🚨Clarification from Pakistanis:
I see tweets from all over the world taunting Pakistanis over their choice of leaders and their behaviour on the international stage. Let me clarify the confusion; we Pakistanis did NOT elect this lot. In Feb 2024 General Elections, Pakistan elected the imprisoned Imran Khan’s party by a landslide mandate that sent the Pakistani Deep State into deeper panic. The result was that by the morning, elections results were forged (in some cases zeroes and ones added like a child on result sheets) in order to install in power 2 defeated & unpopular dynasties. The comical scenes & disgusting sycophancy you are witnessing is from this same puppet lot. And trust me, we are all as outraged and embarrassed as all of you. But it’s not long now before we send them packing & restore democracy & rule of law. Keep following the events in Pakistan.
On Imran Khan's 73rd birthday, the International Human Rights Foundation (IHRF) calls for his freedom and an end to his persecution by the military-led regime in Pakistan.
#HappyBirthdayImranKhan
آپ نے چار تصویروں کا ذکر کیا ہے۔
پہلی تصویر آئی کے ایف کی ہے جس میں راشن کے تھیلوں پر عمران خان کی تصویر لگی ہوئی ہے۔
دوسری تصویر ’’صحت کاروبار‘‘ پروگرام کی ہے جس میں علی امین گنڈاپور صاحب کے ساتھ عمران خان کی تصویر موجود ہے۔
تیسری تصویر بھی آئی کے ایف کی ہے، جس کے ڈبوں پر عمران خان کی تصویر لگی ہوئی ہے۔
چوتھی تصویر میں عمران خان ایک بزرگ سے بات کر رہے ہیں، اور وہاں متعدد کیمرے موجود ہیں۔ آئیے اب ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
پہلی تصویر:
جس میں عمران خان کی تصویر راشن کے تھیلوں پر لگی ہے، دراصل یہ تھیلے عمران خان فاؤنڈیشن کی جانب سے تقسیم کیے گئے تھے۔ 2016 کے سیلاب کے دوران پنجاب میں، خصوصاً جھنگ میں، آئی کے ایف نے یہ امدادی سامان تقسیم کیا۔ یہ کسی حکومتی خزانے یا سرکاری اخراجات سے فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
دوسری تصویر:
یہ ’’صحت کاروبار‘‘ پروگرام کی ہے جو خیبر پختونخوا میں منعقد ہوا۔ اس میں عوام کو متوجہ کرنے کے لیے ایک خصوصی گاڑی کا انتظام کیا گیا، جس کے ذریعے لوگ آسانی سے اپنے دستاویزات جمع کر��ا کر بلا سود قرض حاصل کر سکتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بالکل اسی سہولت کے ساتھ، جیسے ڈرائیونگ لائسنس بنوانا آسان ہوتا ہے، ویسے ہی لوگ اپنا ’’صحت کاروبار کارڈ‘‘ بنوا کر اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ یہ ایک مثبت اور عوامی فلاحی منصوبہ تھا۔
تیسری تصویر:
جس میں عمران خان کی تصویر ڈبوں پر موجود ہے، وہ بھی کسی حکومتی خزانے سے نہیں تھی۔ یہ سامان آئی کے ایف یعنی عمران خان فاؤنڈیشن کی جانب سے مہیا کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ ایک ذاتی اور فلاحی ادارہ ہے جسے عطیات اور فنڈز ملتے ہیں، لہٰذا اس پر ادارے کے بانی کی تصویر لگانا فطری امر تھا۔
چوتھی تصویر:
اس میں عمران خان ایک بزرگ شہری سے گفتگو کر رہے ہیں اور وہاں بے شمار کیمرے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف ایک کیمرا پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کا تھا، جو بابا جی کے ساتھ بیٹھا ہوا نظر آ رہا ہے۔ باقی تمام کیمرے مختلف صحافتی اداروں کے تھے۔ جب مریم نواز جلسے یا ملاقاتوں میں شریک ہوتی ہیں تو وہاں ان کے ذاتی پروٹوکول اور تشہیری عملے کے لوگ کیمرے سنبھالتے ہیں، مگر عمران خان کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔
آخر میں کہنا بجا ہے کہ:
’’نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
جیسا کہ ایک درویش آدمی نے کہا تھا:
"یہ لوگ نہ خود پڑھے لکھے ہیں اور نہ ہی پڑھنے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں"
واقعی، درویش کی یہ بات آج کے حالات میں بالکل درست محسوس ہوتی ہے
"اگر عوام نے PTI کو ووٹ دیا بھی اور وہ ڈبوں میں نکلا ہی نہیں تو کیا ہوا؟ ہاہاہا۔ سمجھ رہے ہو نا؟" -
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا الیکشن دھاندلی کا سر عام اعتراف
ٹرمپ کے ساتھ کسی سیاسی لیڈر نے نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات کی تو اس لیے پاکستان میں اب بہت ساری چیزیں نئی دیکھنے کو مل رہی ہیں،
عمران خان کی ہدایت کے بغیر بجٹ منظور نا کرنے کا فیصلہ اکثریتی ہے اور یہ آئین و قانون کے مطابق ہے:اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی
“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔"
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے ��ور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
خواتین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تباہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلسل جیل میں رکھنا، عالیہ حمزہ کی بلاجواز گرفتاری، اور بشریٰ بی بی کو ایسے مقدمے میں سزا دینا جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں، اس انتقامی طرز سیاست کا واضح ثبوت ہے۔
عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کورٹ پیکنگ کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:
1. میرے کیسز کی سنوائی ہی نہ ہو تاکہ جھوٹے مقدمات میں مجھے قید رکھا جا سکے۔
2. الیکشن کے بعد بننے والے جعلی حکومتی سیٹ اپ کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔
افغان مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی ہرگز درست نہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور زبردستی ملک بدری کے اقدامات ملک میں مزید بدامنی اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچستان طرز کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل تفشیش ہیں- “فیصلہ سازوں” کی غلط پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر آئے گا اس لیے علی امین کو ان معاملات پر ایکشن لینا چاہیے- دھاندلی کے کیسز ایک سال سے لٹکے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے جنید اکبر سیاسی اور احتجاجی حکمت عملی بنائیں-
بار کونسلز الیکشن میں انتظار پنجوتھہ انصاف لائیرز فورم کے اپنے امیدوار سامنے لائیں اور ساری پارٹی صرف اپنے امیدواران کو سپورٹ کرے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)