"کینسر سے زیادہ مہلک مرض - بغض عمران "
(کینسر سے متعلق ڈس انفارمیشن کی تصحیح )
میری اس ٹو��ٹ کے دو حصے ہیں - پہلا حصہ بحثیت ایک ڈاکٹر اس تجزیے اور پراپیگنڈے کی نفی میں ہے جو محض سیاسی بغض میں اس کلپ میں پھیلایا گیا ہے' جس سے بہت سے کینسر مریض گمراہ ہوسکتے ہیں اور دوسرا حصہ بحثیت ایک ناقد کے اس بغض کا جواب ہے جو یہاں دکھایا گیا ہے -
پہلا حصہ:
پچھلے چودہ سال سے ڈاکٹری کرنے ' دس سال سے امریکا میں ڈاکٹری پڑھنے اور سات سال سے معدے اور آنتوں کا سپیشلسٹ ہونے کی حثیت سے میں اس کلپ میں بیان کی گئی بات کو محض ڈس انفارمیشن ' جھوٹ اور گمراہ کن قرار دیتا ہوں - آنتوں اور معدے کے سینکڑوں کینسر دیکھے ہیں جن کو گیسٹرو انٹرالوجسٹ اور آنکولوجسٹ مل کر ٹریٹ کرتے ہیں - کینسر اور کیمو تھراپی کے بارے میں کچھ بنیادی اصول ہیں جو ہر انسان کا جاننا ضروری ہے تاکہ وہ اس طرح کے سیاسی پروگراموں سے گمراہ نہ ہو -
1. کینسر کا علاج اس کی سٹیج پر منحصر ہوتا ہے - سٹیج اول اکثر سرجری سے ہوجاتا ہے اور کیمو کی ضرورت نہی پڑتی - سٹیج دوم اور سوم جس میں کینسر پھیل کر لیمف نوڈز (LYMPH NODES) میں پہنچ چکا ہوتا ہے اس میں سرجری کے ساتھ کیمو تھراپی لازمی ہوتی ہے - یہ بات کہ کہ کیمو تھراپی کی ضرورت ختم ہوجائیگی ' بے بنیاد اور گمراہ کن ہے -
2. یہ بات کہ کیمو تھراپی کی تین سے زیادہ سائیکلز نہی ہوسکتی ' انتہائی جاہلانہ اور غلط ہے - ہر کینسر کیلئے گائیڈ لائنز بنی ہوئی (@NCCN GUIDELINES ) جن میں کینسر کی قسم ' اس کے سایز' اس کے پھیلاؤ اور مریض کی عمر کے حساب سے سائیکلز کی تعداد الگ الگ متین متعین ہوتی ہے جو کئی دفعہ دس سے بارہ بھی ہوسکتی ہے - اور سٹیج اول کے علاوہ کسی بھی کینسر کا علاج کیمو کے بغیر ممکن ن��یں ہوتا ورنہ وہ کینسر واپس آجاتا ہے - یہ بات کرنا کہ آسٹریلیا کے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا کہ تین سائیکلز سے زیادہ نہیں ہوسکتی غلط طریقے سے منسوب کی گئی ہے - بہتر ہوتا کہ ان ڈاکٹر صاحب کو ٹیگ کیا جاتا تاکہ غلط انفارمیشن نہ پھیلتی -
3. یہ کہنا کہ چائنا سے مریم نواز @MaryamNSharif ایسا طریقہ لارہی ہیں جس میں کینسر کو فریزکرکے جسم سے الگ کردیا جائیگا اور کیمو کی ضرورت نہیں رہی گی ' محض جاہلانہ بات اور خوش آمد ہے جو ڈس انفارمیشن کی زمرے میں آتی ہے - بہتر ہوتا کہ اس ٹیکنالوجی کا نام بھی لکھا جاتا ' تاکہ چائنا والوں کو بھی بتایا جاسکتا کہ ان کے ملک میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود ہے - جو چیز یہاں امریکا میں اب تک نہیں ایجاد ہوئی ؛ جہاں کینسر ریسرچ کا دنیا کا سب سے بڑا سینٹر " ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر " موجود ہے ' اس کا چائنا اور پاکستان میں آنا محض مبالغہ آرائی اور تالیاں بجانے کیلئے ایک من گھڑت بہانہ ہے -
4. پھر اسی کلپ میں دوسرے اینکر صاحب نے کہا کہ شوکت خانم میں تو کئی مریضوں کو آخری سٹیج بتا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے ' جبکہ نواز شریف کینسر ہسپتال جب بنیگا تو جو بھی سٹیج ہو ' جو بھی عمر کا مریض ہو ' اس کا علاج ہوگا - یہ انتہائی غیر منطقی اور جاہلانہ بات ہے جس کا میڈیکل سائنس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے - یہاں امریکا جیسے ملک میں بھی بہت سے کینسر جب سٹیج چار پ ہوتے ہیں تو ان کا علاج ممکن نہی ہوتا - اس موقع پر ان کو بھی "علامتی " علاج (palliative treatment or Hospice care) پر ڈال کر واپس ہی بھیجا جاتا ہے - اسی طرح ہر عمر کے مریض کو بھی کینسر کا علاج پر نہیں ڈالا جاسکتا کیوں کہ کئی مریض اتنے ضعیف ہوسکتے ہیں کہ وہ کینسر کی کیموتھراپی برداشت نہیں کرسکتے - یہ کہنا کہ نواز شریف کینسر ہسپتال میں ہر عمر کے مریض کا کینسر کا علاج ہوسکتا ہے ' جھوٹ اور گمراہ کن ہے -
