حافظ عبدالرؤف صاحب ( مدیر شعبہ دعوت �� اصلاح پاکستان) کا خصوصی پیغام
🎓 واجباتِ مسلم کورس #02 — “عبادات”
کی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
نماز، طہارت، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے ضروری مسائل مستند علماء کرام سے سیکھنے کا بہترین موقع۔
⏳ اپنی رجسٹریشن جلد مکمل کریں۔
��یران امریکہ جنگ بندی پر طعن یا طنز نامناسب ہے ایک ایسی جنگ جس نے پاکستان اور دیگر متعدد مسلمان ملکوں سمیت دنیا بھر کو متاثر کیا ہوا تھا اور جس کے پھیلنے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ یہ جنگ عالمی جنگ میں بھی بدل سکتی ہے اگر پاکستان اور دوست ملکوں کی کوششوں سے امن میں بدلنے جارہی ہے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے نہ کہ بلیم گیم کھیلنا شروع کردیا جائے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ ایران نے امریکہ کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں تمام تر فکری اختلافات کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں عار نہیں کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ جیسے موذی ملکوں کے خلاف جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو قریب دو مہینے جاری رکھا جب کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ساری قیادت کے امریکی حملوں کا شکار ہونے کے بعد ایران دو چار دن سے زیادہ مقابلہ نہیں کرپائے گا لیکن ایران نے یہ خیال غلط ثابت کیا اس لیے اسے بزدلی اور ہتھیار ڈالنے کا طعنہ ہرگز نہیں دیا جاسکتا بالکل اسی طرح سعودیہ کا کردار بھی اس جنگ میں اس حوالے سے قابل تحسین ہے کہ دشمن کی پوری کوشش کے باوجود سعودیہ اس نے جنگ سے عملی طور پر دور رہا اور باوجود اپنی سرزمین پر حملوں کے اس نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا اس جنگ بندی کا کریڈٹ جہاں پاکستان کی بہترین سفارتکاری کو جاتا ہے وہیں سعودیہ کے صبر و تحمل اور بہترین حکمت عملی نے بھی اس جنگ بندی اور معاہدے کی تکمیل کیلئے شاندار کردار ادا کیا ہے اس لیے بجائے اس کے کسی مسلکی اور گروہی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودیہ پر طعن کیا جائے اس کے بہترین کردار کا اعتراف کرنا چاہیے اور ساتھ اللہ رب العزت کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ جس نے دنیا کو تیسری عالمی کی ہولناکی سے محفوظ رکھا ۔۔۔
فیصل ندیم
🌍🇵🇰 پاکستان دنیا کی سیاست کا مرکز بن گیا!
عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
🎙️ مفتی محمد یوسف طیبی حفظہ اللہ تعالیٰ کا بصیرت افروز تجزیہ:
پاکستان کس طرح عالمی سیاست میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، اور یہ کامیابی کس سمت کی نشاندہی کرتی ہے
مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں، جن میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی، مظاہرین نے حکومت کے اس اضافے کو عوام دشمن قرار دیا اور اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