کچھ گناہوں کی معافی نہیں ہوتی
جیسے حضرت حمزہ کا قاتل جب مسلمان ہونے کے بعد رسول کریم کے سامنے آیا تو فرما��ا:
کوشش کرنا آج کے بعد مجھے تمہارا چہرہ نہ دکھائی دے
تمام عمر اپنے چچا کے غم میں مبتلا رہے
لٹ کے آباد ہے اب تک جو وہ گھر کس کا ہے
سب سے اونچا ہے جو کٹ کر بھی وہ سر کس کا ہے
ظلم شبیر کی ہیبت سے لرزتے کیوں کر
کس نبی کا ہے نواسہ یہ پسر کس کا ہے
جس کا دستک سے بھی پہلے ملے خیراتِ نجات
کاش سوچے کبھی دنیا کہ یہ در کس کا ہے
جس نے مقتل کی زمیں چھو کے معلی کر دی
پوچھنا کرب و بلا سے یہ ہنر کس کا ہے
کس کی ہجرت کے تسلسل سے شریعت ہے رواں
قافلہ آج تلک شہر بدر کس کا ہے
تخت والوں نے مورخ بھی خریدے ہونگے
ذکر دنیا میں مگر شام و سحر کس کا ہے
لاش اکبر پہ قضا سوچ رہی ہے اب تک
جس میں ٹوٹی ہے ی�� برچھی وہ جگر کس کا ہے
کون ہر شام غم شه میں لہو روتا ہے
آسمانوں سے ادھر دیدہ تر کس کا ہے
ہاتھ اٹھاتا ہوں تو ایوان ستم کانپتے ہیں
سوچتا ہوں میرے ماتم میں اثر کس کا ہے
جس کی حد ملتی ہے جنت کی حدوں سے محسن
جز حسین ابن علی اور سفر کس کا ہے
हज़रत इमाम हुसैन जी का संघर्ष, त्याग और बलिदान हमें असत्य, अत्याचार और अन्याय के विरुद्ध मानवता की सबसे मज़बूत ढाल बनने की सीख देता है।
आज मुहर्रम के दिन हमें उनके बताए हुए रास्ते पर चलने की प्रेरणा लेनी चाहिए।
عشق میں کیا بچائیے، عشق میں کیا لٹائیے
آلِ نبیﷺ نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
جتنے سوال عشق نے آلِ رسولؐ سے کیے
ایک کے بعد ایک دیے سارے جواب ریت پر
آلِ نبیﷺ کا کام تھا، آلِ نبیﷺ ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیبؔ ایسی کتاب ریت پر
آن نه می بود که دور ا�� نظرت میخوردم
خون دل بود که از دیده به ساغر میشد
از خیال تو به هر سو که نظر میکردم
پیش چشمم در و دیوار مصور میشد
«سعدی»
در کنار هیجان رقابت تیمملی فوتبال ایران در میدان جهانی، یاد عزیزانی را گرامی میداریم که در تجاوز و تهاجم دشمن از میان ما رفتند؛ دختران و پسران معصومی که لبخندهایشان خاموش شد اما نام و چهره نورانیشان در حافظه این سرزمین جاودانه ماند. آنان را فراموش نمیکنیم، زیرا بخشی از استقامت امروز ایران بر شانههای یاد و فداکاری همان عزیزان بنا شده است.
ایران با همه زخمهایش همچنان ایستاده است و فرزندانش با سینههای ستبر و ارادهای استوار آماده رقابت در عرصههای جهانی هستند.
دعای یک ملت بدرقه راه تیم ملی است؛ برای آنان، برای ایران و برای برافراشته بودن این ��رچم، یکصدا، نام مقدس «ایران» را ب�� زبان میآوریم و برای جوانانمان آرزوی پیروزی و عزت داریم.