مریم نواز نے "پنک سالٹ" ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم کا آغاز کردیا،قائد آباد میں 110 ایکڑ پر پنک سالٹ منرل ��راسیسنگ زون قائم کرنے کا اعلان،زون میں 200 یونٹ بنیں گے،10 ہزار افراد کو روزگار ملے گا،سالٹ کاروبار کےلیے 50 لاکھ سے 5 کروڑ بلاسود قرض بھی ملے گا۔
ہماری اس آزاد کشمیر کی بہن کو سلام!
انہی ماوں بہنوں کی وجہ سے مسلہ کشمیر زندہ ہے ورنہ کن کتروں کے بس میں ہوتا تو کب کا مقبوضہ کشمیر بھارت کو بیچ کر اپنا سودہ کر لیتے کیونکہ کن کتروں کے لئے قوم پرستی زیادہ اہم ہے، اپنی کلمے کا تعلق نہیں۔
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق س��است دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
ہزاروں طالبات کی خاطر مریم نواز صاحبہ کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوا ہوں۔۔۔
مریم نواز صاحبہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرنا ہم بے بس عوام کا آخری لیول ہے، امید ہے کہ مریم نواز صاحبہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں گی۔ سیالکوٹ وومن یونیورسٹی نواز شریف صاحب کا منصوبہ تھا، پھر شہباز شریف صاحب نے اسے آگے بڑھایا، اب بیوروکریسی نے وزیر اعلی پنجاب کے سامنے جھوٹ بول کر، ریکارڈ چھپا کر، بد دیانتی کرتے ہوئے یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی میں سے 120 ایکڑ اراضی واپس لے کر وہاں بیوروکریسی کے دفاتر بنوانے کی منظوری کروائی ہے۔ یہی بیوروکریسی گزشتہ 20 برس سے عدا��توں میں اس اراضی کو بچانے کیلئے کیس لڑتی آ رہی ہے لیکن آج سیالکوٹ کے چند لینڈ مافیاز کے فرنٹ مین بنتے ہوئے بیوروکریسی نے اپنا مئوقف بدل لیا ہے۔
پاکستان میں جو لوگ بیٹیوں والے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم کے حامی ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ پر آواز اٹھائیں تاکہ پنجاب حکومت لڑکیوں کی یونیورسٹی کی اراضی چھیننے کا کابینہ کا فیصلہ واپس لے
@MaryamNSharif
#Punjab #Woman #WomenRights #Education
آج بلوچستان میں 5 پنجابیوں کو قتل کیا گیا پاکستان اور پنجاب اسلام آباد میں بیٹھے جو بی ایل اے کے سپورٹر اور ہمدرد ان کی دہشت گردی کو گلوریفائی کرتے ہیں انکے نزدیک اس طرح کی باتیں کرنا یا آواز اٹھانا ایک بڑا دانشورانہ فیشن تصور کیا جاتا ہے، لیکن جب پنجابی مزدوروں کی بات ہوتی ہے تو ان کی آواز گلے میں دب کر رہ جاتی ہے
سٹیٹ بینک آف پاکستان ریگولیٹر کے طور پر مکمل فیل ہو چُکا ہے۔ اسی لئے یے بنک پاکستانیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک اور اُس کے ایگزیکٹوز اُس لُوٹ مار کے سہولت کار اور در اصل میں غریب دُشمن آئی ایم ایف کے نوکر ہیں۔
لیکن حکومت لسی پی کر سو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا غریب پرور زرعی منصوبہ " اپنا کھیت اپنا روزگار" کامیابی سے ہمکنار ہو گیا ہے۔ پنجاب کی1 لاکھ 21 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت سرکاری اراضی 30000 نادار خاندانوں کو محض 100 روپے سالانہ کی علامتی لیز پر 20 سال کے لیے تفویض کر دی گئی ہے۔ سو فیصد میرٹ پر کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ کے ذریعے ضرورت مند طبقے کو نہ صرف اراضی کا مالکانہ اختیار دیا گیا ہے بلکہ زمین کی تیاری کے لیے 50 ہزار روپے فی ایکڑ مالی امداد اور جدید فنی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ تھل سے پوٹھوہار تک پھیلی اس سکیم میں 20 فیصد کوٹہ خواتین کا رکھا گیا ہے تاکہ ہماری مائیں اور بہنیں بھی معاشی طور پر بااختیار بن سکیں۔ انشاءاللہ اب محنت بھی کسان کی ہوگی اور پورا منافع بھی اسی کا ہوگا، عزتِ نفس کے ساتھ۔
جیہڑا واہے، اوہ ہی کھائے !
پاکستان کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی مالیت کے اثاثوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے کاروباری گروپ پر قانون کا شکنجہ کسا گیا ہے
اطلاعات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کی تقریباً 100 ارب روپے مالیت کی جائیداد نیب نے ضبط کر لی ہے
اسے احتساب کے نظام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے جو اس پیغام کو تقویت دیتا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص یا ادارہ بالاتر نہیں
اب بھی بحریہ ٹاؤن کی طرف اس قوم کے 300 ارب باقی ہیں وہ بھی وصول کریں گے انشاءاللہ
میرے خلاف جو پروپگنڈہ کیا گیا فیک ویڈیو چلائی گئی کہ مجھ پہ میرے علاقے میں حملہ ہوا اگر ایسا ہو جائے تو اللہ معاف کرے پھر مجھے ترک وطن کر دینا چاہیے کہ کوئی میرے علاقے میں مجھے پہ حملہ کریں ہم الحمدللہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ہم سے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح منافقت نہیں ہوتی راجہ فاروق حیدر سابق وزیراعظم آزاد کشمیر
جنوبی پنجاب کے زراعتی اور تجارتی منظرنامے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ملتان وہاڑی شاہراہ کے ساڑھے 93 کلومیٹر طویل حصے کو دو رویہ کرنے کا یہ معرکہ 14 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ طویل سفری صعوبتوں اور حادثات کا مستقل ازالہ کرتی یہ وسیع گزرگاہ اب علاقائی معیشت کو نئی جلا بخشنے، زرعی اجناس کی مارکیٹوں تک ترسیل کو تیز کرنے اور عوامی زندگی میں پائیدار آسانیاں ل��نے کے لیے تیار ہے۔
For the past 24+ hours, a UK-based gang lead by an individual claiming to be a UK councillor and JAAC leader/fund collector, has been leading a sustained campaign of abuse, intimidation, harassment, and threats.
