🚨🚨 بریکینگ نیوز : جنرلز نے عوام کو تکلیف دی ہے ۔ اب وقت ہے جنرلز کو تکلیف دینے کا ۔!!!🔥🛑
جنرلز نے عوام کو بہت تکلیف دی ہے ۔ اب ہمیں بھی انہیں تکلیف دینی چاہیے ۔ اور و�� کام کرنے چاہئیں ۔ جن سے انہیں تکلیف ہوتی ہے ۔ انہیں تکلیف ہوتی ہے ۔ پروڈکٹس کے بائیکاٹ سے ۔ ہم سب کو صرف بائیکاٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔ بلکہ دوسروں کو بھی اس بارے میں بتانا چاہیے ۔ شہباز گل!!🚨
بائیکاٹ عسکری پروڈکٹس!!!
@Ali_MuhammadPTI اگر آپ نے یہ کوئی بھی ممبر اسمبلی نے مائنس عمران خان پر کام کیا یہ ساتھ دیا تو انشاء اللہ عوام آپ کی حالت علی آمین گنڈا پور شیر افضل مروت اور لوٹوں سے بھی بتر ہوگی ۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی میں گھسائے گئے اپنے آخری کھلاڑی بھی کھل کر میدان میں اتار دیئے ہیں، یہ وہ کم ظرف اور گرے ہوئے لوگ ہیں جو دولت کے پجاری ہیں اور صرف دنیاوی زندگی پر یقین رکھتے ہیں، یہ فوج کا پی ٹی آئی پر آخری بڑا وار ہے اور بیشمار آستین کے سانپ بہتر مالی مستقبل کے لیے عمران خان کے نظریے کی نفی کرتے ہوئے آبپارہ کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں، اس ایڈوینچر کے بعد عمران کی پی ٹی آئی میں صرف وہ نظریاتی لوگ رہ جائیں گے جو سالوں سے عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھائے جیلوں میں ہیں فوج کے زیر عتاب ہیں روپوش ہیں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لاکھوں جان نثار کارکنان ہیں سوشل میڈیا رضا کار ہیں عوام ہے، نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے اور دولت کے شوقین کبھی وفادار نہیں ہوتے، عمران خان کی پی ٹی آئی کو ختم کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے نظریے کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، دولت کے پجاری، عمران خان سے احسان فراموشی کرنے والے، بے حس فوجی مراعات کے شوقین لوگ فارورڈ گروپ بنا لیں ریورس گروپ بنا لیں مائنس پلس کر کے دیکھ لیں چاہے کچھ بھی بنا لیں عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی ہ�� عمران خان ہے۔
اپنے محسن یا مددگار کے ساتھ دھوکا، فریب یا دغا کرنے کو اردو زبان میں "نمک حرامی" یا "احسان فراموشی" کہا جاتا ہے، تاریخ اور ادب میں ایسے کرداروں یا واقعات کو بہت برے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے جہاں کسی نے اپنے ہی مربی یا محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔
ساڑھے چار سال گزر چکے ہیں کچھ سال اور گزر ہی جائیں گے لیکن تاریخ بہادروں کو ہی یاد رکھے گی، تاریخ عمران خان اور ان کے خاندان کو یاد رکھے گی تاریخ پی ٹی آئی کے شہداء کو یاد رکھے گی تاریخ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، شاہ محمود قریشی، عالیہ حمزہ، آمریت کے زیر عتاب ر��نماؤں اور کارکنان کو یاد رکھے گی تاریخ عمران خان کے سوشل میڈیا کے نامی اور گم نام رضا کاروں کو یاد رکھے گی اور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے، رزق کی خاطر ہاتھ گندے کرنا برا نہیں ہے مگر رزق کی خاطر نیت اور ضمیر گندا کرنا اور اپنے محسن کے ساتھ دھوکہ بہت برا ہے۔
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
سینیٹر مشتاق صاحب بھی مائنس عمران خان کی نئی سازش کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ کون کون شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس پر سے بھی تقریباً پردہ اٹھا دیا ہے۔
جتنی بھی کوشش کر لیں یہ انشاللہ عمران خان کو مائنس نہیں کر سکیں گے۔
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى