شہرِ جہان زاد سے کیا کیا مکیں چلے گئے
کتنے ذہین نہیں رہے کتنے حسیں چلے گئے
ہم جو یہاں رکے رہے اُس کی وجہ تھے ایک تم
تم جو یہاں نہیں رہے ہم بھی کہیں چلے گئے
آنے لگی ہے غیب سے ایک ہواۓ مرحمی
شاید کہ زخمِ دل سرِعرشِ بریں چلے گئے !
#قومی_زبان
وہ مردِ مجاہد تنہا شیروں کی طرح لڑا اور ثابت کیا کہ حسینی تنہا بھی ہو تو حق کا ساتھ دیتا ہے
ہم پہ مسلط کٹھپتلی حکومت اور #عرب ملکوں کے لیڈرز جو خاموش رہے اب #کتوں والی 100 سالہ زندگی جی بھی لیں تو بیکار ہے
#Khamenei#Dubai#Iranian
اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں
ناز کے پالے ہوئے آپ ہی پلنا سیکھیں
ہم نے کچھ گرمی ء صحرا سے گزارش نہیں کی
اپنے پیروں سے کہا "ریت پہ چلنا سیکھیں"
میرے فن کو بڑا پیچیدہ بتانے والے
روز مرہ کے مسائل سے نکلنا سیکھیں
#قومی_زبان#بزمِ_ادب
وہ مجھ سے دور ہٹتی جا رہی ہے
دیے کی لو سمٹتی جا رہی ہے
میں خوش ہوں اور میری زندگی اب
بہت تیزی سے گھٹتی جا رہی ہے
ہمارے خواب پورے ہو رہے ہیں
ہماری نیند گھٹتی جا رہی ہے
ہمارے درمیاں تھی یاد کی ڈور
جو اک جانب سے کٹتی جا رہی ہے
#قومی_زبان#بزمِ_ادب
کوئی رستہ نکالنا پڑے گا
آگ میں ہاتھ ڈالنا پڑے گا
خود کو تیرے سپرد کیا کیجے
پھر تجھے بھی سنبھالنا پڑے گا
مسکرانا سکھا رہا ہوں تھجے
اب ترا غم بھی پالنا پڑے گا
ایک خط ہے خطوں میں رکھا ہوا
سارا ماضی کھنگالنا پڑے گا
#قومی_زبان#بزمِ_ادب