My fault?
My work and commentary on the Kashmir issue and my criticism of few leaders of the Joint Awami Action Committee for their anti-Pakistan, provocative and harmful-to-the-Kashmir-cause violent campaign.
That person’s conduct has also included attempts to provoke hostility and create divisions between Pakistanis and Kashmiris.
Other than adapting a legal course in the UK and Pakistan against that hate monger, I am placing this on record so the public can judge for themselves how some who claim to represent a peaceful cause are actually violent and vile inside.
Masking as peaceful activists, they respond with abuse and threats of violence to criticism and dissenting voices.
This is neither the first time nor, I suspect, the last that I have been targeted for expressing my views. But it did not silence me before, and it will not silence me now.
For full details, including voice notes, and other evidence of the person, head to my YouTube for the latest vlog.
یہ بندہ امریکی جیکسن نامی ہے جس کا ٹویٹر اکاؤنٹ دنیا کے چند بڑے ایکٹو اکاؤنٹ میں سے ایک اکاؤنٹ ہے اسرائیلی اس سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اس کا نام میزائل پر لکھ کر غزا پر چلاتے تھے یہ اکیلا مسلمانوں کا مقدمہ لڑتا ہے بس خدا کے کام ہیں ہر فرعون کے گھر موسی ہے
پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم فیصل راٹھور سمیت جو بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میر پور ڈڈیال میں بھارتی ایکشن کمیٹی کے دہشتگردوں نے پھر سے پولیس پر حملہ کر دیا ہے۔یہ کونسے بنیادی حقوق ہیں یہ کونسا پر امن احتجاج ہے؟ آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم بھارتی ایکشن کمیٹی کی انتشاری سیاست کو مسترد کر دیا ہے اسی لئے یہ لوگ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔
شوکت نواز میر سے تحقیقات کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ٹی ٹی پی کی قیادت کے ساتھ رابطے تھے اور ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو کشمیر میں لا کر مسلح تصادم کی کوشش ہو رہی تھی اس پلاننگ کے پیچھے راء ہے ! ابصار عالم ۔۔
یہ دبئی نہیں بلکہ سوئی ہے۔ 🇵🇰
یہ روڈ صرف دو سال میں مکمل ہوا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر سرفراز بگٹی دو سال میں یہ روڈ بنا سکتے ہیں، تو قوم پرست سردار پچھلے 70 سال سے اپنے ہی حلقوں میں یہ کام کیوں نہ کر سکے؟ فرق دعووں اور عمل کا ہوتا ہے۔
*ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید*
*ابتدائی اطلاعات کے مطابق* :
گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سے ایک خاتون کو اترے ہوئے دیکھا جس کا ہاتھ موٹرسائیکل سوار کھینچ رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے جس پر لڑکی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی
اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر فائر کھول دیا
گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا
*پولیس کے مطابق* :
خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم اس کا دفتر مے کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی
تاہم راستہ تبدیل کر کے اسے کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کرتے ہوئے مجھے محفوظ کیا- خاتون
اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں
گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے
گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی کو ملک بھر میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے
*گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکا�� ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں*
ابھی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو پریس کانفرنس کی کوشش کرتے دیکھا۔
ہمارے رپورٹر بھائی کافی اجلت اور غصہ میں نظر آئے۔ کچھ تو یہ سوچ کر آئے کہ “باس” وہی ہے جو وہ سمجھتے ہیں۔ کچھ کو پولیس کے رویے سے پرانے سکور سیٹل کرنے تھے۔
کچھ نے ایک یو ٹیوبر کی ادھوری سٹوری کو سچ مان کر نتیجہ خود ہی نکا لیا تھا۔ بحرحال پریس کانفرنس نامکلمل رہی اور ختم کر دی گئی۔
سخت سوال صحافی کا حق ہے لیکن تھوڑا سا صبر کر لیا جاتا تو اس کیس سے جڑی اور بہت سی حقیقتیں کھل جاتیں۔
جو ماحول چل رہا ہے ایسے ماحول میں کل کو کوئی یہ مطالبہ بھی کرسکتا ہے کہ علی سیٹھی کا گانا فلاپ ہو گیا ہے اس لئے نجم سیٹھی صاحب صحافت سے مستعفی ہوں۔ اب کسی کی زبان تو نہیں پکڑی جا سکتی ناں
کیا دور آ گیا ہے
This has to be the most embarrassing story ever. Awards created days before arrival, certificates printed through use of cheap AI model, obvious spelling mistakes, and then @narendramodi becoming first & the only recipient. This engineered "recognition" is either the worst kind of cheap popularity, or the most malicious gratification!!
Modi is putting the Indian Nation to shame, he is a national embarrassment.
https://t.co/XpjJH3i1y8