قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کے لئے محمود خان اچکزئی اور سینٹ اپوزیشن کے لئے علامہ راجا ناصر عباس کے نام لیکر عمران خان نے اتنا دباؤ ڈال دیا ہے کہ ہو سکتا ہے عمر ایوب اور شبلی فراز بہت جلدی بحال ہوجائیں
خان صاحب بہت شرارتی ہیں 😅
عمران خان کو توڑنے کے لئے اگر اس طرح کے بیہودہ فیصلوں کا سہارا لو گے تو کیا سمجھتے ہو ک�� وہ جھک جائے گا؟
یہ سوچنے والے کون لوگ ہیں؟
#May9th_FalseFlag
#زنجیریں_توڑ_کر_نکلیں_گے
پاکستان کا قومی ہیرو، سابق وزیراعظم، ملک کی سب سے مقبول جماعت کا بانی، اور کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن، عمران خان کو ذہنی طور پہ ٹارچر کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کو اور بشریٰ عمران کو قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔گرمی میں، تندور جیسے کمرے میں۔ انہیں ابھی تک کتابیں بھی نہیں دی گئیں اور نہ ہی ان کے پاس ٹی وی ہے۔ پانی بھی ابھی تک گندہ ہی مل رہا ہے۔ تمام ��نیادی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایس�� میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ��رامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “��ی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص ن��ستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
وسطی پنجاب کے صدر احمد چٹھہ پی پی 52 کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کر رہے ہیں
اسوقت مترانوالی پولنگ اسٹیشن پر موجود ہیں
پی ٹی آئی امیدوار چوہدری فاخر نشاطِ گھمن
انتخابی نشان ڈھول