یہ شخص بدین سے تعلق رکھتا ہے اس کا جگر اور معدے کا مسئلہ ہے لیکن جناح اسپتال میں اس کو ایڈمٹ نہیں کررہے ہیں ۔ اس کے تین معصوم بچے ہیں ۔ یہ فیملی حکومت سے اپیل کررہی ہے کہ ان کا علاج کرایا جائے جبکہ مذکورہ شخص کی بیوی کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر کی بیماری سیریس ہے اور ان کے بچوں کا اور کوئی بھی نہیں ہے ۔ انڈس اسپتال نے ریفر کیا کہ ایڈمٹ کریں لیکن یہاں ایڈمٹ نہیں کیا گیا ۔ حکومت نوٹس لے اور علاج کرادے ۔
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی خودکشی کی کوشش۔
20 گولڈ میڈل اور نو چاندی اور براؤن میڈل لینے والی سونیا فاروق نے خودکشی کی کوشش کیوں کی.
پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مجھے جنسی تعلقات بنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ سونیا فاروق ۔
ہاسٹل میں سوتے ہوئے ہماری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور اسے استعمال کر کے ہمیں بلیک میل کیا جاتا ہے ثمرا بشیر
میں نے اس نا انصافی اور اس ظلم کے خلاف تین بار درخواست جمع کروائی مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ثمرا بشیر
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہم لڑکیوں کو رات کے ڈیڑھ بجے ہوسٹل سے نکال دیا۔
ثمرا بشیر
🚨🚨نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا🚨🚨
گجرات کے علاقے مچھیانہ میں ایک بہت ہی المناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک سگے باپ نے اپنی ہی 19 سالہ بیٹی کے ساتھ 5 سال تک زنا بالجبر کیا۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اس بچی کی ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس کے بعد اس بدبخت باپ نے اپنی بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جب بچی اسے روکتی تو وہ کہتا کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے، مگر یہ جھوٹا پیار 5 سال تک جاری رہنے والی ایک گھناؤنی زیادتی تھی۔ بچی نے جب اپنی ٹیچر اور ننھیال کو بتایا تو پہلے کسی کو یقین نہ آیا، لیکن جب اس نے اپنے باپ کی زیادتی کی آڈیو ریکارڈنگ سنائی تو سب کے ہوش اُڑ گئے۔ اس پر پولیس کو اطلاع دی گئی اور پولیس نے بچی کو بازیاب کرا کے ملزم باپ کے خلاف مقدمہ نمبر 449/26 درج کر لیا۔
مگر اب بچی کو اپنی جان کا شدید خطرہ ہے کیونکہ اس کا باپ اپنے دوست ریاست اور اس کے بیٹے کے ذریعے اسے دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے بیان واپس لینے پر مجبور کر رہا ہے، جبکہ ریاست اور اس کا بیٹا بھی اس بچی پر غلط نظر رکھتے تھے اور چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔ مظلوم بچی نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے اور مقدمہ خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لہٰذا اسے انصاف دلایا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ اس بچی کی آواز بنیں اور مطالبہ کریں کہ ملزم باپ، ریاست اور اس کے بیٹے کو سخت سزا ملے، مقدمے کی شفاف تحقیقات ہوں اور بچی کو محفوظ مقام پر رکھا جائے۔
@OfficialDPRPP
“ ناپاک معاشرہ “
راولپنڈی 14 ماہ کے بچے کی لاش کیساتھ بیٹھی ماں،جس کا ریپ ہوا،بچے کو تشدد کرکے مارا گیا. تھانہ چونترہ کی حدود میں سفاک شخص کے ہاتھوں چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے والی خاتون نسیم بی بی ہسپتال میں دم توڑ گئیں__
اگر آپ اس شیطان صفت معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے ظلم کو روک سکتے ہیں اور نہیں روک رہے، اس کے کیخلاف بول سکتے ہیں اور بول نہیں رہے، آپ اس برائی اور گناہ کے مذمت بھی نہیں کر رہے تو پھر “کلمہ پڑھ لیں��� __ لعنت ہے ایسے معاشرے پہ لعنت ہے ایسی انسانیت پہ لعنت ہے ایسے قانون پہ اور لعنت ہے ایسے انصاف پہ __
جب یہ عزت لٹی ہوئی ماں اپنے ۱۴ ماہ کے بچے کیساتھ اللّہ پاک کے حضور پیش ہوگی تو اللّہ پاک کے جلال اور قہر سے اس پاک سر زمین اور اس میں بسنے والی عالیشان قوم کو اللّہ پاک کے عذاب سے کون بچا سکے گا؟؟؟؟
گزشتہ امتوں کی انتہا سے ڈر نہیں لگتا
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا سے ڈر نہیں لگتا
😢💔
جان و جگر قائد محترم مولانا فضل الرحمن سے پہلی ملاقات، مصافحہ اور اس کے دست مبارک کو چومنے کا دل نشین منظر۔۔
