہے!!
پاکستان کو یہی خاندان بچا سکتا ہے!!
عون چوہدری بھی فیورٹ ملازم تھا، جب تک کہ اس نے اپنی اوقات نہیں دکھائی تھی، جب تک اسکی چوری نہیں پکڑی گئی تھی، جب تک اس کی منافقت نہیں ظاہر ہوئی تھی۔
خان کی یہ عادت مجھے اچھی لگتی ہے، وہ انسانوں کے بارے اچھی رائے رکھتا ہے، جب تک کوئی انسان خُد اپنی اصلیت ظاہر نہ کر دے۔
خان صاحب تو ٹوئیٹر پر فالو بھی کرتے تھے، پھر ایک دن ان فا��و کیا، دنیا نے دیکھا۔
یہ نا�� نہاد صحافی @ajmaljami کی زبان ہے پتہ نہیں کیسے کیسے گھٹیا لوگوں کو ہم نے صحافی سمجھ لیا ہے اس گندی زبان والا شخص اب @MashwaniAzhar پر الزامات لگانا شروع ہو گیا ہے۔۔۔
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ و��ئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تی�� چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مج��ے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
��لال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
حامد میر پر حملہ اور ان کے شو پر حملہ، ریاست پر حملہ تصور ہوگا
آئی ایس پی آر نے تمام صحافی برادری کو میسج بجھوا دیا کہ حامد میر کے حق میں stay strong کمپین چلائی جائے۔
حامد میر پیسے کے لیے کچھ نہیں کرتا وہ CIA کے لیے کرتا ہے جو بھی کرنا ہو۔ تبھی اس کی بندر جیسی پلٹیاں دیکھیں گے۔ جو موقف جس وقت CIA کوُچاہیے ہوتا یہ اس وقت وہی موقف اپنا لیتا
میں ابھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے واپس آیا ہوں۔ نورین نیازی کے اہلِ خانہ، بشمول ان کی بیٹیاں، گزشتہ تین روز سے آئی سی یو کے باہر انتظار کر رہے ہیں، لیکن خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اہ��ِ خانہ کو ان کی طبی حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہیں نہ یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں کیا ہوا ہے، نہ ان کی تشخیص کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، نہ یہ بتایا گیا ہے کہ کون سے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، ان کی رپورٹس میں کیا سامنے آیا ہے، انہیں کون سا علاج یا ادویات دی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی علامات کے بارے میں کچھ بتایا جا رہا ہے۔ خاندان آئی سی یو کے باہر بے بسی کے عالم میں انتظار کر رہا ہے اور انہیں اپنی والدہ کی صحت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ دوسری جانب اسپتال میں تقریباً 25 سے 30 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ معلومات کی فراہمی اور رابطے کا یہ مکمل فقدان ناقابلِ قبول ہے۔ ان کی بیٹیوں اور اہلِ خانہ کو یہ جانن�� کا پورا حق ہے کہ ان کی والدہ کی طبی حالت کیا ہے، ان کی تشخیص کیا ہوئی ہے، میڈیکل رپورٹس میں کیا ہے اور انہیں کیا علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اہلِ خانہ جواب کے حق دار ہیں
آذاد کشمیر میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کو شہید کرنے کی افسوسناک خبر ملی۔ دکھ سے دل بھاری ہے۔ کیا ہمارے جنرلز کو سمجھ نہیں آ رہی یہ سب کچھ کیا کر رہے ہیں وہ۔ اس سے پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں۔ نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔
ابھی بھی ہوش کریں اور یہ اندھی طاقت کا استعمال بند کریں۔ عمران خان کو رہا کریں۔ مینڈیٹ واپس کریں۔ تاکہ وہ پوری قوم کو اکٹھا کر کے پاکستان کی بات کر سکے۔ خان کے علاوہ اس وقت اور کوئی نہیں جو قوم کو اکٹھا کر سکے۔