ویسے آپس کی بات ہے بلوچستان اور کوئٹہ کے جو حالات ہیں ، فوج کے کاغذی منصوبوں کا جو حشر ہوا ، فوج کے پاس اب دھمکی والا منہ نہیں بچا۔ موجودہ صورت حال میں پاک فوج یئیں یئیں کرتی ، ہمارے مجسمے توڑے ہمیں گالیاں دی والا راگ گاتی ہوئی ، یا زیادہ سے زیادہ دو چار گانے ریلیز کرتی ہی فٹ بیٹھتی ہے۔
یاددہانی
عمران خان کی دس ماہ کی قید تنہائی اور علاج کی سہولیات نہ دینے پر تحریک انصاف نے احتجاج کا اعلان کیا۔
فوج نے ساٹھ ہزار اہلکار بلا لیے۔ عمران خان کی بہنیں گرفتار کرلیں ، گھر توڑنے شروع کردیے، اراکین اسمبلی اغواء کرلیے ، گورنر راج کی دھمکیاں ��روع کردیں۔ لیکن عمران خان کی ملاقاتین بحال نہیں کرنا چاہتے۔
ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں دوسرا یہ پھدو ہیں تیسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے۔ ایکس پر کتنے ہی اکاونٹس جنگوں کی رپورٹنگ کرتے ہیں ان کی ویڈیوز لگ��تے ہیں۔ اس شکایت سے وقار خان یا ان کے اکاونٹ کا لچھ نہیں بگڑنے والا۔ البتہ یہ ضرور پتہ چل گیا کہ بلوچستان کا آئینہ دکھائے جانے پر یہ کس اذیت میں ہیں۔
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد می�� کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے ��وجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ ا��تر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
71 میں جب پاکستان ٹوٹا تو پیپل پالٹی فوج کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔
اب جب بقیہ ماندہ پاکستان ٹوٹنے کا شدید خطرہ لاحق ہے تو کیا پیپل پالٹی پھر سے فوج کے ساتھ جٌڑ کر کھڑی نظر آئے گی؟
A puppet prime minister of an illegitimate regime, plundering Pakistan's wealth to bankroll investments in the UK under the guise of protocol—this attitude is precisely what turns Pakistan into a global punchline and crowns it number one on the world terrorism index.
Breaking!
PM @CMShehbaz has cut short his home leave in London by one day and left for Pakistan (we hope!). The PM spent 9 days in London, waiting for his historic visit to the stock exchange today.
Sir @TararAttaullah, did the PM consider flying over a day earlier, visiting the stock exchange in the morning, and leaving in the evening? Also any idea why the PM did not bring his foreign minister @MIshaqDar50 on the same plane? Seems the airfare on Dar sb’s PIA flight could have been avoided.
Finally, will the PM pay for the “private visits” to London? Okay, he can bill today to the taxpayer because he actually woke up early, held some meetings, etc. But what about the other 8 days? Asking on behalf of @MaryamNSharif who is wondering how her “private visit” to London was different than the PM’s? Never thought I’d say this but Maryam Antoinette may have a point!
It is quite a comedown for the London Stock Exchange to host a Prime Minister who presided over a period in which Pakistan, a country with enormous demographic, geographic and economic potential, remained one of the world’s chronic economic underperformers, burdened by weak growth, mounting debt and persistent structural problems.
BTW, Here is a man who was once investigated by the NCA and NAB/FIA over suspected money-laundering allegations linked to the infamous TT scandal, in which funds were allegedly transferred from various locations, including Britain, using the identities of proxies (ordinary people who reportedly had no knowledge of the transactions) into accounts belonging to members of his family, including his sons, (hence the name “TT” ) and it was alleged that some of the purported senders did not even possess the funds they were supposedly transferring. In Pakistan. In the 90's he was investigated for a similar scam, Hudaibya Papermill case, where Pakistan current deputy PM, Ishaq Dar was alleged to have used identities of British Pakistani Qazi family to launder monies into their companies accounts.
Billions were transferred through Telegraphic Transfers
All cases and investigations were closed after he became Prime Minister of Pakistan, following what we now know as dubious “regime change” operation, set in motion after the infamous “Cypher” from Washington, D.C., and involving the then Army Chief, Gen Bajwa.
And what was all the security about, @MurtazaViews? Was he worried about British Pakistanis protesting over what they regard as the theft of their mandate, the brutalities against Kashmiris, or the transnational repression they say they have faced here in the UK?
Note he is meeting the Jewish family of Rothschild & co. What explains Pakistan PM sitting with Jewish family. Begging for funds more important than Philistine ki azadi!!
سہیل آفریدی کو فی الحال حکومت چلے سے جانے سے ڈرایا جا رہا آج کی پریس کانفرنس اور پارلیمانی پارٹی اجلاس سے تو ڈر جانے والا تاثر نہیں ملا ۔ سہیل آفریدی کو سیاسی مستقبل دیکھنا چاہیے وہ دلیری اور قربانی سے جُڑا ہوتا ہے ۔ سیاست زندہ رکھنے کے لیے حکومت کی قربانی بھی دینی پڑے تو وہ مہنگا سودا نہیں ہوتا ۔ حکومت چلی جائے وہ پھر آجاتی لیکن سیاست رخصت ہوجائے تو اسکی واپسی مشکل ہوجا��ی
سہیل آفریدی نے پشاور BRT ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس، چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن اور مال آف حیات آباد ڈپو کا افتتاح کر دیا۔
سہیل آفریدی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے عوام کے ساتھ بی آر ٹی بس میں سفر کیا۔ وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی اسٹیشن پر عام مسافروں کی طرح بس کا انتظار کیا اور اپنا ٹکٹ خود خریدا۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئین کا پارٹ 10 ایمرجنسی پرو ویژن کو ڈیل کرتا ہے جس میں درج آرٹیکل 232 اور 234 کے کچھ لوازمات ہیں، جب تک وہ پورا نہیں ہوتے، ایمرجنسی نہیں لگائی جاسکتی۔
جب بیرونی ملک سے حملہ ہوں، اندورنی کوئی خلفشار ہوں یا حکومت ناکام ہوں تو آئین کے ��ن سیکشن کے مطابق ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے۔ اس وقت صوبائی حکومت مکمل طور پر فعال ہے۔
اس وقت صوبے میں ایسی کوئی حالات نہیں ہے، صوبائی حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ کے مطابق پرامن مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار نہیں دیا،عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ کوئی پارٹی پرامن مارچ نہیں کرسکتی-
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ جب بھی کوئی آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو پھر اس کے خلاف عدالت ہی جانا ہوتا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل ��تمانخیل نے مزید خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی غیر آئینی اقدام اٹھایا گیا تو ایڈووکیٹ جنرل آفس آئینی اور قانونی کاروائی کے لئیے تیار ہے اور صوبائی حکومت غیر آئینی اقدام کو چیلنج کرے گی۔