یہ میرا قائد سے پہلا مصافحہ ہیں اور زندگی رہی تو کئ گھنٹوں تک ان کے روبرو بیٹھ کر ان کا دیدار کرتا رہونگا۔۔
#مولانا_چھاگئے#کرپٹ_چوکیدار#کالےچینلز_کی_مشتاقیاں
#پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ
#کرائے_کے_باکو
اس وقت سوشل میڈیا پر راولپنڈی سے وائرل ویڈیو ۔جس میں ایک کمسن بچے کو مارا جارہا ہے ہ
ویڈیو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ راولپنڈی کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن بلاک C کی ہے۔ ویڈیو شیئر کرنے والے شخص کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے تقریباً 8 سے 10 سال کے اس بچے کو بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچے سے گھریلو کام کروائے جاتے ہیں، اسے ڈانٹا جاتا ہے اور مبینہ طور پر ڈنڈے سے بھی مارا جاتا ہے۔
اگر یہ ویڈیو درست ہے اور تحقیقات میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی معصوم بچے کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہو۔
میری راولپنڈی پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کے متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور بچے کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
@Rporwp@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
ڈائیوو DAEWOO والو شرم کرو، تم گارگو سروس کے پیسے لیتے ہو، اس کے باوجود تم اس طرح کی حرکتیں کرتے ہو۔ جب تک یہ اپنے اقدام پر معافی نہ مانگیں لوگ بائیکاٹ کریں ان کا۔۔
تم ہوتے کون ہو مولانا سے معافی کا مطالبہ کرنے والے ؟
معافی کا مطالبہ کرنے والے کل مولانا سے معافی مانگیں گے۔
��نیئے شیخ الحدیث مولانا نورالحق کی گفتگو
#کنگال_عوام
#عیاش_حکمران
راولپنڈی میں باپردہ خاتون کی دن دیہاڑے ڈکیتی کی فوٹیج اس ملک میں شدید سماجی اور معاشی بدحالی کو نمایاں کرتی ہے۔۔
یہ خاتون نہیں بلکہ ملک کا قانون لُٹ رہا ہے یہ جوباپردہ مظلوم عورت کو لات ماری گئی ہے یہ قانون کی عزت پر ماری گئی ہے اب جب قانون بے بس ہے تو عوام قانون پر فاتحہ پڑھ لے
اسپین فٹ بال ٹیم کے واحد مسلمان کھلاڑی لامین یمال اپنے کمرہ میں قرآن پڑھنے کے بعد دعا کرتے تصویر وائرل ہوگئی لامین یمال اتور کے دن فائنل میں ارجنٹائن کے خلاف عمدہ کارکردگی دیکھانے کیلئے پرعزم ہے اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے اپنے رب پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ میرا یہ خواب پورے گا کہ میں اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ جیتانے میں اہم کردار ادا کروں مجھے ورلڈ کپ میں پوری دنیا سے جو پیار ملا ہے وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے
#FIFAWorldCup #cricket
فیفا فٹبال ورلڈکپ میں جوا کھیلا جاتا،ایک دو کھلاڑی خریدا جاتا جس سے میچ کا سارا توازن بگڑ جاتا��رات ایسے ہی ہر شعبے میں پرفیکٹ چل رہی انگلینڈ ٹیم کو ایک دم انتہائی بیک فٹ پہ لے جانے والے ہی دراصل انگلینڈ کی شکست کے ذمہ دار ہیں،رہی سہی کسر امپائرز کے چند فیصلے ہوتے
راولپنڈی میں ایک بیٹی کی چیخ… دل دہلا دینے والا واقعہ..!
خیبر پختونخوا کی بیٹی عصمت آراء، جو چار سال پہلے راولپنڈی کے احسان سے شادی کر کے گئی تھی، آئے روز تشدد، مار پیٹ اور ��لم کی زد میں رہی۔
آج وہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اسے پاؤں میں زنجیروں میں جکڑا ہوا، پاگلوں جیسی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک انسان کو، ایک بیٹی کو، ایک بیوی کو اتنا بے بس اور بے سہارا کر دیا گیا کہ وہ گھر سے بھاگ بھی نہ سکی۔
اس کے والد زیارت گل صاحب نے جب بیٹی کا حال پوچھا تو دیور نے فون پر کہا “بھاگ گئی ہے”۔ جب بیٹی نہ ملی تو انہوں نے تھانہ پیرودھائی میں درخواست بھی دی، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ آخر کار وہ خود اپنے والدین کے پاس پہنچی… اس حال میں کہ دیکھ کر آنکھیں نم ہو جائیں۔
سی پی او حسن مشتاق سکھیرا صاحب نے نوٹس لے لیا ہے اور مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ اب تحقیقات ہو ��ہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ:
ایک بیٹی کو چار سال تک اس طرح جیل میں رکھنے والوں کو کب انصاف ملے گا؟