چیلنج:
اگر کوئی ایک بھی ڈگری یافتہ ڈاکٹر جس کا شعبہ کینسر ہو وہ اس وڈیو میں کی گئی بات کی توثیق کردے اور میری اس تصحیح کی مخالفت کردے تو میں اپنا می��کل لائسنس اور پریکٹس چھوڑ دونگا اور اگر ایسا نہی ہوسکا تو ان اینکرز رضوان رضی @realrazidada اور امین حفیظ @aminhafeez5 کو جھوٹ پھیلانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے -
میں نے وقت کیوں ضایع کیا ؟
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں نے اتنی سادہ باتیں اتنی تفصیل میں لکھ کر اس غیر مقبول چینل کے ان غیر مقبول اینکرز کے ایسے پروگرام پر جواب دے کر وقت کیوں ضایع کیا ؟
ویسے تو پی ٹی وی کوئی نہیں دیکھتا ' لیکن پھر بھی ہمارا نیشنل چینل ہے جس کو ہمارے دیہاتوں میں آج بھی پرانے لوگ ہونگے جو دیکھتے ہونگے - ان میں سے کچھ مسلم لیگ نون اور مریم نواز شریف کے سپورٹرز ہونگے - یہ لوگ اپنی وابستگی میں ایسی انفارمیشن سن کر اپنے کینسر کے علاج کے بارے میں گمراہی کا شکار ہو کر خود کو یا کسی پیارے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیوں کہ جب بھی ڈاکٹر کیمو کی چوتھی سائکل شروع کرنے لگے گا ' یہ اس کو " فراڈیا" اور اس شوکت خانم ہسپتال کو "تجربہ اور فراڈ " کہ کر وہاں سے چلے جائینگے اور اسی طرح کے کسی نیم حکیم ��ے کسی چائینز طریقے کے پیچھے لگ کر کینسر جیسے موذی مرض سے زندگی کھودیںگے - میری یہ ٹویٹ ان سب لوگوں کی انفارمیشن اور معلومات کیلئے ہے جن سے میرا نظریاتی اختلاف تو ہوسکتا ہے ' لیکن انسانیت اور پاکستانیت کا مظبوط رشتہ برحال موجود ہے -
---------------------------------------------------------
دوسرا حصہ :
یہ تھا میرا ڈاکٹری تجزیہ - اب میں آتا ہوں ٹویٹ کے دوسرے حصے کی طرف جو ایسے خوشامدی لوگوں کی حوصلہ شکنی اور چھترول کیلئے بہت ضروری ہے -
- "میں اب کینسر پر بات کرونگا "
اس وڈیو میں رضوان رضی صاحب کے اس پہلے جملے میں ہی اصل پرابلم ہے- آپ کس حثیت میں کینسر پر بات کریں گے ؟
"کیمو تھراپی " کو "کیمیو تھراپی " بولنے والے کینسر پر کیوں گمراہی پھیلائیں گے ؟
آپ ہیں کون ؟ ڈاکٹر رضوان ؟ ماہر کینسر امین حفیظ ؟
جو آپ کا کام ہے آپ وہ کریں - "چاپلوسی ' خوشامد ' مسخرہ پن ' جگت " آپ کا کیا لینا دینا میڈکل سائنس اور ڈاکٹری سے ؟
ایک محاروہ مشہور ہے کہ جب جوکر بادشاہ بنتا ہے تو پوری سلطنت کو سرکس بنا دیتا ہے - اسی طرح جب کوئی خوشامد پسند انسان چیف منسٹر بنتا ہے تو بھانڈوں اور خوشامدیوں کو اینکرز بنا دیتا ہے- وہ لوگ جن کی علمی حیثیت کے مطابق اگر ان کو جاب ملے تو وہ ریلوے سٹیشن پر تیل کی بوتلیں ہلا ہلا کر مالشیے یہ گلے میں پٹکا ڈال کر شاہی محلے میں بروکرز کی جاب کے مستحق ٹھہریں' ان کو محض مریم نواز کی خوشامد کرنے اور ��مران خان کو گالیاں دینے کے انعام کی طور پر پاکستان کے نیشنل چینل کا اینکرز بنا دیا جائے تو اسی طرح کی بکواس اور لغویات سننے کو ملتی ہیں - اس طرح کا تجزیہ کسی مہذب ملک کے نینشنل ٹی وی کے کسی اینکر نے دیا ہوتا تو اب تک اس کو ملازمت سے نکال کر اس سے معافی منگوائی جا چکی ہوتی -
