کبھی کبھی انسان اپنے سر پر ہاتھ رکھے، اپنا ہی کندھا تھپتھپا تھپتھپا کر، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روند کر، خود کو تسلی دیتے ہوئے بالآخر تھک ہی تو جاتا ہے۔
شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
سچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہيں کرتا
گرتی ہوئی ديوار کا ہمدرد ہوں، ليکن
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہيں کرتا
ماتھے کے پسينے کی مہک آئے تو ديکھيں
وہ خون ميرے جسم ميں گردش نہيں کرتا
امام ترمذی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ کَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِر.
’’سب سے بڑا جہاد، ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا ہے۔‘‘
اِس اِنتظار میں مت رہیں کہ کوئی دُوسرا آپ کو روشن کرے گا۔ یہاں سب کو اپنی پڑی ہے خود کو خود روشن کیجیے تاکہ آپ کی روشنی دوسروں کی زندگی کے اندھیرے دور کر سکے...
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
" میاں بیوی جوانی میں ایک دوسرے سے لڑ لڑ کر بوڑھے ہو جاتے ہیں پھر بڑھاپے میں ایک دوسرے کی قدر کا احساس ہوتا ہے جب ایک دوسرے کا دکھ سمجھنے والا کوئی نہ ہو پھر یہ پچھتاوا ہوتا ہے کہ کتنے حسین پل ہم نے نفرتوں کی بھینٹ چڑھا دیئے. "