پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی نے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب پاک افغان سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان مبینہ ٹھکانوں اور پوسٹوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو کالعدم عنا��ر اور ان کے سہولت کاروں کے زیر استعمال تھیں۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا مؤثر سدباب کرنا اور ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہے۔
⛔ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کارروائی میں مختلف جدید اور بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
براہِ راست اور بالواسطہ فائرنگ کرنے والے ہتھیار
اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGMs)
راکٹ لانچر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر
ہلکی اور بھاری توپخانہ
مین بیٹل ٹینکس (MBTs)
مربوط کاررو��ئی کے لیے سوارم ڈرونز، جو زمینی دستوں کے ساتھ مل کر مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں
ذرائع کے مطابق یہ ایک “حساب شدہ اور سخت نوعیت کی کارروائی” ہے جس کا مقصد دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔
⛔ مختلف سیکٹرز میں کارروائیاں
اطلاعات کے مطابق آپریشن بلوچستان کے مختلف حساس سیکٹرز میں جاری ہے، جن میں شامل ہیں:
قلعہ سیف اللہ: پشین، لوئے بند اور بادینی سیکٹر
ژوب: سمبازہ اور گھڈوانہ سیکٹر
نوشکی: جانی اور غزنالی سیکٹر
چلتن رینجز: گلستان، دوبندی اور ششکا سیکٹر
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو مبینہ طور پر سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
⛔ خودمختاری کے دفاع کا عزم
حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خطرات کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہ بنا دیا جائے اور سرحدی علاقوں میں مؤثر دفاعی توازن بحال نہ ہو جائے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
یہ رنگین پگڑیاں، یہ روایتی لباس، یہ بلوچی ساز — یہ سب اسی وقت محفوظ ہیں جب سرحدیں محفوظ ہوں۔یومِ ثقافتِ بلوچستان پر ہم اُن جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو خاموشی سے قربانیاں دے کر ہماری تہذیب کی حفاظت کر رہے ہیں۔
#StrongState#SecureCulture#Balochistan
افغان طالبان نے بلوچستان (قلعہ سیف اللہ، نوشکی، چمن) میں 16 زمینی حملے اور 25 فائر ریڈ کی کارروائیاں ��یں، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک زمینی حملے اور 12 فائر ریڈ کی کوشش کی گئی۔ پاک فوج نے ��مام حملے مؤثر طور پر ناکام بنا دیے۔
جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 67 افغان طالبان کارندے ہلاک ہوئے (27 بلوچستان میں اور 40 خیبر پختونخوا میں)، متعدد زخمی بھی ہوئے۔ دفاعِ وطن کے دوران ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔
افواجِ پاکستان کی زمینی و فضائی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں خوگانی بیس کو فضائی حملے میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ آپریشن "غضب للحق" تاحال جاری ہے اور اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
Using Dr. Mahrang Baloch’s health as a tool for a coordinated political campaign against the state is narrative building, not fact-based concern. If her health is genuinely at risk, it should be addressed through courts and proper medical channels not emotional propaganda.
The law applies to all. Custody does not exempt anyone from due process. Courts, not social media, decide guilt or innocence.
Labeling every arrest as “political revenge” is a strategy, not reality. Should legal proceedings be dismissed simply because the accused has a political identity? And is BYC a legitimate political body or a front for terrorist elements?
Selective human rights is no principle at all. Where is the same outrage for security personnel, civilians, and victims of terrorism? Justice cannot be one-sided.
Transparent medical checks, fair trials, and rule of law not hashtags and emotional campaigns define real accountability.
#FakePropagandaMahrangHealth
#BYC_ProxyOfBLA
انڈیا میں اسرائیل کا سفارت خانہ ہے، اُس طرف. مظاہرین نے پتھر بھی نہیں مارا.
کابل میں طالبان ویسے بھی ایسے کسی مظاہرے احتجاج اور ریلیوں کو کارنر کردیتے ہیں.
خود امریکہ اور برطانیہ میں لاکھوں اہلِ تشیع ہیں لیکن کہیں بھی وہ نہیں ہورہا جو پاکستان میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.
اور جو یہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ دراصل صہیونیوں کے توسیع ایجنڈے کی کتاب پر جلد چڑھا رہے ہیں.
پوری دنیا میں اہل تشیع غمگسار ہیں، انکے رہبرِ معظم ایک ایسے حملے میں شہید ہوئے جسے "گھیر کر مارنا" اور "اپنوں کی بے رحمی" کہا جائے تو غلط نہیں، وہ مظلومیت کی موت مارے گئے، س��نی لوگوں کے دل بھی نرم ہوئے پڑے ہیں، اُنکی شہادت پر نوحہ کناں ہیں.
لیکن یوتھیا سوچ مختلف ہے، وہ اس گرم تندور میں اپنے کُلچے لگارہے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے پہلوی ایران میں سوشل میڈیا پیغامات کے زریعے یہ سب کررہا یے
ایران میں حالیہ واقعات کے پیش نظر علمائے کرام کی وفاقی وزیر داخلہ سے اہم ملاقات
شیعہ مکتبہ فکر کے جیدعلماء کرام اور اکابرین وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے, *ذرائع*
علماء کرام میں علامہ مطاہر، علامہ عارف واحدی، سید وزیر کاظمی، سید احمد نقوی اور عمران علی حیدری شامل، *ذرائع*
وفد میں سید بشارت حسین امامی، وجیہ الحسن کاظمی، عابد حسین، امجد علوی اور سید زاہد عباس کاظمی بھی شامل، *ذرائع*
ملاقات میں ملکی صورتحال، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحادِ امت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوگی، *ذرائع*
موجودہ حالات میں علماءِ کرام کا باہمی اخوت، یگانگت اور اتحاد امتِ مسلمہ کے لئے کردار انتہائی اہم ہے، *ذرائع*
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن کارروائیاں جاری ہیں
اب تک 352 شدت پسند ہلاک اور 535 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔دشمن کو بھاری جانی و عسکری نقصان پہنچا کر اس کی کمر توڑ دی گئی ہے
#OperationGhazabUlHaq#PakArmy#StrongPakistan#DefendPakistan
#NationalSecurity
*Operation Ghazab Lil Haq* / Update 0610 hr 27 Feb 2026:
افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں طالبان فوج کی متعدد پوسٹیں تباہ ، *سیکیورٹی ذرائع*
پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انگوراڈہ کا ایک ب��ا حصہ تباہ کر دیا ، *سیکیورٹی ذرائع*
سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں ، *سیکیورٹی ذرائع*
پاکستان کی مسلح افواج بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جواب دینےمیں مصروف ہیں ، *سیکیورٹی ذرائع*
*Operation Ghazab Lil Haq* / Update 0610 hr 27 Feb 2026:
افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں طالبان فوج کی متعدد پوسٹیں تباہ ، *سیکیورٹی ذرائع*
پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انگوراڈہ کا ایک بڑا حصہ تباہ کر دیا ، *سیکیورٹی ذرائع*
سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں ، *سیکیورٹی ذرائع*
پاکستان کی مسلح افواج بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جواب دینےمیں مصروف ہیں ، *سیکیورٹی ذرائع*