دن رات شوکت خانم کے بیٹے کی بغض میں شوکت خانم ہسپتال
کے خلاف بولنے والے ان بے حیا' بے شرم ' اجڈ اور بھانڈ لوگوں کو یہ شرم بھی نہیں آتی کہ جب کینسر کا مریض شوکت خانم ہسپتال میں جاتا ہے تو اس سے پارٹی کا نشان اور عمران خان کا نام نہیں پوچھا جاتا ' بس اس کا علاج کیا جاتا ہے - پاکستان جیسے ملک جہاں بنیادی ��بی سہولیات بھی میسر نہیں وہاں کینسر جیسے مہنگے اور مہلک مرض کے مریضوں کیلئے شوخت خانم جیسا ہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں ہے ' جس پر کیمو تھراپی کے فراڈ کا الزام لگایا جارہا ہے - - اس سے پہلے انہی کی طرح کے ایک صحافی نجم ولی نے شوکت خانم کے بارے میں یہ بات کہی تھی کہ وہاں غریب مریضوں پر گوروں کی دوایوں کا تجربہ کیا جاتا ہے ' اسی لئے ایسا ہسپتال بنایا گیا ہے - جب میں نے ان سے اس بات کا ثبوت مانگا تو وہ گالیاں دیتے ہویےجان سے مارنے کی دھمکی لگا کر بلاک کرکے چلے گیے - اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ معید پیرزادہ @MoeedNj جیسے پڑھے لکھے اور انٹلکچوویل صحافی جلاوطنی پر مجبور ہیں جہاں ان کو یو ٹیوب پر پروگرام کرنے پڑتے ہیں جبکہ رضوان رضی اور آمین حفیظ جیسے نمونوں کو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہوں پر ملک کے نیشنل چینل پر اینکرز کی ملازمتوں پر رکھا گیا ہے - آپ کو عمران خان سے دشمنی ہے ' ضرور کریں - آپ نے شوکت خانم کے مقابلے میں نواز شریف کینسر ہسپتال بنوانا ہے ' ضروربنوائیں لیکن خدا کیلئے مقصد کیلئے ڈاکٹری اور میڈیکل سائنس کا تماشہ نہ بنائیں - کینسر کے مریضوں کو اپنی سیاست اور بغض کی آگ کا ایندھن نہ بنائیں - آ�� کو مریم نواز صاحبہ کیلے تالیاں بجانی ہیں ؛ ضرور بجائیں ؛ بلکہ ویلیں بھی کروائیں --- لیکن اس مقصد کیلئے عوام کی نہ بجائیں جس کی آدھی تعداد پڑھ لکھ بھی نہی سکتی ' اور جب ان کے کسی عزیز کو کینسر ہوتا ہے تو وہ آدھآ تو اسی وقت مر جاتا ہے کہ اتنا مہنگا علاج کیسے کروانا ہے ؟ جب آپ کو یا نواز شریف کو یا ان کے کسی رشتہ دار کو کینسر ہوا تو آپ تو لندن چلے جائینگے ' مریم نواز صاحبہ کو پیرا تھایروئڈ کا پرابلم ہوگا ' تو وہ سوٹزر لینڈ چلی جائینگی اور واپس آ کر دھڑلے سے کہیں گی کہ اس کا علاج بس سویٹزرلینڈ میں ہی ہوتا ہے (جو کہ ایک اور جھوٹ اور ڈس انفارمیشن تھی ) لیکن یہاں کی عوام یہاں کسی شوکت خانم کے ڈاکٹروں سے لڑتی رہیگی کہ تین سے زیادہ کیمو تھراپی فراڈ ہوتی ہے اور اس لڑائی میں خود آپ کے فراڈ کا شکار ہوجائیگی -
اس پوری تحریر کی سمری یہ ہے کہ آپ ضرور بھانڈ ' مسخرے' مذاقیے اور جگتی ہوسکتے ہیں لیکن کینسر ایک مذاق ' جگت اور تمسخر نہیں ہے - اگر آپ عادت سے مجبور اور تنخواہ پر مامور ہیں تو خوشامد ضرور کریں ' چاپلوسی بھی کریں ' جوتے بھی چاٹیں لیکن اس مبالغہ آرائی میں گوبر کو "گجریلا" اور بلغم کو "مقیت شہد" نہ ثابت کریں کیوں کہ کبھی کبھی اپنی اس چاپلوسی میں گوبر کو گجریلا اور بلغم کو شہد ثابت کرنےکیلئے کہ اس کو نگلنا بھی پڑتا ہے -
I am tagging an American oncologist @faizanMD4 here to comment on this disinformation about cancer.
I request all the readers to debunk such propaganda against @SKMCH by donating to it because #CancerisnotaJoke.
Link:
https://t.co/kdl4aEiYp7
#CancerisnotaJoke"
#disinformation
--------------------------------------------------------
@ImranARaja1 @ImranRiazKhan @SabeeKazmi786 @ARYSabirShakir @adeelraja @SHABAZGIL @faizanMD4
With heavy hearts, we mourn the loss of our cherished friend @badnocs (Javed A. Khan) who passed away after a valiant struggle with cancer.💔
We humbly request your prayers 🙏🏼 please recite Surah Fateha for his eternal peace. 🤲🏻
آزاد کشمیر میں عمران خان کی مخالفت میں ایجنسیوں کی مداخلت سے ایک مصنوعی حکومت بنا کر وقتی طور پر اپنے مقاصد تو پورے کر لیے گئے مگر اب وہاں عوامی ردعمل اور احتجاج شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی توہین کا بالآخر یہی انجام ہوتا ہے۔ اب ظلم کریں گے تو پوری دنیا میں بدنامی الگ سے ہو گی۔
اندازہ لگائیں حمزہ شوگر مل والے کسانوں سے بیان حلفی لے رہے ہیں کہ وہ گنا 400 روپے کے بجائے 350 میں دیکر چلے جائیں اور کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کریں۔ کہاں ہے پنجاب حکومت؟ ہر جگہ مافیا کا راج ہے۔۔
Seguimos haciendo historia en Ciudad de México! 🌟 Nuestra Presidenta @Claudiashein firmó un decreto histórico: la reforma al artículo 4º constitucional que garantiza el derecho humano a una vivienda adecuada para todas y todos. 🏡✨
ALVI DENTAL “DE-SEALED” AFTER 63 DAYS
After over 2-months of being politically targeted by the Govt of Pakistan against Dr. Arif Alvi, we are relieved & grateful to the Almighty that this ordeal has ended
Inshallah, we will soon resume normal patient care following necessary cleanup
عمران خان کے دور میں ن لیگ کے ہمار�� جلسوں کو کبھی نہیں روکا گیا۔ کنٹینر تو دور کی بات ایک سپاہی تک نے کبھی نہیں روکا۔ محمد زبیر کی جاوید لطیف کے سامنے گواہی۔
یہ اسلام آباد پولیس کے وہ ہیرو ہیں جہنوں نے رجیم کے کہنے پر ظلم میں حصہ نہیں لیا۔ اب ان کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں۔
میرا آپ لوگوں سے وعدہ ہے۔ جب ہماری حکومت آئی تو جو بھی آپکا انہوں نے نقصان کیا پورا کریں گے۔ کوشش کریں گے آپکو ترقی اور میڈل بھی دیا جاسکے۔
ڈٹے رہیں ظلم کے خلاف
ہماری فوج ایک ذمہ دار اور پروفیشنل فوج ہے نا کہ کوئی کاروباری یا کارپوریٹ ادارہ۔آئین کی رو سے ہماری فوج کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرتی لہذا فو�� کو ہر گز بدنام نہ کیا جائے۔اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ کوئی پروڈکٹ خود کو فوج سے منسوب کر رہی ہے تو آپ اس کا بائیکاٹ کر کے اپنی پروفیشنل فوج کے بیانیے کا ساتھ دیں۔